بیدر۔3 2؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): شوال المکرم کی 21,22,23 مطابق 20,21,22 اپریل 2025ء قطب کلیانی ؒ کا 647 واں عرس شریف بصد عقیدت واحترام منایا منایا گیا۔ جلوس ِصندل مبارک 20 اپریل بروز اتوار بعد نماز مغرب بارگاہِ حسین میں تقدس مآب پیر طریقت رہبرِ شریعت حضرت شاہ محمد ضیائالحسن جاگیر دار قبلہ سجادہ نشین ومتولی بارگاہ شیر سوار ؒ وجانشین سجادہ نشین حضرت مصباح الحسن جاگیر دار قبلہ اور تمام خلفائومریدین ومعتقدین کے ہمراہ محفل درودوسلام فاتحہ خوانی کا اہتمام رہا ۔بعدٗ نماز عشائادا کی گئی اس کے بعد جلوس صندل مبارک ہزاروں عقیدتمندان کے ساتھ بارگاہ حسین سے روانہ ہوکر شہر کی مختلف شاہ راہوں سے گزرتا ہوا رات دیر گئے بارگاہ عالیہ حضرت شیرسوار ؒ پہنچا۔نماز فجر سے پہلے صندل مالی انجام دی گئی۔بعد نماز فجر اجتماعی ذکر جہری کی محفل منعقد ہوئی۔21اپریل بروز پیر بعد نماز مغرب چراغاں روشن کئے گئے اور بعد نماز عشاء جلوس جھیلہ بارگاہ حسین سے نکل کر بارگاہ شیر سوار ؒ پہنچا۔ رات 10بجے احاطہ درگاہ شریف میں جلسہ عظمت اولیائاللہ کا انعقاد عمل میں آیا۔اس جلسہ کی سرپرستی ونگرانی تقدس مآب پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ ضیائالحسن جاگیر دار صاحب قبلہ چشتی نظامی منوری شیر سواری سجادہ نشین ومتولی بارگاہ حضرت شیر سوار ؒ بسواکلیان نے فرمائی۔ اس مقدس جلسہ سے مقرر ذیشان حضرت علامہ مولانا مفتی ڈاکٹر سید احمد غوری صاحب قبلہ نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اولیا ، ئکرام وصال کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں جس طرح ان کی زندگی میں لوگ فیض پاتے تھے وصال کے بعد بھی ان کی بارگاہ سے فیض جاری رہتا ہے۔ جب مومن کامل سے سوالات وجوابات ہوتے ہیں تو قبر سے ان کے جسم کو اعلی علیین کی روح سے تعلق قائم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ قبر میں ہوتے ہوئے بھی زندہ ہوتے ہیں۔ جیسے سورج آسمان کی بلندی سے زمین میں اپنی شعاں سے گرمی پہنچاتا ہے اسی طرح جنت میں رہنے والی روح سے قبر تک جسم کا تعلق قائم ہوتا ہے اس بات کی دلیل میں آپ نے بخاری شریف کی حدیث شریف کو مفصل انداز میں پیش فرمایا۔ا س جلسہ کے ایک اور واعظ ذیشان نبیرہ غوث اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی سید شاہ حسینی پیراں صاحب قبلہ کامل جامعہ نظامیہ وریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد،برادرسجادہ نشین بارگاہ گلسرم وکرکندہ شریف نے اولیائکرام کے تذکرے کی ضرورت کے حوالے سے فرمایا کہ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں کاملین کی صحبت نہ ملے تو کم از کم ان کے حالات کا مطالعہ کیا کرو تاکہ غفلت دور ہو اور ہدایت پاجائے۔ مزید فرمایا کہ اولیائکاملین جہاں جاتے ہیں مخلوق خدا فیض پاتی ہے جیسے حضرت سید تاج الدین شیر سوارؒ بسواکلیان کا وجوداہلیانِ بسواکلیان کے لئے راحت بنا اور ظالم جادوگرکے ظلم سے مخلوق ِخدا کو راحت ملی۔صوفیائکرام لوگوں کو مواخذہ کے ذریعہ نہیں بلکہ درگزر ومعافی کے ذریعے اصلاح کرتے ہیں اس بات کو آپ نے صوفیائکرام کے واقعات سے واضح فرمایا۔سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا کہ اولیائکرام کو ایسے ہی شہرت ومقبولیت نہیں ملتی اس کے لئے انہوں نے کئی قربانیاں دی ہوتی ہیںاورنفس کی تمام خواہشات کو اللہ ورسول ﷺ کے کی رضا کے خاطر قربان کردیاہوتاہے اور کوئی لمحہ بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتے ونیز سلوک کے منازل سے گزرتے ہوئے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔خواجہ محمد مصباح الحسن جاگیردار جانشین سجادہ نشین بارگاہِ عالیہ حضرت شیر سوار ؒ بسواکلیان، ضلع بیدر کی پریس نوٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے۔ جناب عبدالصمد منجووالا نے بتایاکہ 22؍اپریل بروز منگل بعد نماز عصر درگاہ شریف میں زیارت کا اہتمام ہوا جس میں قرآن خوانی،شجرہ خوانی،فاتحہ درودوسلام کے بعد تبرکات تقسیم کئے گئے اور بعد نماز عشائمحفل سماع کا انعقاد عمل میں لایا آیا،بارش کے باوجود بھی کثیر تعداد میں عقیدت مندان محفل سماع میں حاضر رہے رات 3بجے تک محفل سماع جاری رہی۔ صندل چراغاں اور زیارت کے علاوہ تمام محافل میں کثیر تعداد میں محبان اولیائکرام بڑی عقیدت ومحبت کے ساتھ شریک رہے۔ فضیلت مآب حضرت سید شاہ خلیل اللہ حسینی صاحب قبلہ برادرسجادہ نشین بارگاہ شیر سوار ؒ گلسرم شریف،حضرت سید شاہ احمد حسینی قبلہ برادر سجادہ نشین بارگاہِ کولم پلی، حضرت الحاج سید شاہ سجاد محی الدین قادری چشتی ملتانی سجادہ نشین درگاہ حضرت دادا پیر ؒ بیدر، حضرت سید شاہ مبین اللہ حسینی سجادہ نشین بارگاہ گلگ،اور دیگرنے شرکت کی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے