ٹرمپ کا متنازع بیان اور فلسطین کے وجود پر حملہ

از: عبدالحلیم منصور

"ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا”
— ساحر لدھیانوی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے غزہ کے عوام کو وہاں سے نکال کر دوسرے ممالک میں بسانے کی تجویز دی ہے، غیر انسانی، ظالمانہ اور ناقابلِ قبول ہے۔ یہ بیان درحقیقت فلسطینیوں کی مکمل نسل کشی کو جواز دینے اور اسرائیل کے وحشیانہ مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ٹرمپ کی تجویز نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار ہے اور اس علاقے کو "مشرق وسطیٰ کی رویرا” میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے منصوبے کے مطابق غزہ کے 20 لاکھ باشندوں کو ہمسایہ ممالک میں منتقل کیا جائے گا اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔ تاہم، مصر اور اردن نے پہلے ہی اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور نسل کشی کے مترادف قرار دیا ہے۔

اسرائیل کا دیرینہ خواب؟

ٹرمپ کے اس بیان کا پس منظر سمجھنے کے لیے اسرائیل کی تاریخی پالیسیوں پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اسرائیل ہمیشہ سے فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے درپے رہا ہے۔ چاہے وہ 1948 میں فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی ہو یا 1967 کی جنگ، اسرائیل کی پوری حکمت عملی یہی رہی ہے کہ فلسطینیوں کو بے گھر کرکے ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا جائے۔ ٹرمپ کا حالیہ بیان درحقیقت اسی اسرائیلی خواب کو عملی شکل دینے کی ایک اور کوشش ہے۔ ان کا کہنا کہ "غزہ میں رہنا ممکن نہیں، اس لیے فلسطینیوں کو وہاں سے نکال کر دوسرے ممالک میں بسا دینا چاہیے”، درحقیقت فلسطینیوں کے وجود کو ہی ختم کرنے کی ایک مذموم سازش ہے۔
یہ بیان بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 194 کے مطابق، فلسطینی مہاجرین کو اپنی سرزمین پر واپسی کا حق حاصل ہے، جبکہ چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت کسی بھی قوم کو زبردستی اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنا ایک جنگی جرم ہے۔ لیکن اسرائیل اور اس کے اتحادی، خصوصاً امریکہ، ہمیشہ ان قوانین کو اپنے مفادات کے تابع رکھتے ہیں۔

غزہ اور بے حس دنیا

غزہ اس وقت ایک زندہ قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی لاشیں، بھوک اور پیاس سے تڑپتے بچے، چیخ و پکار کرتی مائیں، اور ہر طرف بکھری ہوئی انسانی اعضا کی خوفناک تصویریں… یہ کوئی خیالی منظرنامہ نہیں، بلکہ غزہ کی حالیہ صورتحال کا ایک تلخ عکس ہے۔ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری نے اس خطے کو کھنڈر میں بدل دیا ہے، جہاں نہ رہنے کو چھت باقی ہے، نہ پینے کو پانی، اور نہ ہی زندہ رہنے کی امید۔
اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں اب تک 39,324 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں10,627 بچے اور5,956 خواتین شامل ہیں۔
 85,000 سے زائد افراد زخمی ہیں، اور 23 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ 40 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ غزہ میں موجود ہے۔غذائی قلت اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو "نسلی صفایا” قرار دیا ہے، لیکن بڑی عالمی طاقتیں اس معاملے پر خاموش ہیں۔ فلسطینی عوام کی حالت زار پر بین الاقوامی برادری کی بے حسی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی انصاف اور انسانی حقوق صرف طاقتوروں کے مفادات تک محدود ہو چکے ہیں۔
مسلم ممالک کے ردعمل کی بات کی جائے تو ترکی، قطر اور ایران نے فلسطینی عوام کے حق میں بیانات تو دیے ہیں، لیکن عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔یہ وقت محض زبانی مذمت کا نہیں، بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور عرب لیگ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں مزید مؤثر انداز میں اٹھائیں اور امریکہ پر سفارتی واقتصادی دباؤ ڈالیں۔ مزید برآں، اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ اور فلسطینی عوام کی بھرپور مالی و اخلاقی حمایت کے بغیر اس سازش کا مقابلہ ممکن نہیں۔ سعودی عرب، جو کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پالیسی پر گامزن تھا، اس مسئلے پر نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہی وہ بے حسی ہے جس نے اسرائیل کو بے خوف کر دیا ہے اور امریکہ کو فلسطینیوں کے خلاف کھل کر کھیلنے کی آزادی دی ہے۔

فلسطین کے وجود پر حملہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بلکہ ایک پوری قوم کے وجود پر حملہ ہے۔ یہ بیان اس حقیقت کا عکاس ہے کہ امریکہ اور اسرائیل فلسطینیوں کی مکمل نسل کشی کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اگر آج عالمی برادری اور مسلم دنیا نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو تاریخ انہیں بے حسی اور ناانصافی کے مجرموں کے طور پر یاد کرے گی۔

یہ وقت بیداری کا ہے، یہ وقت جدوجہد کا ہے!

"یہ جو سلاخوں کے پیچھے زندہ ہیں
یہ جو مقتل میں جا کے لیٹے ہیں
یہ جو سچ بولتے ہوئے لوگو
دار پر چڑھ گئے، سلامت ہیں”
— حبیب جالب
فلسطین نہ صرف ایک علاقائی مسئلہ ہے، بلکہ یہ انسانی ضمیر کا امتحان بھی ہے۔ اگر آج دنیا نے انصاف کا ساتھ نہ دیا تو کل کوئی بھی ظالم اسی روش پر چلنے کی ہمت کرے گا۔ اب وقت ہے کہ اسلامی ممالک، عالمی برادری اور ہر باضمیر شخص اس مسئلے پر مؤثر آواز بلند کرے، ورنہ تاریخ ہمیں ایک بے حس قوم کے طور پر یاد کرے گی۔ یہ سب اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی کا مقصد صرف فلسطینیوں کو ان کے حق سے محروم کرنا اور غزہ کی سرزمین کو عالمی مفادات کے تحت استعمال کرنا ہے۔ اس مقصد کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے جنگ بندی کا ایک مرحلہ تھا تاکہ بعد میں اس پر سودے بازی کی جا سکے، اور اگر عالمی برادری نے اب بھی اپنی خاموشی برقرار رکھی، تو اس کے سنگین نتائج فلسطینی عوام کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے