محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 10 مئی کی شام جنگ بندی ہو جاتی ہے، ہندوستانی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری بتاتے ہیں کہ "پاکستان کے ڈی جی ایم نے ہمارے ملک ہندوستان کے اپنے ہم منصب کو 3 بج کر 35 منٹ پر کال کیا تھا اس کال کے بعد دونوں جانب سے جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا، لیکن عوام الناس کو جنگ بندی کی اطلاع سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ معلوم ہوئی ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں لکھا "یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر مسلسل ڈرون حملے، گولہ باری اور کشیدہ حالات تھے جس سے علاقائی اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہورہا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر پوسٹ کیا کہ بھارت اور پاکستان نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن کی مداخلت سے جنوبی ایشیا کے پڑوس میں استحکام لانے میں مدد ملی ہے، امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی ایک طویل رات کی بات چیت کے بعد، مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ایک مکمل اور فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کو کامن سینس اور عظیم ذہانت کے استعمال پر مبارکباد، اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ!”. ہندوستانی سیکریٹری خارجہ نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ پاکستان کی جانب سے ڈی جی ملٹری آپریشن کے رابطے کے بعد ہوا۔ ہندوستان کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس معاملے میں انٹرنیشنل سربراہان کا کوئی کلیدی کردار نہیں ہے بلکہ یہ دوطرفہ بات چیت سے معاملہ طے ہوا ہے، ان کے بیان کے مطابق، یہ معاہدہ اس وقت طے پایا جب پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے ہفتے کی دوپہر ایک فون کال کی، تاہم پاکستان کے وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے امریکہ اور سعودی عرب کی کوششوں کا نہ صرف اقرار کیا بلکہ شکریہ بھی ادا کیا۔ امریکی نشریاتی ادارہ سی این این کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور سعودی عرب اور ترکی کے حکام بھی ان مذاکرات میں شامل تھے۔ تاہم ہندوستان کے وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان براہ راست طے پائی ہے، ہندوستانی وزارت خارجہ کا یہ بیان، جو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد آیا ہے کہ جنگ بندی امریکی ثالثی کی ایک رات کے نتیجے میں ہوئی۔ پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی عوامی منظر نامے پر رات 8 بجے ٹی وی پر آئے اور انہوں نے قوم سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ انہیں جوہری ہتھیاروں سے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مبینہ انفراسٹرکچرز ختم ہو جانا چاہئے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے عوامی نشریاتی خطاب میں یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ بتائیں گے کہ پاکستان پر ایک کامیاب سیندور آپریشن کے دوران اچانک کس کے دباؤ میں ہم جنگ بندی کے لیے آمادہ ہوگئے مگر انہوں نے اس کے جواب سے عوام کو مایوس کیا، انہوں نے ایک سو چالیس کروڑ ہندوستانی عوام، اپوزیشن، اور فوجی قیادت کی صرف تعریف ہی کی جو ہر طرف پہلے ہی سے ہو رہی تھی، دوسری جانب اگر تجزیہ نگاروں کی مانیں تو ان کا کہنا ہے کہ "وزیراعظم نریندر مودی ٹی وی اسکرین پر ایک ہارے ہوئے انسان نظر آرہے تھے، اور نہ صرف ان کے الفاظ بلکہ باڈی لینگوئج میں بھی وہ شکست خوردہ دکھائی دیے رہے تھے”. امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مستقبل میں تنازعات سے بچنے کے لیے ثالثی کی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، روبیو نے ایکس پر لکھا کہ” دونوں طرف سے نیوٹریل مقام پر وسیع مسائل پر بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے” ۔ اس سے قبل، امریکہ نے مشورہ دیا تھا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کو غلط حساب کتاب سے بچنے کے لیے براہ راست رابطے کو کم کرنے اور دوبارہ امن قائم کرنے کے طریقوں کی نشاندہی کرنی چاہیے، مستقبل کے تنازعات کو ٹالنے کے لیے "نتیجہ خیز بات چیت” کی سہولت فراہم کرنے میں تعاون کی تجویز پیش کرنا چاہیے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بات کی تھی، انہوں نے پاکستانی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ٹیلی فون پر بات کی. شروعات میں ہندوستان کے آپریشن سندور کے بعد ایشیائی پڑوس ملکوں کے درمیان دہشت اس وقت بڑھ گئی جب پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے نو کیمپوں کو پلک جھپکتے نیست و نابود کر دیا گیا ۔ اس کے بعد جے شنکر کے ساتھ روبیو نے اپنی فون کال میں اس بات پر زور دیا تھا کہ دونوں فریقوں کو غلط حساب کتاب سے بچنے کے لیے ڈی اسکیلٹ اور براہ راست بات چیت کو دوبارہ قائم کرنے کے طریقوں کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، انہوں نے مستقبل کے تنازعات کو ٹالنے کے لیے نتیجہ خیز بات چیت میں سہولت فراہم کرنے میں امریکی حمایت کی تجویز پیش کی تھی. ہندوستان کا پیغام بالکل واضح تھا، اور اس میں مغربی دنیا کو خوش کرنے کی کوئی کوشش شامل نہیں تھی۔ آغاز ہی سے ہندوستان کے نمائندوں وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری وکرم مسری، کرنل صوفیہ قریشی، اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے ایک ایسے ملک کی نمائندگی کی جو نرم لہجے میں بات کرتا ہے لیکن ساتھ ہی ایک ناقابل فراموش فوجی طاقت بھی رکھتا ہے۔ ہندوستان کے سکریٹری خارجہ وکرم مسری نے زور دے کر کہا تھا کہ ہندوستانی مسلح افواج نے ڈرون، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں، لڑاکا طیاروں، شہری علاقوں اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے ذریعے مغربی سرحد کے ساتھ متعدد خطرات کو استعمال کرنے کی پاکستان کی اشتعال انگیز کارروائی کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا دیا ہے، ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرنل صوفیہ قریشی نے کہا کہ ہندوستانی مسلح افواج کشیدگی نہ بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے، بشرطیکہ پاکستانی فوج کی طرف سے اس کا سنجیدگی سے جواب دیا جائے، صوفیہ قریشی نے کہا کہ پاکستان نے سری نگر، اونتی پورہ اور ادھم پور کے فضائی اڈوں پر ایک طبی مرکز اور اسکول کے احاطے پر حملہ کیا، اور پنجاب کے مختلف فضائی اڈوں پر صبح 1:40 بجے کے بعد کئی "تیز رفتار میزائل” حملے دیکھے گئے، جس سے کچھ نقصان ہوا۔ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ، جس میں ملک کے مختلف علاقوں کے 27 لوگوں نشانہ بنایا گیا تھا ، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی ایک نئی انتہا بن کر سامنے آیا۔ اس کے فوری بعد ہندوستان نے "آپریشن سندور” کے تحت جوابی کارروائی کی، جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر(PoK) میں موجود دہشت گرد کیمپوں، جیسے کہ مرِدکے اور بہاولپور، کو نشانہ بنایا گیا، بتایا جاتا ہے کہ یہی مقامات لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے گروہوں کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ قدم محض سرجیکل اسٹرائیکس سے بڑھ کر ایک بڑی اور مربوط انسدادِ دہشت گردی مہم کی نمائندگی کرتا ہے، جو ہندوستان کی "دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرینس” پالیسی کا مظہر ہے، اور اس کا اثر نہ صرف خطے کی طاقت کے توازن پر پڑا بلکہ عالمی سفارتی نظام کی آزمائش بھی بن گیا، پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی میں شدید سرحدی گولہ باری کی گئی، جس میں 12 ہندوستانی شہری مارے گئے، جب کہ ڈرون اور میزائل حملوں کی کوششیں بھی کی گئیں۔ پاکستان کی جانب سے آپریشن سیندور کو "اعلانِ جنگ” قرار دینا پوری دنیا میں بحران پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوا، تاہم ہندوستان کی طرف سے صرف غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنا کر ایک ذمہ دار توازن کا مظاہرہ کیا گیا، تاکہ مکمل جنگ سے گریز ہو سکے، ساتھ ہی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ایک واضح پیغام بھی دیا جا سکے، عالمی سطح پر ہندوستان کے اس اقدام پر مخلوط رد عمل رہا، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے ہندوستان کے دفاع کے حق کی حمایت کی، جو دہشت گردی کے خلاف ابھرتے ہوئے عالمی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ایک غیر معمولی ہم آہنگی کے ساتھ پہلگام حملے کے ذمے داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جس سے ہندوستان کے موقف کو تقویت ملی۔ اس کے برعکس چین، جو پاکستان کا اسٹریٹیجک اتحادی ہے، اس نے صرف رسمی افسوس کا اظہار کیا، جس سے دہلی سے براہ راست تصادم سے بچنے کی بیجنگ کی احتیاط ظاہر ہوتی ہے، آپریشن سیندور کے ذریعے ہندوستان نے اپنے عسکری نظریے میں ایک بنیادی تبدیلی کی ہے، جو محض دفاعی حکمت عملی سے نکل کر جارحانہ اور سزا دینے والے اقدامات کی طرف پیش قدمی۔ یہ تبدیلی پاکستان کے جوہری اسلحے پر مبنی دفاعی حربے کو چیلنج کرتی ہے، اور اس کے روایتی دفاع کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے فوجی تنصیبات کو نظرانداز کرکے صرف دہشت گردی کے اڈوں کو نشانہ بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کے جوہری دھمکیوں کو عملی طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے، جو خطے کے اسٹریٹیجک استحکام کے تصور کو ازسرِنو تشکیل دے سکتا ہے، چار روزہ آپریشن سیندور 2025 ہندوستان کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، ایک ایسا ہندوستان جو اب دہشت گردی کے مقابلے میں امن پسندی کی وراثت کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں، بلکہ پاکستان کی ریاست کی چار دہائیوں پر محیط سرپرستی میں پروان چڑھنے والے دہشت گردوں کا تعاقب کرتا ہے، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں گھس کر مارنے کا عزم رکھتا ہے۔ یہ دراصل ہندوستان کے اس نئے ارادے کا مظہر تھا جس میں کہا گیا ہے "گھر میں گھس کے ماریں گے”۔آپریشن سیندور کوئی روایتی جنگ نہیں بلکہ ایک نپا تُلا حملہ تھا، جو پاکستان اور ہندوستان کے اندر موجود دہشت گردوں کو ایک واضح پیغام دینے کے لیے کیا گیا تھا اس آپریشن کا دائرہ کار اور درست نشانہ بازی بھی واضح تھی، ہندوستان کا پیغام نہایت واضح اور دو ٹوک تھا، جس میں مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوئی کوشش شامل نہیں تھی۔ اس آپریشن کا نام سیندور کی وجہ انڈیا ٹوڈے کے مطابق اس آپریشن کا نام "سیندور” اس لیے رکھا گیا چونکہ انڈین حکومت پہلگام حملے میں مارے جانے والے انڈین شہریوں کی بیواؤں کو "انصاف اور مکمل بدلے” کا پیغام دینا چاہتی تھی، اور یہ نام انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے خود رکھا تھا چونکہ انڈین خواتین شادی کے بعد اپنی مانگ میں سیندور لگاتی ہیں اور بیوہ ہونے کے بعد سیندور نہیں لگایا جاتا”. جب کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویامیکا سنگھ ٹی وی چینلز پر سامنے آئیں تو اگرچہ یہ ایک غیرمتوقع چال تھی لیکن اس کا پیغام کرسٹل کلیئر تھا کہ پہلگام حملے میں بیوہ ہونے والی انڈین خواتین کو ’انصاف‘ ملنے کا اعلان خود انڈین فوج کی خواتین اہلکار کر رہی ہیں، اور وہ اہلکار جو اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں یعنی مسلمان اور سکھ، ای ٹی وی انڈیا کے مطابق انڈیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس بڑے پیمانے کے فوجی آپریشن کی پریس بریفنگ خواتین افسران نے کی، کرنل صوفیہ قریشی انڈین فوج کی سگنل کور میں تعینات ہیں اور ان کا تعلق گجرات سے ہے۔ وہ 1999 سے ہندوستانی فوج سے وابستہ ہیں اور یو این کے کئی امن مشنز میں ہندوستانی فوج کی قیادت کر چکی ہیں، صوفیہ قریشی کے دادا بھی فوج میں تھے اور ان کے والد نے بھی چند سال فوج میں مذہبی استاد کے طور پر خدمات انجام دیں۔ صوفیہ قریشی کی شادی میکا نائزڈ انفنٹری کے آرمی آفیسر میجر تاج الدین قریشی سے ہوئی ہے اور ان کے ایک بیٹا ہے جس کا نام ثمیر قریشی ہے۔ ونگ کمانڈر ویامیکا سنگھ 2500 گھنٹوں کے فلائنگ آورز کا تجربہ رکھنے والی انڈین ایئر فورس کی سکھ ہیلی کاپٹر پائلٹ ہیں اور کئی پہاڑی ہائی رسک ریسکیو آپریشنز میں انڈین شہریوں کی مدد کر چکی ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب سے قبل اور بعد ملک کی اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، مرکزی اپوزیشن کانگریس پارٹی کے سربراہ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ واضح ہو کہ امریکہ نے جنگ بندی کیسے کروا دی؟ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے متنازعہ خطے پر کسی غیرجانبدار مقام پر مذاکرات کیونکر ہو سکتے ہیں؟واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین سیز فائر انہوں نے کروایا۔ ٹرمپ کے بقول انہوں نے دونوں ممالک سے کہا تھا کہ اگر فوری جنگ بندی نہیں کی جائے گی تو واشنگٹن پاکستان اور بھارت سے تجارت ترک کر دیں گے۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ امریکہ کی ہندوستان کے ساتھ تجارت کا حجم 140 ارب ڈالر کا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ صرف 10 ارب ڈالر کا. ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں اب ‘بہت خوش’ ہیں اور اب تجارت پر بات چیت کر رہے ہیں. کانگریس پارٹی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے، آپریشن سندور اور بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر تفصیلی بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کل جماعتی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر کئے پوسٹ میں مرکزی حکومت سے متعدد سوال کئے۔ انہوں کہا کہ "وزیراعظم کی صدارت میں آل پارٹی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ پہلگام واقعے، آپریشن سندور، جنگ بندی اور جنگ بندی پر امریکی بیان وغیرہ پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جانا چاہیے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات غیر جانبدار مقام پر ہونے چاہئیں۔ اس سے کئی سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا ہم نے کسی تیسرے کو ثالث کے طور پر قبول کریں گے؟” کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی راستے دوبارہ کھلیں گے؟ جے رام رمیش نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 1981 میں بھارت کو 5.8 بلین ڈالر کا قرضہ منظور کیا تھا۔ اس وقت امریکہ نے اس قرض پر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا اور ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس سے دور رہا تھا، انہوں نے یاد دلایا کہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی آئی ایم ایف کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئیں کہ یہ قرضہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے بھارت کی مدد کے لیے ضروری ہے جسے مانا گیا تھا. اس لیے ملک میں امریکی صدر کے بیان پر بالخصوص اپوزیشن جماعتیں کافی برہم نظر آ رہی ہیں۔ع آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟.***
