تبصرہ: محمدیوسف رحیم بیدری۔ بیدر،کرناٹک
جناب مبین احمد زخم، اردو ادب کے ڈسے ہوئے ہیںیامحبوبہ کی بے رخی کے مارے ہوئے ہیں ، پتہ نہیں چلتامگر اطلاع دیتے ہیں کہ وہ ایک ’’زخم‘‘ ہیں، زخمی نہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ’’ایک عددزخم‘‘ کے باوجود کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ان کی سرشت میں داخل ہے۔ اردو کے آدمی ہیں۔ غم اور خوشی، محبت اور نفرت سبھی کچھ ان کے لئے تقریباً تقریباًیکساں ہے۔ یوں سمجھئے صوفیائے کرام کے قبیلہ میں اٹھنے بیٹھنے کے لائق آدمی ہیں (اسی لئے غالباً یادگیرکی سکونت ترک کرکے شہرِ صوفیا گلبرگہ میں قیام پذیر ہیں)۔
شاعری، مضامین اور اردو صحافت سے مبین احمد زخم کا تعلق ہے ۔اس تعلق کونبھاتے جاتے ہیں۔ادبی صحافت بھی ان کاطرہ ء امتیاز ہے۔ کلیان کرناٹک جیسے علاقے سے سہ ماہی ’’چراغ ِ نور‘‘ یادگیرکو نکالتے رہنے کی اپنی سی سعی میںکئی سال سے (ناکامی اور کامیابی سے قطع نظر)لگے ہوئے ہیں۔ کبھی خواتین پر خصوصی اشاعت کااہتما م کرتے ہیں اور کبھی الحاج قمرالاسلام جیسے شیرکرناٹک (سیاسی)پر نمبر نکالتے ہیں۔ اس دفعہ پروفیسر حمیدسہروردی کی سالگرہ (یکم جون) پر ’’چراغ ِ نور‘‘ یادگیر کی240صفحات کی خصوصی اشاعت سامنے آئی ہے۔جس کے مدیراعزازی ڈاکٹر انیس صدیقی ہیں۔ پروفیسر اعظم شاہد کی صدرنشینی میں مجلس مشاورت اور مجلس ادارت بھی قائم کی گئی تھی۔ مجلس مشاورت میں 10؍افراد ، اور مجلس ادارت میں بھی 10افراد شامل کئے گئے۔ان تمام کے نام درج ہیں۔ اس خصوصی اشاعت کاآئی ایس بی این نمبر 978-81-987574-4-9 ہے۔ سرورق پر پروفیسر حمیدسہروردی صاحب کی باریش اور خوبصورت تصویرجگ مگ جگ مگ کررہی ہے۔اس خصوصی اشاعت کی خوبصورتی یہ ہے کہ تمام اقسام کی اصناف کو علیحدہ علیحدہ فہرست میں نمایاں کرکے شائع کیاگیاہے ، جس سے پڑھنے والے کو انتخاب کر نے میں آسانی ہوتی ہے ۔مثلاًگل ِ مضمون کے تحت ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلی اور پروفیسر خالدہ بیگم کی حمیدسہروردی سے متعلق بالترتیب ادب ِ اطفال اور غیرافسانوی تحریریں ہیں۔
’’گل رنگیں‘‘ عنوان کے تحت حمیدسہروردی کی نظم نگاری پرشکیل رشید ، ڈاکٹر سیفی سرونجی ، ڈاکٹر ماہر منصور، پروفیسر ارتکاز افضل ، ڈاکٹر سید اقبال خسرو قادری اور سعید اختراعظمی کے مضامین شامل ہیں۔ ’’گل آگہی‘‘ عنوان کے تحت پروفیسر حمیدسہروردی کی افسانہ نگاری پر ناصر بغدادی ، پروفیسر معین الدین عقیل ، فیاض رفعت ، پروفیسر خالد جاوید ، ڈاکٹر شکیب انصاری ، ڈاکٹر الطاف انجم، ڈاکٹر رمیشا قمر ، ڈاکٹر عزیز سہیل ، اور ڈاکٹر محمد سمیع الدین کے مضامین شامل کئے گئے ہیں۔اسی طرح’’ گل رو ‘‘عنوان کے تحت حمیدسہروردی کی شخصیت پر پروفیسر عتیق اللہ ، ڈاکٹر سہیل بیابانی ، انیس جاوید ، رؤف صادق، فرحان حنیف وارثی ، سراج وجیہہ تیرانداز، ڈاکٹر عبدالباری اور افسرنسرین انصاری کے مضامین ہیں۔ اسی میںمنظور وقار ، نجم باگ ، ملنسار اطہر احمد، پروفیسر شکیل احمد خان ، ندیم مرزا ، اور ڈاکٹر مشتاق احمد سہروردی کے تاثرات ہیں۔ نجم باگ علامتوں کی زبان سے کام لینے والاوہ فنکار ہے جس کی طرف ناقدین کو توجہ کرنی چاہیے۔ انھوں نے حمیدسہروردی کے بارے میں علامتوں کے پیرائے اور پیرہن سے کام لیاہے ، خوب سے زائد تاثر ہے ان کا اور مؤثر بھی ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد سہروردی نے بھی خوب لکھاہے۔ ’’گل دوستی ‘‘ کے تحت پروفیسر اسلم جمشید پوری ، خاکسار ، پروفیسر عبدالقادر اورنگ آبادی ، چاند اکبر اور پروفیسر حمیدسہروردی کے فرزند اکبر واکمل ڈاکٹر غضنفر اقبال کے لئے گئے انٹرویو شامل ہیں۔ پروفیسر اسلم جمشید پوری کاحمیدسہروردی سے سوال رہاکہ ’’آپ کی نظر میں اکیسویں صدی کے دس منتخب ناول؟‘‘ جواب میں انھوں نے جوگندرپال کے’’ پارپرے‘‘ سے صادقہ نواب سحرکے ناول ’’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘‘ کانام لیاہے۔ اگر ان دس منتخب ناولوں میں کوئی ناول پاکستان کانہیں ہے۔ تویہ احتیاط ، یہ انتخاب اوربین الانتخاب خوف کہاں تک مناسب ہے ، اس کی وضاحت پروفیسر حمیدسہروردی صاحب کوکرنی چاہیے۔ دس منتخب افسانوں کے سوال کاجواب دیتے ہوئے اسی طرح کے بھیدسے آشنائی ہوتی ہے۔ ’’گل رُخاں‘‘ میں پروفیسر حمیدسہروردی کی تحریروں کاانتخاب شامل ہے۔ افسانوں میں پانچ افسانے کالے گلاب ، سفید پرندے ، گم ، فرض شناس اور نواب مرزا منتخب کئے گئے ہیں۔ نظموں میں حمیدسہروردی کی پانچ نظمیں اے پیرومرشد، میں کہ ایک لفظ، پرندہ دکھ کانام نہیں ، وہ اکیلا کس طرف جائے اور الوداع ۔ شخصی نظموں میں جوگندرپال، شاہ حسین نہری ، اور پوتیوں کے لئے نظمیں ہیں جب کہ ’’مختصر نظمیں ‘‘ تین عدد شامل ہیں۔ ایک مختصر نظم ملاحظہ کیجئے ۔میں تمہیں بارہا کہہ چکا؍تم میرے خواب کا نتیجہ ہو؍تم کبھی پھول بن کر؍ میری آنکھوں میں کھلکھلاتی ہو؍اور کبھی شبنم بن کر؍آنکھ سے ٹپکتی ہو!۔اس خصوصی اشاعت میں پروفیسر حمیدسہروردی کے بارے میں مختلف افراد کی آراء کچھ اس طرح ہے۔ حمیدسہروردی میں غیرمعمولی برداشت کا مادہ ہے۔ وہ ہر کڑوی بات یا طنز آمیز فقروں اور جملوں کی ان سنی کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ پروفیسر عتیق اللہ (دہلی)حمیدسہروردی بہت محتاط مزاج کے حامل ہیں ۔ وہ اپنی رائے کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ کالج کی سیاست ہویا مقامی سیاست وہ محتاط اور غیر جانب داررہتے ہیں۔ مزاج میں شائستگی ہے اور نفاست کے حامل ہیں ۔ صلح کل رفع شر اور کم گوئی ان کی صفت رہی ہے۔ (ڈاکٹر سہیل بیابانی)پروفیسر حمید سہروردی کاپورانام عبدالحمید سہروردی ہے۔ ان کی اولین نظم ماہنامہ ’’تحریک‘‘ نئی دہلی میں 1970ء میں شائع ہوئی تھی۔ انھوں نے اورنگ آباد دکن کے ایک مشاعرہ میں اپنی نظم ’’یامصطفی‘‘ اس اندازمیں سنائی تھی کہ قدآور شاعر سکند رعلی وجد متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اور بڑھ کر گلے لگالیاتھا۔ (انیس جاوید مرحوم) حمیدسہروردی بھی اپنے افسانوں میں شدت سے داخلی حسیت کی طرف مراجعت کرتے ہیں اور اپنی نئی راہ نکالتے ہیں ۔(رؤف صادق ممبئی )،حمیدسہروردی اس لیے قابل قدر ہے کہ انھوں نے اپناراستہ خود بنایا کسی کی تقلید می اپنے قلم کارخ نہیں موڑا (احسن امام احسن)حمیدسہروردی کے افسانوں سے گزرنے کامطلب ایک رومانی کرب سے گزرناہے ۔ خود آگہی ان کے زیادہ ترافسانوں کامحور ہے (شمویل احمد) حمیدسہروردی ایک نمائندہ افسانہ نگار اور نظم گوشاعر ہونے کے علاوہ ایک سنجیدہ نقاد کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے تنقیدی مضامین کامجموعہ ’بین السطور‘جو 1998ء میں شائع ہوچکاہے ۔اس تنقیدی مجموعے کے مضامین اردوفکشن پر مشتمل ہیں جو مصنف کا خاص موضوع رہاہے (ڈاکٹر عبدالباری ، گلبرگہ)
چراغِ نور یادگیر کی یہ خاص اشاعت پروفیسر حمیدسہروردی کی زندگی کے مختلف گوشوں اور ان کے ادبی کام کونمایاں کرتی ہے۔اس خصوصی اشاعت کے بعد ’’چراغ ِنور‘‘ بھی ایک قابل ذکر رسالے کی حیثیت سے سامنے آیاہے۔ ڈاکٹر غضنفر اقبال بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کے تعاون کے بغیر 240صفحات کی خصوصی اشاعت منظر عام پر نہ آتی ۔ جن افراد نے قلمی تعاون کیاہے ،وہ بھی شکریہ کے مستحق ہیں۔رسالے سے متعلق رابطہ کے لئے موبائل نمبر 9110485590 یاپھرای میل آئی ڈی mubeenahmedzakhm@gmail.comاستعمال کرسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ’’چراغِ نور‘‘ کے نائب مدیر محمد کیف حیدری ہیں۔
