انوارالحسن وسطوی
وزیر اعلیٰ بہار شری نتیش کمار جی کا دوسرا نام ’’ویکاس پُروش‘‘ ہے۔ ان کا یہ عرفی نام اس قدر مشہور ہوچکا ہے کہ صرف ’’ویکاس پُروش‘‘ کہہ دینے سے لوگ خودبخود سمجھ جاتے ہیں کہ یہ نتیش بابو کی بات ہورہی ہے۔ نتیش کمار جی کے کاموں کے تعلق سے اگر ایک جملے میں مجھے اپنی بات کہنے کو کہا جائے تو میں کہوں گا کہ ’’جناب نتیش کمار نے ایک وزیراعلیٰ کی حیثیت سے جتنے کام کئے ہیں، اس کی مثال بہار کیا، ملک کے کسی صوبہ میں نہیں ملتی ہے‘‘۔ انھوں نے بلاامتیاز مذہب، ذات و برادری سبھوں کے لئے کام کئے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کی اور اردو زبان کی ترقی اور فروغ کے سلسلے میں ان کے ذریعہ کئے گئے کاموں کا معاملہ ہے، اس میں دو طرح کے نظریات و خیالات ہیں۔ جو لوگ نتیش جی کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کے حامی اور مداح ہیں، ان کا ماننا ہے کہ نتیش کمار نے بہار کے مسلمانوں کے لئے جتنے کام کئے ہیں، اتنے کام بہار کے کسی وزیراعلیٰ حتیٰ کہ مسلم وزیراعلیٰ جناب عبدالغفور (مرحوم) نے بھی نہیں کئے ہیں۔ اس خیال اور اس نظریہ کے حمایتی اپنے اس دعویٰ کی دلیل کے طور پر نتیش کمار کے ذریعہ کئے گئے کاموں کا شمار کراتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ ملک میں کوئی ایسی ریاست نہیں ہے جہاں مسلم گھرانے کے بچوں کو سرکار اپنے خرچ سے ایس۔پی، ڈی۔ایس۔پی، جج، ایڈمنسٹریٹیو افسر، پولیس افسر بنانے کے لئے کوچنگ کا انتظام کررکھا ہو۔ یہ کام پورے ملک میں صرف نتیش کمار کررہے ہیں۔ اقلیتوں کے لئے کئے گئے ان کے دیگر کاموں میں جن اہم کاموں کا شمار کرایا جاتا ہے، ان میں مختلف اضلاع میں اقلیتی رہائشی اسکول قائم کرنا، قبرستانوں کی گھیرا بندی کرانا، مسلمانوں کی تعلیم اور ترقی کے لئے وقف کی زمین پر سرکاری خرچ سے اسکول اور ملٹی پرپس بلڈنگ بنوانا وغیرہ جیسے کام شامل ہیں۔ اردو زبان کی ترقی اور اس کے فروغ و اشاعت کے لئے نتیش جی نے جو کام کئے ہیں ان میں سب سے بڑا اور اہم کام جس کا شہرہ ہے، وہ ہے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ راج بھاشا، حکومت بہار کے ذریعہ اردو کے فروغ کے لئے صوبائی سطح سے لے کر ضلعی سطح تک اردو کے فروغ و اشاعت کے لئے ’فروغِ اردو سمینار‘ اور اردو کے ادبا و شعرا کی ’یادگاری تقریبات‘ کا انعقاد ہونا، مشاعرے و مذاکرے کا انعقاد، طلبہ و طالبات کے درمیان تقریری مقابلے کا انعقاد کرانا اور پھر طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لئے انھیں نقد انعام اور توصیفی اسناد سے نوازنا۔ اردو کے فروغ و اشاعت کے لئے نتیش حکومت کے یہ ایسے کام ہیں جن کی مثال بہار کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ اردو کے فروغ کے لئے نتیش جی کی حکومت میں اردو گھرانوں کے طلبہ و طالبات کو اچھی خاص تعداد میں سرکاری نوکریاں بھی ملی ہیں جس کے نتیجے میں اردو گھرانے کے ڈھیر سارے لوگ اسسٹنٹ پروفیسر، اردو ٹرانسلیٹر اور پرائمری سے لے کر ہائر سکنڈری اسکولوں تک میں بڑی تعداد میں ملازمت میں آئے ہیں۔ زیر التوا اسسٹنٹ ٹرانسلیٹر کی تقرری کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔ جلد ہی وہ کام بھی پایۂ تکمیل تک پہنچنے کو ہے۔ یہ ہیں مسلمانوں اور اردو کے تعلق سے نتیش جی کے کاموں کی تفصیل، جنھیں انھوں نے این۔ڈی۔اے میں رہتے ہوئے بھی انجام دیے ہیں جس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔
اب نتیش جی کے مخالفین یا حزب اختلاف کے لوگوں کی باتوں کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جن کا تعلق ’’مسلمانوں‘‘ سے ہے یا ’’اردو‘‘ سے ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن سے مسلمانوں کو نتیش جی سے صرف شکایت ہی نہیں بلکہ ناراضگی بھی ہے، وہ ہیں: چھے برس سے بھی زائد عرصے سے بہار اردو اکادمی اور اردو مشاورتی کمیٹی کو نتیش حکومت نے معطل کررکھا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ اردو کے یہ دونوں اہم ادارے جن کے ذریعہ اردو کے فروغ و اشاعت کا کام ہوتا تھا، بالکل بند ہے۔ ۱۲؍ہزار اردو ٹی۔ای۔ٹی پاس اُمیدواروں کو پاس کرکے پھر انھیں فیل کردیا گیا۔ گذشتہ دس برسوں سے ان کا ریزلٹ دوبارہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن سرکار اس معاملہ میں چپی سادھے ہوئے ہے اور امیدوار دس برسوں سے اپنا مطالبہ منوانے کے لئے پٹنہ کی سڑکوں پر احتجاج کرر ہے ہیں اور پولیس کی لاٹھیاں کھا رہے ہیں۔ سرکار کے اس غلط فیصلے کے نتیجے میں ۱۲؍ہزار مسلم مرد و خواتین کا مستقبل تاریک ہوکر رہ گیا ہے۔ بہار سرکار کے محکمہ تعلیم نے اپنے مکتوب نمبر 799، مورخہ 15؍مئی 2020ء کے ذریعہ بہار کے سکنڈری اور ہائر سکنڈری اسکولوں کے مانک منڈل میں صرف چھے (6) ٹیچر بحال رکھنے کا ضابطہ بنا دیا ہے۔ ان چھ (6) ٹیچروں میں (۱) ہندی، (۲) انگریزی، (۳) سائنس، (۴) سماجیات، (۵) علم الحساب، (۶) f}rh; Hkk”kk کے ٹیچر رہیں گے۔ اس مانک منڈل میں ’’اردو‘‘ کے ٹیچر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جب اردو والوں اور اردو کے اداروں کے ذریعہ اس مانک منڈل پر اعتراض اور احتجاج کیا گیا اور سرکار سے مانک منڈل میں اصلاح کرتے ہوئے اردو ٹیچر کے لئے ایک پوسٹ مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو سکنڈری ایجوکیشن کے ڈائرکٹر کی جانب سے ایک دوسرا لیٹر مکتوب نمبر 1155، مورخہ 28؍اگست 2020ء جاری کیا گیا جس میں یہ بتایا گیا کہ اگر کسی اسکول میں بنگلہ، میتھلی، مگہی، عربی، فارسی، بھوجپوری، پالی، پراکرت، میوزک، اردو اور سنسکرت زبان کے چالیس (40) طلبہ و طالبات ہوں گے تو وہاں ان مضامین کے ٹیچر بحال ہوں گے۔ مقام افسوس ہے اور مقامِ حیرت بھی کہ ’’اردو‘‘ جو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اور ریاست کے تقریبا ڈھائی کروڑ لوگوں کی مادری زبان بھی ہے، پھر اس زبان کو بہار کے علاقائی زبانوں کی صف میں کیسے شامل کرلیا گیا؟ اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ جب اس زبان کے پڑھنے والے چالیس طلبہ و طالبات ہوں گے،تب ہی کسی اسکول میں اردو کے ٹیچر بحال ہوں گے۔ یعنی اگر اُنچالیس (39) طلبہ و طالبات ہوں گے تو ضابطہ کے مطابق اس اسکول میں اردو کے ٹیچر بحال نہیں ہوسکیں گے جبکہ محترم وزیراعلیٰ بہار نے برسوں قبل کرشن میموریل ہال، پٹنہ میں منعقد تقریب ’’جشن اُردو‘‘ کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ ہر اسکول میں اردو کے ایک ٹیچر بحال کئے جائیں گے۔ تو پھر کس کے ایما پر محکمہ تعلیم کے افسران نے چالیس طلبہ کی یہ حد مقرر کی ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔
بہار میں مسلمانوں اور اردو کے تعلق سے جو دیگر مسائل حل طلب ہیں، ان میں مدرسہ شمس الہدیٰ، پٹنہ جو تقریباً سوا سو سالہ قدیم ادارہ ہے۔ اس کے جونیئر سیکشن کے سبھی تدریسی اور غیرتدریسی اسٹاف جو عرصہ قبل ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، ان خالی عہدوں پر تقرری نہیں کی گئی۔ بہار اقلیتی کمیشن اور مدرسہ ایجوکیشن بورڈ میں چیئرمین کا عہدہ عرصہ سے خالی پڑا ہوا ہے۔ حکومت بہار کے محکمہ راج بھاشا کے تحت اردو کے اعلیٰ ترین ایوارڈ جو شیخ شرف الدین یحییٰ منیریؒ، مولانا مظہرالحق اور عبدالقیوم انصاری (مرحوم) کے نام سے موسوم ہے، یہ ایوارڈ اردو کے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو 2010ء سے نہیں دیا جارہا ہے۔ جب بھی یہ مطالبہ کیا جاتا ہے تو بات صرف یقین دہانی تک ہی محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ بہار کی اردو آبادی کو حکومت سے یہ بھی شکایت ہے کہ اردو اخبارات کو اردو کے بجائے ہندی میں سرکاری اشتہار دیا جاتا ہے جس کی جانکاری اردو دانوں تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔ محکمہ تعلیم نے 2022ء میں ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعہ مدرسہ بورڈ کی خود مختاری کو ختم کردیا ہے جو آئین میں اقلیتوں کو دیے گئے حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ اس سلسلہ کی آخری بات یہ ہے کہ سالِ نو 2025ء کے لئے سرکاری اسکولوں اور ملحقہ مدارس کے لئے جو تعطیل نامہ جاری کیا گیا ہے، اس میں اردو اسکولوں اور مدارس کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے اہم تیوہاروں مثلاً عیدالفطر، عیدالاضحی، محرم اور شب برأت میں بھی چھٹیاں کم کردی گئی ہیں جبکہ غیرمسلموں کے اہم تیوہاروں میں یا تو چھٹیاں بڑھا دی گئی ہیں یا حسب سابق رکھی گئی ہیں۔ ماضی میں تینوں زمروں کے تعطیل نامے الگ الگ رہنے کی روایت رہی ہے جبکہ 2025ء میں اس روایت کو توڑ دیا گیا ہے جس سے سرکاری اردو اسکولوں اور ملحقہ مدارس کے اساتذہ میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔
مسلمانوں اور اردو کے تعلق سے نتیش کمار جی کے ذریعہ کئے گئے کاموں اور باقی بچے کاموں کی یہ ایک مختصر فہرست ہے جن کا غیرجانبدارانہ تجزیہ کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ مجھے معاف کیا جائے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ نتیش جی کے تعلق سے بولتے وقت یا لکھتے وقت ان کے حمایتی اور مخالف دونوں افراط و تفریط کے شکار ہوجاتے ہیں۔ نتیش جی کی پارٹی (جنتادل یو) کے لوگ یا ان کے حمایتی اور مداح جب نتیش جی کی مسلم دوستی اور اردو دوستی کا شمار کرانے لگتے ہیں تو ان کی زبان سے یہ کبھی نہیں نکلتا کہ ابھی مسلمانوں اور اردو کے تعلق سے ان پر کیا کیا مزید قرض باقی ہیں، جنھیں بھی چکایا جانا ضروری ہے۔ کچھ لوگ نتیش جی کی مسلم دوستی اور اردو دوستی پر اظہار خیال کرتے ہوئے حدِ اعتدال کو پار کرجاتے ہیں، اسے ہی کہا جاتا ہے افراط سے کام لینا۔ اسی طرح جو لوگ نتیش جی کے مخالفین ہیں انھیں مسلمانوں اور اردو کے لئے ان کے ذریعہ زیرالتوا کاموں کا شمار کراتے ہوئے ان کی زبان سے یہ کبھی نہیں نکلتا کہ نتیش جی نے مسلمانوں اور اردو کے فروغ کے لئے کیا کیا کام کئے ہیں۔ یعنی ان کے کاموں کے اعتراف کا ذکر ان کی زبان پر آتا ہی نہیں ہے، اسے کہتے ہیں تفریط سے کام لینا یعنی کسی کے کام کو کم کرکے دکھانا یا اس کا اعتراف ہی نہیں کرنا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ دونوں طرح کے خیالات و نظریات کے لوگ اعتدال اور توازن کا بالکل ہی خیال نہیں رکھ رہے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔
ایک نہایت اہم بات کا ذکر کرنا میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ جب مسلم عوام اپنے حقوق اور مطالبہ کے تعلق سے جنتا دل (یو) کے لیڈروں کے پاس اپنی فریاد لے کر پہنچتے ہیں تو یہ لیڈر ان پر یہ الزام لگاکر چپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان نتیش کمار کو ووٹ تو دیتے نہیں اور چلے آتے ہیں اپنا مطالبہ پورا کرانے کے لئے۔ غیرمسلم تو غیر مسلم ہیں، جنتا دل (یو) کے مسلم وزیر، ایم۔ایل۔اے اور ایم۔ایل۔سی حضرات بھی مسلمانوں سے اسی زبان میں بات کرتے ہیں اور انھیں جنتادل (یو) کو ووٹ نہ دینے کا خوب خوب طعنہ دیتے ہیں۔ بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ حضرات جنھیں ہمارا وکیل بننا چاہئے تھا، وہ حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں پر جنتادل (یو) کو ووٹ نہ دینے کا جھوٹا الزام لگاکر اپنی کمیوں اور خامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں دعویٰ کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ مسلمانوں پر جنتادل (یو) کو ووٹ نہ دینے کا یہ الزام سراسر غلط اور بہتان ہے۔ مسلمان کسے ووٹ نہیں دیتا؟ جنتادل (یو) کو نہیں دیتا، راشٹریہ جنتادل کو نہیں دیتا، کانگریس کو نہیں دیتا، کمیونسٹ پارٹیوں کو نہیں دیتا، ایم۔آئی۔ایم کو نہیں دیتا؟ مسلمان تو بھاجپا کو بھی ووٹ دیتا ہے۔ راقم السطور کا تعلق ضلع ویشالی کے حاجی پور اسمبلی حلقہ سے ہے جہاں 2014ء کے پارلیمانی الیکشن سے قبل تک شری نتیا نند رائے لگاتار تین یا چار دفعہ اسمبلی کے رکن ہوتے رہے ہیں اور ہر دفعہ اس اسمبلی حلقہ کے ڈھیر سارے مسلمانوں نے انھیں ووٹ دے کر اسمبلی میں حاجی پور کی نمائندگی کے لئے فتحیاب کرانے کا کام کیا ہے۔ بغیر مسلمانوں کے تعاون کے وہ لگاتار اتنی دفعہ رکن اسمبلی نہیں بن سکتے تھے۔ یہ واقعہ میں نے صرف بطور مثال پیش کیا ہے۔ مسلمانوں کا تمام سیاسی جماعتوں کو شکرگزار ہونا چاہئے کہ ووٹ دیتے وقت مسلمان اتنا فراخ دل اور کشادہ قلب ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے وجود اور اپنی اہمیت کی پرواہ کئے بغیر اپنے ووٹوں کو میلاد کے شکر پارہ اور نکاح کے چھوہارا کی طرح لٹا دیتا ہے۔ مسلمانوں کی اسی غلطی اور عدم دُوراندیشی کا یہ انجام ہے کہ اس کے ووٹوں کی اب کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بعض پارٹیاں علیٰ الاعلان یہ کہتی ہیں کہ ہمیں مسلمانوں کے ووٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم متحد ہوکر اپنا فیصلہ لیتے تو کسی پارٹی کو یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوسکتی تھی کہ ہمیں مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ نتیش کمار جی کو اپنی پارٹی کے لوگوں اور اپنے اتحادیوں کو مسلمانوں پر ووٹ نہ دینے کا الزام لگانے کی سختی سے تاکید کرنی چاہئے اور ووٹ نہ دینے کا طعنہ دینا اب بند کردینا چاہئے۔ اگر اس رویہ میں تبدیلی نہیں لائی گئی تو اس سے جنتادل (یو) کو سوائے نقصان کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جنتادل (یو) سے منسلک لیڈران بالخصوص مسلم لیڈران بڑے فخر اور طنطنہ کے ساتھ یہ اکثر کہا کرتے ہیں کہ نتیش جی کے دورِ حکومت میں کوئی بڑا فساد نہیں ہوا جبکہ ان کے وزیراعلیٰ بننے کے قبل بہار میں کئی بڑے فرقہ وارانہ فساد ہوئے جس کی ٹیس مسلمان آج بھی محسوس کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ دعویٰ بالکل سچ اور درست ہے۔ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نتیش کمار جی اپنے اس کریڈٹ کے لئے یقینا لائق تحسین ہیں۔ لہٰذا ملکی سطح پر ان کے اس کارنامے کے لئے ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنی ریاست بہار میں امن و امان کا ماحول قائم کرنے کا جو کام کیا ہے، اس کا پورا ملک معترف ہے اور اس کے لئے ان کو شاباشی دیتا ہے۔ لیکن نتیش جی کی پارٹی کے مسلم لیڈران اُن کے اس مثالی کارنامہ کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ نتیش کمار جی نے فرقہ وارانہ فساد پر قابو پاکر بہار کے مسلمانوں پر کوئی احسان کیا ہے۔ مجھے معاف کیجئے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ مسلمانوں پر کوئی احسان نہیں ہے۔ ریاست میں امن و امان کا ماحول قائم رکھنا کسی بھی وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے، یہ ان کا فرض ہے۔ لہٰذا نتیش کمار جی نے اپنا وہ فرض ادا کیا ہے۔ اگروہ بہار سے فرقہ وارانہ فساد کی روایت ختم نہ کرتے اور ان کے دورِ حکومت میں بھی فساد ہوتا رہتا تو اس سے ان کی ہی بدنامی ہوتی اور وہ فخر سے یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ میرے دورِ حکومت میں کوئی فساد نہیں ہوا اور اس حساس معاملہ میں ان کی جو ملکی سطح پر تعریف ہورہی ہے، وہ نہیں ہوتی۔ ملک کی تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو نتیش جی کے اس عمل سے سبق لینا چاہئے۔
مختصر یہ کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار جی کو سرکردہ مسلمانوں اور اردو تنظیموں کے ذمہ داروں کی ایک خصوصی میٹنگ بلاکر اردو کے زیرالتوا مسائل کے تعلق سے باتیں کرنی چاہئے۔ اردو کے جو حل طلب مسائل ہیں، ان میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کے لئے اسمبلی کی بیٹھک بلانے کی ضرورت ہو یا کابینہ کی میٹنگ منعقد کرنا ضروری ہو۔ بس ضرورت ہے حکومت کے خلوص نیت کی اور قوتِ ارادی کی۔ اردو کے تعلق سے چھوٹے بڑے ڈیڑھ درجن مسئلے ہیں جنھیں حکومت اگر چاہ لے تو صرف ڈیڑھ دن میں اس کا حل نکل سکتا ہے۔ اردو کے مسائل جن کا ذکر اوپر میں آچکا ہے، وہ کئی برسوں سے درپیش ہیں جن کے حل میں اب مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ قبل ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔ چنانچہ وزیراعلیٰ نتیش کمار جی کو پہلی فرصت میں اردو آبادی کے مطالبات کو پورا کرنے اور ان کی شکایتوں کو دُور کرنے کی پہل کرنی چاہئے۔
٭٭٭
