کشی نگر ( نمائندہ): پڈرونہ شہر کی ادبی تنظیم رنگ سخن کے تحت شاستری نگر نوکا ٹولہ پڈرونہ میں محمد ارقم کے رہائش گاہ پر 8/بجے شب مبارک پور کی سر زمین سے تشریف لائے ہوئے مشہور و معروف شاعر جناب فراز ادیبی کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا انعقاد ہوا ۔
اس نشست کی صدارت متعدد مشاعروں کے کنوینر رہے جناب ڈاکٹر عرشی بستوی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض نوجوان شاعر وقار واحد نے انجام دیئے ۔پروگرام کی سرپرستی بزرگ عالم دین استاذ الشعراء مولانا امیر الدین فائز کشی نگری فرما رہے تھے نشست کے مہمان خصوصی مولانا رفیع الدین رفیع نعمانی مہراجگنجی رہے نشست میں شال اور پھولوں کی مالا پہناکر اعزاز بخشا گیا
پسندیدہ اشعار قارئین کے نذر ہیں
آگ سے کھیلنا کوئی مشکل نہیں
سخت مشکل ہے حق بات پر بولنا
عرشی بستوی
پہلے وہ الفاظ اپنے تولتا ہے
ایک دانشمند تب پھر بولتا ہے
عبد الحمید آرزو
پھوٹ جاتے ہیں یہاں پیر کے چھالے اکثر
راستہ تب کہیں آسان ہوا کرتا ہے
وقار واحد
جس کو بھی سیراب کرنا ہے کرے
ہر سمندر ہر ندی ہے آپ کی
لیاقت علی جوہر
ایک بے بس کہہ رہاتھا یہ امیر شہر سے
زندگی کی راہ میں مجبوریاں ایسی نہ تھیں
امیر الدین فائز
بہا دیتے ہیں ہم اپنے لہو کا ایک اک قطرہ
مگر ظالم حکومت کی طرف داری نہیں کرتے
فراز ادیبی مبارک پوری
تقسیم اگر حسن کی خیرات نہ ہوتی
دامن میں میرے پیار کی سوغات نہ ہوتی
جاوید سرور کشی نگری
شعر گوئی کا زمانہ جانے کب کا جا چکا
آجکل کی شاعری میں گیت گانا چاہیے
رفیع نعمانی
روشنی کرنی ہے ہم کو مگر اس شرط کے ساتھ
اب کسی اور کے گھر کا نہ اجالا جائے
ارشد سفیر
اسلم کی ہر بانی اسلم
میٹھی کردے شیتل کردے
اسلم نظامی
کوئی چپکے سے مرے دل میں صدا دیتا ہے
غم تنہائی مـیں مجھ کو وہ رلا دیتا ہے
نورالدین نور
مدت کے بعد آج وہ محفل میں آئی ہے
جی بھر کے دیکھ لینے میں پھر کیا برائی ہے
شہزادہ سلیم
نشست کا اختتام 12/بجے شب میں ہوا پروگرام کے کنوینر شاعر جاوید سرور پڈرونوی نے مہمانوں اور سامعین کا شکریہ اداکرتے ہوئے زبردست ضیافت کی۔
