سعادت گنج، بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری): جمیعت العلماء و الحفاظ ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام 16 اپریل بروز بدھ بعد نماز عشاء، مدنی مسجد سعادت گنج کے سامنے ایک روزہ "اجلاسِ عام برائے تعلیمی بیداری و تقسیم انعام” کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس روح پرور اجلاس کی سرپرستی حضرت مولانا مفتی عارف کاشفی صاحب نے کی جبکہ صدارت حضرت مولانا عبدالباری فاروقی مہتمم دارالمبلغین، لکھنؤ نے فرمائی۔
جلسے کا آغاز قاری خلیل الرحمن فرقانی سعادت گنجوی کی دلنشیں تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، نعت شریف کا نذرانہ معروف نعت خواں قاری حبیب الرحمن فرقانی نے پیش کیا اور نظامت کے فرائض حضرت مولانا منہاج عالم ندوی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
اس موقع پر بطورِ مقرر خصوصی حضرت مولانا عبداللہ سالم قمر چترویدی صاحب نے نہایت بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تعلیم کے بغیر کسی بھی معاشرے کی مکمل ترقی ممکن نہیں۔ ایک غیر تعلیم یافتہ شخص زندگی بھر احساسِ کمتری میں مبتلا رہتا ہے۔
انہوں نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کو اولین ترجیح دیں اور غیر ضروری اخراجات سے بچ کر تعلیمی میدان میں سرمایہ کاری کریں۔ معاشی طور پر خوشحال افراد سے اپیل کی کہ وہ غریب بچوں کی تعلیم کا بیڑا اٹھائیں تاکہ معاشرے میں تعلیم کی روشنی ہر گھر تک پہنچے۔
مولانا نے کہا کہ صرف دینی تعلیم ہی نہیں بلکہ عصری تعلیم بھی نہایت ضروری ہے تاکہ ہم اپنی اخلاقی و قومی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے ملک و ملت کی خدمت میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے تعلیم کو قوموں کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہتعلیم میں کیا گیا سرمایہ کاری درحقیقت ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔
آخر میں جمیعت العلماء و الحفاظ کی جانب سے چلنے والے تمام مکاتب کے طلباء کو انعامات سے نوازا گیا۔ جلسے کا اختتام حضرت مولانا عبداللہ سالم قمر چترویدی کی رقت انگیز دعا پر ہوا۔
اس بابرکت اجلاس میں مولانا رشید ندوی، مفتی مصباح الرحمن، مولانا جمال، حافظ اعجاز، محمد حمید، عطاءالرحمن، حاجی محمد حسین، عبداللہ، محمد کاشف، محمد عزیر، محمد ہلال، محمد امان، محمد سفیان اور محمد جنید سمیت کئی معزز شخصیات نے شرکت کی۔

