ظلم اور فرعونیت کیخلاف آواز بلند کرنا ایمان کی علامت !

سہارنپور (احمد رضا): گزشتہ دس برسوں سے ملک میں مسلم افراد پر جس قدر تشدد برپہ ہوا اسکو لکھنے کے لئے اخبارات کے صفحات کم پڑ سکتے ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ آج تک کسی بھی معاملہ میں اہل سیاست نے مثبت کردار ادا نہی کیا اسی لئے ایسے شرمناک واقعات رکنے کا نام نہیں  لے رہے ہیں! مدھوبنی پولیس افسر اور اس کے اسٹاف نے وہیکل چیکنگ کے دوران مولانا محمد فروز کی داڑھی کھینچ کر ان کو جس بری طرح سے لاتوں گھونسوں ڈنڈوں سے زرد کوب کر نیکا گھنونہ کار نامہ انجام دیا ہے وہ بہار ریاست کے پولیس محکمہ کی اب تک کی سب سے دردناک اور شرمناک حرکت ہے جس نے پوری امت مسلمہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مولانا فیروز کے ساتھ پولیس بربرتا کی خبر سن کر سب سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کے سربراہ تيجسو ی یادو مولانا محمد فیروز سے ملنے پہنچے آپنے مولانا سے قریب 30 منٹ تک ملاقات کی اور مولانا محمد فروز نے رو رو کر سیکڑوں افراد کے سامنے تیجسوی یادو کو پوری روداد سنائی موقعے پر موجود سبھی زمہ دار افراد نے پولیس اسٹاف کی حرکت کو غیر قانونی غیر آئینی اور شاطرانہ عمل بتاتے ہوئے پرزور مزمت کرتے ہوئے اس مار پیٹ میں شریک سبھی پولیس اہلکار وں کو برخاست کرنے کی مانگ کی! واضع ہو کہ بہا ر میں ان دنوں مسلم افراد کے خلاف نفرت اور تشدد کی وارداتیں عام ہیں مگر نتیش کمار کی سرکار ان ظالم حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں بری طرح سے ناکام بنی ہوئی ہے جس وجہ سے پر تشدد واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے!  
پر فتن دور میں ملت اسلامیہ کے خلاف رونما ہونے والے پر تشدد، غیر آئینی اور غیر انسانی سلوک پر قرآن مجید کی آیات اور از خود اللہ تعالیٰ کے رسول اکرم کی حکایات اور تبصروں پر نظر ثانی بیحد ضروری ہو گئی ہے آپکو بتاتے چلیں کہ مکی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ظلم کے خلاف صبر و برداشت کا تھا،یہ صبر و برداشت غیر معمولی ہوا کرتا تھا، اُن ممالک میں جہاں مسلمان مکی دور سے گزر رہے ہوں،ظلم کے دفاع کا یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ ہم خیال لوگوں کو ساتھ لے کرظلم کے خلاف محاذ کھڑا کیا جائے، قبل نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے معاہدہ میں شریک ہوئے تھے جو ایک صاحب کے مالی حقوق دلانے کے لئے ہوا تھا،یہ مکہ کے چند نوجوانوں کی تحریک تھی، جس نے بہت سارے ظلم کو ختم کرنے کا کام کیا تھا، یہ معاہدہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ اونٹنی سے زیادہ پسند تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج بھی اگر کوئی اس قسم کے معاہدہ کے لیے ہمیں بلائے گا تو میں حاضر ہوں،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کے دفاع اور مظلوموں کی حمایت کا نبوی طریقہ یہ بھی ہے کہ کمزور اقوام سے مل کر ظلم کے دفاع کے لیے متحدہ اور مشترکہ ایجنڈ ے پر اٹھ کھڑے ہوں تاکہ وہ ظالم طاقتوں کا مقابلہ کرسکیں !
مظلوموں کی حمایت کا دوسرا طریقہ میثاق مدینہ ہے،جو ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بقائے باہم کے اصول پر کیا تھا،یہ میثاق بھی ظلم کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار ہے، اس قسم کا کوئی معاہدہ جو آج کے جمہوری دور میں بقائے باہم کے اصول پر مبنی ہو، ظلم کے دفاع کیلئے نبوی طریقہئ کار کے عین مطابق ہے ظلم کی دفاع کے طریقے زمان و مکان کے اعتبار سے بدل سکتے ہیں، ہندوستان میں سی اے اے، این سی آر این پی آر اور اوقاف کو بحق سرکار ضبط کرنے کے حوالے سے شہریوں کو پریشان کرنا، بنیادی حقوق سے محروم رکھنا یا محروم کرنے کی کوشش کرنا بھی ظلم کے دائرے میں آتا ہے،اس کے دفاع کے لئے ہندوستان میں احتجاج مظاہرے اور دھرنوں کا طویل اور تاریخی سلسلہ شروع ہوا تھا اور ملک کی بڑی آبادی احتجاج کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم نے اوقاف کے تحفظ کے لیے احتجاج اور جیل بھرو تحریک کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے ممکن ہے اس کی نوبت آجائے احتجاج اور مظاہرے عالمی طور پر ناانصافیوں کو ختم کرنے میں مؤثر رول ادا کرتے ہیں اور حکمراں جماعت اسی زبان کو سنتی اور سمجھتی بھی ہے، اس لئے ظلم کی دفاع میں پوری دنیا میں اس کو مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، البتہ اسلام مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے دفاع کیلئے کسی بھی ایسے کام کو پسند نہیں کرتا جس سے اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا لازم آتا ہو، ارشاد خداوندی ہے”وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ“ اس ممانعت کا حاصل یہ ہے خود سوزی اور اس طرح کے دوسرے کام جس سے اپنی اور غیر متعلق لوگوں کی جان و مال کا نقصان پہونچے اس کی حمایت نہیں کی جانی چاہئے، اسلام میں ظلم کے دفاع کے لئے بھی حدود و قیود مقرر ہیں اور ہم اس کی خلاف ورزی کر کے ظلم کے دفاع کا کام نہیں کر سکتے اس گفتگو کی مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کہ ظلم کی الگ الگ قسموں کے دفاع کے لئے اسوہ رسول اکرم میں الگ الگ نمونے موجود ہیں، ان کو برت کر ہم اس دنیا کو ظلم وستم سے پاک کر سکتے ہیں،اس معاملہ میں شرک سے پاک سماج کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،رب مانی کا مزاج بنتا ہے تومن مانی ختم ہوتی ہے،اور انسان خدائی احکام اور نبوی ہدایات کا خوگر ہو کر ہر قسم کے ظلم کا خاتمہ کر سکتا ہے، قانون الٰہی کی پابندی اورمنکرات سے اجتناب ظلم کے دفاع میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے! ان سب کا تعلق تیسری قسم کے ظلم سے ہے،یہ معاملہ بڑا سنگین ہے، مسلم شریف میں ایک روایت”باب تحریم الظلم“کے ذیل میں درج ہے،اس میں فرمایا گیا کہ قیامت کے دن امت کا مفلس ترین وہ انسان ہوگا جس نے حقوق اللہ میں کوتاہی نہیں کی ہوگی، لیکن حقوق العباد میں ظلم کو راہ دیا ہوگا، اس دن اس کے سارے نیک اعمال کا ثواب مظلوموں کے کھاتے میں چلا جائے گا اور نیکی برباد گناہ لازم آئے گا،ظلم کے اس سلسلے کو ختم کرنے کے لیے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی جامع حدیث بخاری شریف میں آئی ہے ”اُنْصُرْاَخَاکَ ظَالِماً اَوْ مَظْلُوْماً“ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم،اس حدیث میں ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کے لئے کہا گیا ہے،ظالم کی مدد تو یہ ہے کہ اس کی کلائی پکڑلی جائے کہ وہ ظلم سے باز آ جائے، موجودہ دور میں اس سے مراد وہ تمام جائز طریقے ہیں،جن کا سہارا لے کر ظلم سے روکا جا سکتا ہو، مظلوم کی مدد یہ ہے کہ اس پر ظلم نہ ہونے دیا جائے اور ہر ممکن طور پر اس کی حمایت اور دفاع میں آگے آیاجائے تاکہ ظالم کی ہمت اور کمر ٹوٹ جائے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے