(تصویر: حضرت مولانا شاہ سید مصطفی رفاعی قادری جیلانی ندوی)
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
کسیا، کشی نگر
اس وقت ایک سیاہ پوش درویش کے تذکرہ کی سعادت حاصل کر رہاہوں جو عالم ربانی، پیکر صدق و صفا، صبر و شکر کا گنجینہ، اخلاص و ایثار کا نمونہ، زہدو تقویٰ میں اپنے زمانہ کا جنید و شبلی، ایک ایسا مرد مجاہد جو قادیانیوں کیلئے شمشیر برہنہ،درجنوں کتابوں کا مترجم ومولف، خطیب و مقرر، داعی ومصلح، دارالعلوم ندوۃ العلماء کا فاضل، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا بنیادی ممبر، آل انڈیاملی کونسل کا معاون جنرل سیکریٹری، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن ندوی اور شیخ الحدیث حضرت زکریا کے خلیفہ مجاز، سلسلہ رفاعیہ کی آخری کڑی، پیار و محبت کا خوگر، تواضع و خاکساری کی اعلیٰ مثال، علماء و مشائخ کا قدردان، اپنے معاصرین میں علم و فضل پر فائق، مرجع خلائق حضرت مولانا شاہ سید مصطفی رفاعی قادری جیلانی ندوی کی ذات گرامی ہے۔
یہ درخشاں ستارہ بابرکت ماہ شعبان المعظم ۲۸ تاریخ ۱۴۴۶ بمطابق ۲۷ فروری ۲۰۲۵ بروز جمعرات ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا اور خلق ِخدا کو سوگوار چھوڑکررب حقیقی سے جا ملا ’’ اناللہ و انا الیہ راجعون‘‘ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے، اور ان کے سارے دینی و ملی و اصلاحی خدمات کو ذخیرئہ آخرت فرمائے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس کی نگہبانی کرے
مصظفیٰ سید رفاعی ندوی میرے دیرینہ رفیق اور دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دوران تعلیم معاصر تھے اور مجھ سے جونئیرتھے جو عنفوان شباب ہی میںتحریر و تقریر میں ایک ممتاز طالب علم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، بزم خطابت و بزم سلیمانی میں بھر پور حصہ لیتے تھے اور دونوں شعبوں میں امتیازی پوزیشن حاصل کرتے، جہاں انعامات سے نوازے جاتے تھے وہیں اپنے اساتذہ اور دوستوں سے خراج تحسین اصول کرتے تھے، دوران ِتعلیم شاہانہ زندگی کے عادی تھے جس سے محسوس ہوتا تھا کہ ایک متمول گھرانے کے فرد ہیں اور کیوں نہ ہو جب ان کے والد بزرگوار خود قادریہ، نقشبندیہ، رفاعیہ سلسلہ کے ایک بزرگ اور خانقاہ کے سجادہ نشین تھے، مگر فراغت کے بعد ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی آئی، عملی میدان میں جاکر بالکل بدل گئے، شاہانہ زندگی کو خیر باد کہہ کر زہدو تقویٰ کی زندگی اختیار کی جس پر تا حیات قائم رہے۔
بنگلور میں جہاںسید مصطفی رفاعی نے حکمت و مصلحت سے قادیانیت کی بڑھتی ہوئی یلغار کو روکااور ایک مرد مجاہد کی طرح ہر محاذپر مقابلہ کرتے رہے اس کی مثال بنگلورمیں نہیں ملتی، تو دوسری طرف حضرت مولاناقاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی اور حضرت مولانا مجیب اللہ صاحب ندوی کے انتقال کے بعد آل انڈیا ملی کونسل اضمحلال کا شکار ہوگئی اور ہر شعبہ میں سراسیمگی کے حالات نظر آنے لگے تو اللہ تعالی نے اس مرد مجاہد کو منتخب فرمایااور انہوں نیاندرون ملک اسفار کرکے اس میں روح پھونک دی جس کی سخت ضرورت تھی یہ مولانا رفاعی کا بہت بڑا کارنامہ ہے جس کو میں ان کی کرامت سے تعبیر کرتا ہوں ۔
یہ ہے وہ سیاہ پوش درویش جس کا لباس دو سیاہ چادریں تھیں ایک تہبند کے طور پر استعمال کرتے اور دوسری چادر اوڑھا کرتے تھے، سفر و حضر میں یہی ان کا لباس ہوتا تھا، یہ میں بڑی جسارت کے ساتھ عرض کر سکتا ہوں کہ اس شخص کو جہاں سنت نبوی سے عشق تھا وہیں غلاف کعبہ سے والہانہ تعلق تھا، یہی وہ شخص ہے جس نے مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کو پورے کرناٹک اور خاص طور پر بنگلور میں پیام ِ انسانیت کے پلیٹ فارم سے متعارف کرایاایک پیام انسانیت کے جلسے میں جسمیں غیر مسلموںکی تعداد اچھی خاصی شریک تھی، سادھو سنت بھی براجمان تھے تو اس میں سے ایک شخص مولانا رفاعی کی طرف اپنی عقیدت کا اظہارکرنے کیلئے بڑھا تو مولانا رفاعی نے حضرت مولانا علی میاں کی طرف اشارہ کیا کہ ان سے ملاقات کیجئے یعنی سیاہ پوش درویش کا ایسا اثر ہوتا کہ غیر مسلم بھی ان کو اپنا محبوب بنا لیتا، اس میں کوئی شک نہیں کہ کرناٹک میں پیام انسانیت جو حضرت مولانا علی میاں کے دل کی آواز تھی اس کو متعارف کرانا بھی ان کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔
قاصر میرا قلم ہے تو عاجزمیری زباں
ممکن کہاں کہ وصف تیرا کر سکوں بیاں


