محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک
۱۔ٹیکنالوجی
ٹیکنالوجی نے ملکی سرحدیں مسمارکردی تھیں ۔ اس ٹیکنالوجی کولے کر مجھے دِلوں کو جوڑنا نہیں آیا۔ اس میں میری تساہلی کازیادہ دخل رہا۔آپ تو دلوں کوجوڑنے کے کام پر لگے ہوئے ہوں گے۔آپ میر ی طرح ادھیڑ عمر توہیںنہیں ۔ نوجوان ہیں نا۔
۲۔ سینکڑوں جانور
محکمہ پولیس ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ اسلئے قربانی کے سینکڑوں جانور پکڑ کر گاؤ شالہ بھیج دئے گئے تاکہ ان کی حفاظت ہوسکے۔ سناہے کہ ان جانوروں میں سے آدھے جانور گاؤشالہ والوں نے خاموشی کے ساتھ الکبیر جیسی ایکسپورٹ کمپنی کوفروخت کردئے تھے ۔شومئی قسمت کہ وہ جانوربھی پولیس نے راستے میں دھر لئے۔
۳۔ سمٹی ہوئی قربانی
جب تک والدین زندہ رہے گھر میں قربانی کے جانور ذبح کئے جاتے تھے۔خون بہایاجاتاتو احساس ہوتاکہ اللہ تعالیٰ کو عید کے دن جانورکا خون بہانا پسند ہے اور ہم خون بہارہے ہیں۔ جب ذبح کئے گئے جانور کے ٹکڑے ہوتے اورہم وہ گوشت لے کرگھر کے اندر آتے جاتے تو بڑالطف آیاکرتاتھا
۔ اب لیکن جٹھانیوں اور دیورانیوں کاراج ہے۔
آج کل قربانی کے جانور مذبح خانہ میں کٹتے ہیں، جنہیں کوئی دیکھنے بھی نہیں جاتاالا ماشاء اللہ۔ گوشت خود بخود گھر آجاتاہے۔ جس کو ہاتھ لگانا بچوں کومنع ہے کیوں کہ ہاتھ میںگوشت کی بوہوجائے گی۔ البتہ حصہ کئے گئے گوشت کو رشتہ داروں میں بانٹ آنا بچوں کی ذمہ داری ہے۔یعنی صاف ستھرا گوشت بانٹنے تک قربانی سمٹ آئی ہے۔
۴۔ صبح کی خاموشی
رشتے بلاوجہ اگر ٹوٹ جائیں تو اس میں وجہ تلاشنا دراصل بھوسے میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہوگا لہٰذ ا خاموش ہوجائیں۔صبح کی خاموشی برکتیں لاتی ہے۔ اسی طرح صبح کی خاموشی بن جائیے گا
۵۔ رونے والا فردل
فردل میاں نے محسوس کیاکہ اتحاد بہت ضروری ہے ۔ متحد رہنے میں بھلائی ہے ، برکت ہے۔ چوں کہ پوری قوم منتشر رہنے کو اپنی ضرورت سمجھتی تھی ، وہ بھی ساری زندگی منتشر ہی رہے۔ کبھی اچانک اتحادواتفاق سے رہنا بے حدضروری ہواتب بھی قوم کا اپنے انتشار پرمستحکم رہنا انھیں رونے پر مجبور کرتاتھا۔
