مسرت جہاں مسرت

  (مدیرہ سہ ماہی” مشیر عصر”)

جامعہ نگر ، نئ دہلی

ملاقاتیں تو زندگی میں اکثر و بیشتر ہوا کرتی ہیں، کچھ مختصر ہوا کرتی ہیں تو کچھ طویل ۔کچھ اپنوں سے ہوا کرتی ہیں تو کچھ بیگانوں سے ۔اکثر ملاقاتوں کو تو ہم بھول جایا کرتے ہیں مگر کچھ ایسی ملاقات ہوتی ہے جنھیں ہم کبھی نہیں بھول پاتے یا شاید بھولنا ہی نہیں چاہتے ۔کیونکہ وہ دل پر کسی قدر اثر انداز ہوتی ہیں کہ انھیں بھول پانا نا ممکن ہوتا ہے۔

زندگی کی وہ ملاقات ایک چبھن بن کر ہمیشہ ساتھ رہتی ہے۔رفتہ رفتہ ہمیں اس چبھن کی عادت ہو جاتی ہے ۔اس چبھن کے ساتھ جینے کے ہم عادی ہو جاتے ہیں ۔

مجھے بھی یاد ہے تم سے وہ پہلی ملاقات جب میری خالہ جو مجھے جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہیں ۔ انھوں نے مجھ سے تمھارے رشتے کا ذکر کیا۔میں منع کرتی رہی مگر خالہ کے شدید اسرار کرنے پر میں رضامند ہو گئ۔ آپ سے ملاقات ہوئ ۔۔۔چہرے کے تاٹرات بتا رہے تھے کہ آپ اس ملاقات سے مطمئین اور خوش تھے۔کیا میں خوش تھی ۔۔۔۔؟نہیں جانتی تھی ۔مگر میرے گھر کے تمام افراد جو کہ آپ سے پہلے ہی مل چکے تھے۔آپ سے اتفاق رکھتے تھے ۔۔اور سب نے یہی رائے قائم کی تھی ، آپ میرے لئے ایک بہتر شوہر ثابت ہونگے ۔۔اور آپ نے بھی کوئ موقع نہیں چھوڑا تھا انھیں یقین دہانی کا۔۔۔کہ آپ ایک نہایت پاکیزہ شخصیت کے مالک ہیں دھوکہ و فریب سے آپ کا دور دور تک کوئ تعلق نہیں ۔کسی کا برا کرنے یا چاہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔۔آپ کے بارے میں سن کر یہ خیال ذہن میں ابھرا کہ کیا واقعی لوگ اتنے اچھے اور سچے بھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔؟ یا پھر ۔۔۔؟۔۔۔زیادہ سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔اس سوال کو ذہن سے درکنار کیا۔۔۔

ملاقات کے دوچار دن ہی گزرے تھے کہ آپ کے میسیج آنے لگے اور ہر سطر میں یہی اظہار ہوتا کہ "میں آپ کو بہت خوش رکھونگا۔۔۔۔زندگی کی تمام خوشیاں دونگا ۔۔۔ہم دونوں اپنی زندگی بہت سمجھداری سے بسر کرینگے ۔۔۔۔آخر کار ہم میچیور ہیں ۔خلوص اور اپنائیت دیکھ کر میرا دل بھی آپ کی طرف مائل ہو گیا۔۔۔۔آپکی باتوں نے مجھے زندگی کو ایک الگ نظرئے سے دیکھنے کا حوصلہ دیا۔۔اب شاید میں پوری طرح آپکے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے تیار تھی۔۔۔۔رفتہ رفتہ میرے دل میں بھی آپ کے لئے خاص جگہ قائم ہو گئ۔۔۔آپ نے جلد از جلد شادی کی تاریخ مقرر کروائ۔

گذشتہ چاربرسوں قبل میری شادی شاہ زیب نام کے ایک امیرترین شخص سے ہوئ تھی۔جو بڑا ہی سخت مزاج اور ظالم تھا۔۔۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ شادی کے بعد زندگی میں بہار آ جاتی ہے مگر میری زیست تو جہنم ہی بن گئ۔میرے شوہر نے مجھ پر وہ مظالم کے پہاڑ توڑے کہ مجھے لگنے لگا کہ جہنم میں سکون مل سکتا ہےمگر اس شوہر کے یہاں نہیں۔مگر سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتی رہی۔تربیت کا اثر خون میں شامل تھا۔ میری زندگی اس ناقابل برداشت ظلم کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔ظلم و ستم سہتے سہتے بیماریوں کی ایک لمبی قطار سے میرا واسطہ پڑنے لگا۔اور اسی بیماری کی حالت میں اس ظالم بے وفا شخص نے مجھ سے اپنا دامن چھڑا لیا۔میں ساکت سی رہ گئ۔یہ کیا ہو گیا۔۔؟ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ہوش و حواس تھے کہ ساتھ دینے کو تیار نہیں تھے۔” میں دوسری شادی کرونگا” ظالم شوہر کے یہی الفاظ کانوں میں گونجنے لگے۔میری آنکھوں کے سامنے پورا تاریخی منظر ناچنے لگا۔ سوچوں میں گم تھی اور آنکھیں بھر آئیں تھیں۔فبیہا نے آکر مجھے جھنجوڑا ۔۔۔۔۔۔کہاں گم ہو اپی۔۔۔۔؟ مت یاد کرو اس ظالم شخص کو جو تمھارے قابل ہی نہیں تھا۔جس کو تمھاری کوئ قدر نہیں تھی۔اب اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو۔اس رب کائنات میں نیک دل لوگ بھی موجود ہیں جیسے کہ عادل بھائ ۔پروقار شخصیت کے مالک،ذہین،خوبصورت اور خوش مزاج ۔مجھے پورا یقین ہے آپی !! عادل بھائ اپ کو بہت خوش رکھیں گےماضی میں جتنے غم سہنے تھے آپ نے سہ لئے۔اب عادل بھائ آپکو کبھی کوئ غم نہیں دیں گے۔یہ کہتے ہوئے اس نے مجھے دلاسے دئے۔مگر نہ جانے کیوں میرے دل میں مدھم سی ایک خلش تھی ۔۔۔۔کہیں اس بار بھی۔۔۔۔۔؟فبیہا نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔۔۔۔۔آپی اب زیادہ مت سوچیں۔۔۔۔۔خدا پہ بھروسہ رکھیں۔۔۔۔۔۔۔وہ سب بہتر کرینگے۔

اب جلدی تیار ہو جاؤ خالہ کے گھر جانا ہے۔انھوں نے بلوا بھیجا ہے ۔شادی کی باقی تیاریاں کرنی ہیں۔

وقت کو جیسے پنکھ لگ گئے تھے۔بہت تیزی سے پورا ہفتہ گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔بس دو دن ہی باقی رہ گئے تھے۔۔۔۔۔آپی تم بھی اپنے گھر چلی جاؤگی ۔۔۔۔ہاں فبیہا۔۔۔میں بھی چلی جاؤنگی۔۔۔بہت یاد آؤ گی۔گھر کے تمام افراد تمھیں بہت یاد کریں گے۔امی کے جانے کے بعد تم نے ہم سب کو سنبھالا ہے۔تم ہم سب سے دور جا رہی ہو مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ عادل بھائ جیسا نیک سیرت شخص تمھارا شوہر ہوگا۔۔۔۔فبیہا چہک چہک کر ان کی باتیں سنانے لگی جو کچھ ایک دو ملاقاتوں میں عادل سے گفتگو کے دوران ہوئ تھی۔۔۔اور شرارت بھری نظروں سے میری طرف دیکھتی اور میں شرما کر نظریں جھکا لیتی۔۔۔۔۔پوری فضا خوشگوار ماحول میں تبدیل ہو چکی تھی۔

صرف دو دن ہی باقی بچے تھےکہ اچانک میرے موبائل پر عادل کا میسیج ایا۔”میں آپ سے نکاح نہیں کر سکتا۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں مجھے معاف کر دیجئے” میسیج پڑھ کر میں ساکت سی رہ گئ اور خاموشی سے گھر کے کسی کونے میں جاکر بیٹھ گئ ۔۔۔۔زبان خاموش ہو گئ اور لفظوں نے جیسے آپس میں جگھڑا ہی کر لیا ہو۔۔کیا کہوں ۔۔۔۔؟ کس سے کہوں کہ میرے نصیب نے ایک بار پھر مجھے دغا دی۔۔۔۔آپی !!! یہاں کیوں بیٹھی ہو۔۔۔؟وہ بھی اتنے اندھیرے میں۔پورے گھر میں تم کو تلاش کرتی پھر رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔فبیہا نے جھنجلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔میں نے محروم اور آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا ۔۔وہ سٹپٹا گئ ۔۔۔۔کیا ہوا آپی۔۔۔۔؟ کچھ تو بتائیں۔۔۔آپکو خدا کا واسطہ ۔میں نے فبیہا کی جانب موبائل بڑھا دیا۔۔۔۔گھر کے سارے افراد جمع ہو گئے۔۔۔۔والد کو دیکھ کر تو میرا ضبط بھی ہار گیا۔۔۔۔پھپک پھپک کر رونے لگی۔۔۔۔کسی کے کوئ دلاسے کوئ تدبیریں کام نہیں آرہی تھیں۔۔۔۔۔

رفتہ رفتہ دن گزرنے لگے۔میرا آج اب ماضی میں تبدیل ہو گیا۔مگر دل میں اس کا دیا ہوا غم بیٹھ گیا۔ جہاں غمگسار کوئ نہ تھا۔اور نتیجہ یہ ہوا کہ میں اداسیوں کے جنگل میں کھو گئ۔اور وہ لمحہ بھی قریب آ گیا جب اس دنیا سے الوداع کہنے کو تیار تھی۔مجھے نروس بریک ڈاؤن کے دورے پڑنے لگے۔جینے کی اب کوئ خواہش ہی نہیں تھی۔ طبیب نے بھی حالت میں کوئ سدھار نہ دیکھ کر جواب دے دیا۔اور خوش رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔چند روز اور گزر گئے۔

فبیہا۔۔۔۔آپی باہر دیکھئے۔۔۔کتنی سیاہ گھٹائیں چھائ ہوئ ہیں۔ایک عجیب سا سنناٹا پسرا ہوا ہے۔۔خوف آتا ہے ۔۔۔بجلی ادھر سے ادھر کوند رہی ہے ۔مانو جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو۔ہوائیں کس قدر تیز چل رہی ہیں۔۔۔۔ہوا نہیں فبیہا ۔۔۔یہ طوفان ہے ۔میں بستر پر لیٹی ہوئ فبیہا کی باتوں کا جواب دے رہی تھی۔۔۔۔اچانک ہی سانسیں اکھڑنے لگیں۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔فبیہا ۔۔۔۔کیا ہوا اپی۔۔۔؟ "فبیہا میری ملاقات ادھوری رہ گئ”اور اوپر کی جانب نظریں اٹھائیں اور رب سے کہنے لگی ۔۔۔اب برداشت نہیں ہوتا ۔میرے مولا مجھے اپنے پاس بلا لے۔یہ کہتے ہی آنکھیں بند ہو گئیں اور سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئ۔فبہیا چیخ اٹھی۔۔۔گھر کے تمام افراد اس کے ارد گرد گھیرا بنائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔

 لوگ کیوں دیتے ہیں دھوکہ فریب کسی معصوم کو۔۔۔۔کیوں کسی معصوم کو جھوٹی امید بندھا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔جب زندگی بھر ساتھ نہیں دے سکتے تو جھوٹے وعدے کیوں کرتے ہیں جھوٹی امیدیں کیوں بندھواتے ہیں ۔کبھی نہ پورے ہونے والے خواب کیوں دکھلاتے ہیں۔۔۔کیوں۔۔۔۔؟اور پھر اس بے گناہ کے پاس موت کو گلے لگانے کے علاوہ کوئ راستہ ہی نہیں بچتا۔۔۔

ہم بصد ناز دل میں بسائے بھی گئے

پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے