10/مارچ 2025ء/(انوارالحق قاسمی): ملک نیپال کی معروف و مشہور شخصیات میں ایک بڑا نام حضرت الاستاذ مولانا انیس الرحمن مظاہری کا آتاہے۔ مولانا کی  پوری زندگی غریب پروری اور مذہب اسلام کی تعلی و سربلندی کے لیے وقف ہے۔
  مولانا ایک بڑی مدت تک  تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے ہیں، جس کی بناء پر نیپال اور پڑوسی ملک ہندوستان کے بہار میں ان کے شاگردان کی ایک بڑی تعداد ہے۔ حضرت کو  نیپال کی سیاست سے بھی  خاصی دلچسپی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم مسلمانوں کے  تابناک اور روشن مستقبل کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ یعنی مذہب اسلام اور اسلام کی سربلندی کے لیے ضرورت پڑنے پر ہم اپنی جان بھی دے سکتے ہیں؛ مگر اسلام اور مسلمانوں کی پسپائی ہمیں منظور نہیں ہے۔
   مولانا بار بار جس بڑی اور اہم خواہش کا اظہار فرماتے رہتے ہیں، وہ  نیپال میں مدرسہ بورڈ کے قیام کی خواہش ہے۔ اس عظیم خواہش اور چاہت کے لیے ان کی محنتیں عرصہ دراز اور ایک طویل مدت سے جاری ہیں اور یہ محنت اور جد و جہد اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک انھیں اس میں کامیابی نہ مل جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے