محمد وسيم راعين 

پاکی وصفائی ‘ طہارت و نظافت کو پسند کرنا اور گندگیوں سے اجتناب کرنا انسان کی فطرت ہے ۔

 اللہ تعالی نے پاک وصاف رہنے والوں کی تعریف کی ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالی ان سے محبت کرتے ہیں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے : {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108] ’’ اس میں ایسے لوگ ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتےہیں اور اللہ تعالی خوب پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔

اسلام میں پاکی وصفائی کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ طہارت و نظافت عقیدہ کی ہو یا اخلاق کی ۔ ظاہر کی ہو یا باطن کی ماحول کی ہو یا معاشرہ کی سب اسلام میں مطلوب و مقصود ہے ۔

عقید ہ توحید کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کا دل ہر طرح کے شرک اور شرک کے مظاہر سے پاک وصاف ہو ۔ اسی لئے عقیدہ توحید کی دولت سے محروم لوگوں کو قرآن نے نجس کہا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ} [التوبة: 28]” اے ایمان والوں بے شک مشرک نجس ہیں "۔

جسم کی صفائی پہ شریعت نے بہت زور دیاہے اسی لئے کم سے کم ہفتہ میں ایک دن غسل کرنے کی تاکید کی ہے ۔(متفق علیہ)

لباس انسان کے عیبوں کو چھپاتا ہے ‘انہیں حیوانو ں سے ممتاز کرتا ہے اور زینت کا کا م دیتا ہے ۔اسی لئے شریعت لباس کی صفائی وستھرائی پہ زور دیتی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [المدثر: 4]”اے نبی اپنے کپڑوں کو پاک کرلو”۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے بدن پہ گندہ کپڑا دیکھا تو فرمایا: کیا یہ پانی بھی نہیں پاتا کہ وہ اپنے کپڑے کو دھو سکے۔(سنن ابی داود)

شریعت نے منہ کی صفائی کے لئے مسواک اور اس کے قائم مقام چیزوں کا حکم دیا ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ»’’ مسواک ‘منہ کی صفائی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے ‘‘۔

اسلام میں نماز کا بڑا مقام ہے ۔ اس کے لئے مختلف قسم کی پاکی کو ضروری قرار دیا گیاہے چاہےوہ جسم کی پاکی ہو کہ لباس کی یا نماز کے جگہ کی سب مطلوب و مقصود ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ نے فرمایا: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ» (مسلم)”بغير پاکی کے نماز قبول نہیں ہوتی ہے ‘‘۔ بلکہ نماز کے لئے پاکی کو آدھا ایمان کہا گیا ہے ۔«الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ»(مسلم)”پاکی آدھا ایمان ہے ‘‘۔

 مسجد روئے زمین کی سب سے محبوب اور نماز و عبادات کی جگہ ہے ۔ اسے پاک وصاف رکھنے کی بڑی اہمیت ہے ۔ایسی جگہ میں تھوک وغیرہ کے ذریعے گندگی پھیلانا گناہ کا کام ہے (بخاری) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تھوک دیکھا تو آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا۔(سنن نسائی ‘ صحیح).

 انسان جس جگہ رہتا ہے آس کے پاس کے ماحول کی پاکیزگی اور صفائی پہ شریعت نے زور دیتے ہوئے اسے ایمان کاحصہ قرار دیا ہے(مسلم) اور راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے کو باعث ثواب بتایاہے۔(متفق علیہ)

 پانی انسان کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے ۔ ہر جاندار کی زندگی کے لئے پانی ناگریز ہے ۔ لہذا شریعت اسےپاک و صاف رکھنے کا حکم دیتی ہے اور اسے گندا کرنے سے روکتی ہے ۔ اسی لئے پانی کو گندگی سے بچانے کے لئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے۔(متفق علیہ)

راستہ انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے اسی لئے عام گزرگاہوں اور لوگوں کے فائدے کی جگہوں میں گندگی پھیلانا قابل لعنت ہے ۔(مسلم)

قرآن الله تعالی کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لئے آخری کتاب ہے ۔یہ نہایت ہی عظیم الشان کتا ب ہے ۔ اس کے چھونے والے پاک ہوتے ہیں ۔اور پاکی کی حالت میں ہی اسے ہاتھ میں لینا چاہیے۔ (مؤطا)

مال انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے ۔ شریعت اسلامیہ میں اس کی پاکی اور غریبوں ‘ محتاجوں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے زکوۃ کا نظام مقرر کیاہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:{ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا} [التوبة: 103]” ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے جس کے ذریعے سے آپ انہیں پاک وصاف کردیں "۔

انسان جس قسم کی چیز کھاتا ہے اس کا اثر اس کی زندگی میں ہوتا ہے اسی لئے شریعت اپنے ماننے والوں کو پاک وصاف مال کھانے کا حکم دیتی ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ} [البقرة: 172]”اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو”۔

پاکی وصفائی خرچ کرنے میں بھی مطلوب ہے اسی لئے پاک مال سے کیا ہوا ہی صدقہ قبول ہوتا ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:” أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا”۔اے لوگوں بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاک مال سے کیا ہوا صدقہ ہی قبول کرتا ہے ۔

خلاصہ کلام یہی ہے کہ اسلام میں پاکی کی بڑی اہمیت ہے، پاکی کا بڑا ہی وسیع مفہوم ہے اور مختلف قسم کی پاکی مطلوب ہے لہذا ہم پاک و صاف رہیں۔ اپنی زبان و اخلاق، معاشرہ و ماحول کو بھی پاک و صاف رکھنے کی فکر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ پاکی و صفائی کی اتنی شاندار تعلیمات کے باوجود مسلمان، مسلمانوں کا محلہ اور بستی گندگی سے پہچانی جائے ۔ اللہ تعالی ہمیں ہر قسم کی پاکی و صفائی کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے