سہارنپور (احمد رضا): مدارس اسلامیہ میں پر وقار تعلیمی نظم، تربیت،  اصلاح،  اخلاقی اور مذہبی نظم و نسق اور سبھی کی ترقی کا راز طلباء و اساتذہ کی صحیح تربیت اور فکر میں مضمر ہے مسلم اسکالر عالم دین مولانا کبیر الدین فاران کی زیر نگرانی الحمد للہ "مدارسِ دینیہ کی تربیت و تنظیم کے عنوان سے جامعۃ الشیخ عبد السّتار کے مہتمم الحاج فضل الرحمان نانکوی کی ایماء پر کل یہاں ایک نہایت اہم، بامقصد اور پُر وقار علمی مجلس کا انعقاد عمل میں آیا ” جس میں علاقے کے جید علمائے کرام، اساتذہ و اربابِ مدارس نے شرکت فرما کر فیض حاصل کیا اس مجلس کا مقصد دینی مدارس کے نظامِ تعلیم و تربیت کو مزید مؤثر، منظم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا تھا۔اس علمی نشست کی صدارت حضرت مولانا کبیرالد ین فاران مظاہری  مہتمم مدرسہ قادریہ مسروالا نے فرمائی، مولانا کبیر الدین کو علمی دنیا میں  خاص دینی خدمات اور تعلیمی بصیرت کی بنا پر اہم مقام حاصل ہے۔ جامعۃ الشیخ عبد السّتار کے استاذ تجوید و قرات قاری مطیع الرحمان قاسمی کی تلاوت با سعادت سے مجلس کا آغاز ہوا جامعہ رحمانیہ للبنات کی طالبہ نے خوبصورت نعت پیش کی آپ نے صدارتی خطاب میں مولانا کبیر الدین فاران نے مدارس کی موجودہ صورتحال، تربیتِ مدرسین کی اہمیت، اور طلبہ کی فکری و عملی تربیت پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ مولانا نے فرمایا "محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز ہے  دنیا کی تمام کامیابیاں، چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی، وقتی ہوں یا دائمی، اگر کسی ایک تعلق پر قائم کی جائیں تو وہ ہے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا، گہرا اور وفادار تعلق۔
یہ تعلق محض زبانی دعوے کا نام نہیں، بلکہ محبت، اطاعت، اتباع اور ادب کے جذبات سے معمور ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کا مطلب ہے: ان کی سیرت کو اپنا نمونہ بنانا ان کی سنت کو اپنی زندگی میں زندہ کرنا ان کی تعلیمات کو اپنے عمل میں ڈھالنا اور ان کے لائے ہوئے دین کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے :
"قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ” (آل عمران: 31)
ترجمہ : "کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔” یعنی اللہ کی محبت اور رضامندی، دنیا و آخرت کی کامیابی کا اصل زینہ، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ جس دل میں نبی سے سچا تعلق ہوتا ہے، وہ دل ظلمتوں سے پاک اور نورِ ہدایت سے روشن ہو جاتا ہے۔ ایسی زندگی میں برکت، محبت، سکون اور مقصد ہوتا ہے۔ اور آخرت میں اسی تعلق کی بنیاد پر شفاعت، بخشش اور جنت کی نوید ہے پس آئیں اور نبی کریم  حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا تعلق تازہ کریں ان کی سیرت کا مطالعہ کریں ان کے اخلاق حسنہ  کو اپنائیں ان کی سنتوں کو زندہ کریں اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں اس موقع پر کنوینر اجلاس مولانا مفتی عطاءالرحمن جمیل قاسمی نانکوی ناظم جمعیت علماء ہند ضلع سہارنپور نے بھی نہایت وقیع اور مدلل خطاب فرمایا، جس میں آپ نے مدارس کے نظامِ تعلیم میں درپیش چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر روشنی ڈالتے ہوئے اصلاحی نکات پیش کیے۔
1. خالص نیت اور اخلاص
مدارس کی ترقی کا پہلا زینہ اخلاص ہے۔ جب نظام، تدریس اور خدمات صرف رضائے الٰہی کے لیے ہوں تو اللہ تعالیٰ خود اس میں برکت عطا فرماتا ہے۔
2. معیاری تعلیم و تدریس
اساتذہ کی علمی قابلیت، تدریسی مہارت اور نصاب کی جامعیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ جدید تدریسی طریقوں، زبان و بیان، تحقیق و مطالعہ اور تنقیدی سوچ کی تربیت دی جائے۔
3. سیرت و اخلاق کی تربیت
طلبہ کے اخلاق، کردار، اخلاص، وقت کی پابندی، اور دینی حمیت کو مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی جائے۔ صرف نصابی تعلیم کافی نہیں، عملی و روحانی تربیت بھی ضروری ہے۔
4. عصرِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگی
مدارس کو عصری تقاضوں کے مطابق بھی تیار کیا جائے۔ جیسے:کمپیوٹر و انٹرنیٹ کی بنیادی تربیت
جدید زبانوں (خصوصاً انگریزی و عربی) میں مہارت۔ سیرت، دعوت، مناظرہ اور معاشرتی فہم
5. مضبوط انتظامی نظام
مدارس کا نظم و نسق شفاف، مربوط اور جواب دہ ہونا چاہیے۔ باقاعدہ میٹنگز، منصوبہ بندی، احتساب، اور مالی نظم و ضبط ترقی میں مددگار ہوتے ہیں۔
6. رابطہ و تعلقات عامہ
مدارس کو عوام، اہلِ خیر، تعلیمی اداروں اور دیگر دینی تنظیموں سے مربوط رکھنا چاہیے تاکہ باہمی تعاون اور فہم و شعور کی فضا قائم ہو۔
7. نصاب میں تدریجی اصلاح
نصاب میں روایتی علوم کے ساتھ ساتھ تربیتی، اخلاقی اور دعوتی مواد شامل کیا جائے۔ نصاب ایسا ہو جو طالب علم کو علم کے ساتھ حکمت، بصیرت اور معاشرتی شعور بھی دے۔
8. طلبہ کے لیے راہنمائی اور مستقبل سازی
فارغ التحصیل طلبہ کی راہنمائی کی جائے کہ وہ کس شعبے میں دین کی خدمت بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے تربیتی کورسز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔ الحاج فضل الرحمان رحیمی نے فرمایا
مدارس کی ترقی صرف وسائل یا جدید سہولتوں سے نہیں، بلکہ خلوصِ نیت، جدوجہد، حکمت اور دور اندیشی سے ہوتی ہے۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ صحیح منصوبہ بندی کریں، تو مدارس نہ صرف باقی رہیں گے بلکہ قیادت، دعوت، اور اصلاحِ امت کا حقیقی مرکز بنیں گے، ان شاء اللہ۔ مولانا خالد ندوی نے اس مجلس کے انعقاد پر پر مولانا مفتی عطاءالرحمن جمیل قاسمی نانکوی کو مبارکباد پیش کی اور دینی مدارس کی تعلیم س تربیت ترقی اور بہتر مستقبل نیز موجودہ دور میں در پیش چیلنجر پر عمدہ خطاب کیا مولانا عبد الخالق ندوی نے مدارس کی بنیادی چیزوں پر روشنی ڈالی جیسے رجسٹریشن مانیتا تعمیرات کے نقشہ جات اور حساب و کتاب میں شفافیت قاری الطاف تھانوی نے اساتذہ س طلباء کی اصلاح پر زور دیا جس کی آج سخت ضرورت ہے۔ مولانا اکبر ندوی نے بھی کچھ اہم نکات پر روشنی ڈالی مولانا محسن ندوی نے حالات حاضرہ میں عصری علوم کی ضرورت پر خطاب کیا تعلیمی معیار، اخلاقی تربیت، اور مدرسین و طلبہ کے کردار سازی پر مفید مشورے دیے اور مدارس کی ترقی و بقاء کے لیے مختلف عملی تجاویز پیش کیں۔
یہ مجلس نہ صرف فکری تبادلہ خیال کا ذریعہ بنی بلکہ اس سے مدارسِ دینیہ کے منتظمین اور اساتذہ کو ایک نئے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی ترغیب بھی ملی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مجلس کے اثرات کو ثمر آور بنائے اور دینی مدارس کو خیر و برکت کا مرکز بنائے، آخر میں حضرت حافظ جمیل احمد کے صاحبزادہ و جانشین الحاج فضل الرحمان نانکوی کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔ مجلس میں مولانا فتح محمد ندوی کھجناوری مولانا سرور عالم قاسمی قاری مستفیض کاشفی مولانا مفتی ضیاء الرحمن قاسمی چیئرمین الجمیل ٹور اینڈ ٹریولس مولانا نوید مظاہری قاری انیس مولانا فضیل ندوی مولانا حسین مفتی سعدان قاسمی مولانا حسین ڈھالوی قاری فرقان انصاری قاری عبد الرحمن قاری سرفراز الحاج شفیق الرحمن صاحب نبیرہ حضرت نانکوی مفتی صادق قاسمی مولانا محمد اسامہ کریمیا قاری مکرم قاری صداقت مولانا محمد مصطفی مظاہری قاری مؤمن قاری ذیشان مولانا آصف قاری شاکر قاری اعظم مفتی عثمان قاسمی مولانا طاہر قاسمی قاری زبیر عالم قاری عبد الماجد قاری نثار قاری حسین قاری راشد قاری برہان قاری منور قاری دانش ماسٹر اشرافت وغیرہ نے شرکت کی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے