بنگلورو۔ 27؍ مئی(شاروق حسن قادری): وزیر اعلیٰ کرناٹک، جناب سدرامیا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہماری حکومت پر یہ جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم کنڑ زبان کو نظرانداز کر کے اُردو کو زیادہ فنڈز دے رہے ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جا سکے۔”انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک قومی پارٹی ہونے کے باوجود سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دار ٹرولز کی طرح برتاؤ کر رہی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے والی جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا:سال 2025–26 کے لیے پرائمری و سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو ?34,438 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔سماجی بہبود اور دیگر محکموں کے تحت اسکولوں کے لیے ?4,150 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ، سرکاری اسکولوں کی مرمت اور انفرا اسٹرکچر کے لیے ?999.30 کروڑ روپے بھی دیے جا رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام فنڈز کنڑ میڈیم تعلیم کی بہتری کے لیے ہیں۔ ”جب بی جے پی دعویٰ کرتی ہے کہ صرف ?32 کروڑ کنڑ زبان کے لیے دیے گئے ہیں تو یہ سراسر جھوٹ ہے،” وزیر اعلیٰ نے کہا۔ اردو اسکولوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ”اقلیتی بہبود محکمہ کے تحت جو ?100 کروڑ دیے جا رہے ہیں، وہ اردو میڈیم اسکولوں کی عمارتوں، اساتذہ، نصاب اور دیگر سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔ یہ صرف زبان کی بات نہیں ہے بلکہ تعلیمی معیار بلند کرنے کی ایک کوشش ہے”وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ”کسی زبان کو کسی خاص مذہب یا ذات سے جوڑنا اس زبان کی توہین ہے۔ ہماری حکومت کرناٹک میں بولی جانے والی تمام زبانوں کا احترام کرتی ہے۔” انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت تلو، کونکنی، کوڈاو، بیاری، اور آریبھاشے جیسی زبانوں کی الگ الگ اکیڈمیوں کو ہر سال ?80 لاکھ روپے دے رہی ہے۔کنڑ زبان کی ترویج کے لیے حکومت کے پاس ”کنڑ اور ثقافت محکمہ” ہے، جو:14 اکیڈمیاں،3 اتھارٹیز، 24 ادبی ٹرسٹس، چلا رہا ہے۔آخر میں وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا’’کنڑ ہماری پہچان، فخر اور مادری زبان ہے۔ بی جے پی کا یہ جھوٹا پراپیگنڈہ نہ صرف کنڑ کی توہین ہے بلکہ یہ ریاست کرناٹک سے غداری کے مترادف ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بی جے پی فوری طور پر عوام سے معافی مانگے اور وضاحت کرے”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے