کرشنا نگر نیپال: بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کی پرواز AI171 کو پیش آنے والا قیامت خیز فضائی حادثہ نہ صرف بھارت بلکہ پورے برصغیر کے لیے ایک المیہ بن کر سامنے آیا ہے۔ حادثے میں اب تک 133 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں اور متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

بوئنگ 787-8 ڈریملائنر طیارہ، جس میں مجموعی طور پر 242 افراد سوار تھے، احمد آباد سے لندن کے لیے روانہ ہوا تھا۔ پرواز کے چند ہی منٹ بعد یہ طیارہ میگھانی نگر کے ایک گنجان آباد علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا، جس سے نہ صرف طیارہ مکمل طور پر خاکستر ہوا بلکہ قریبی عمارتیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

فلائٹ میں سوار افراد میں 169 بھارتی، 53 برطانوی، 7 پرتگالی اور 1 کینیڈین شہری شامل ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ گجرات وجے روپانی بھی اسی پرواز میں سوار تھے، جو افسوسناک طور پر حادثے کا شکار ہو گئے۔

فلائٹ ریڈار کے مطابق طیارے نے جیسے ہی 625 فٹ کی بلندی پر پرواز کی، اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے اچانک منقطع ہو گیا۔ فوری طور پر ایمرجنسی کال کی گئی، مگر طیارے سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔

ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور متاثرین کو نکالنے اور زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ سانحہ نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر ہوابازی کی صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کا سفارتی اور انسانی ہمدردی پر مبنی بیان

اس المناک حادثے پر راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کی جانب سے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا ہے۔

تنظیم کے صدر ڈاکٹر عبدالغنی القوفی نے کہا:

’’احمد آباد طیارہ حادثہ ایک انسانی المیہ ہے، جس میں قیمتی جانوں کے ضیاع نے پوری انسانیت کو غمگین کر دیا ہے۔ ہم اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ انہیں صبر اور حوصلہ دے اور ان کے پسماندگان کو بہتر بدلہ عطا فرمائے۔‘‘

تنظیم کے جنرل سیکریٹری مولانا مشہود خاں نیپالی نے کہا:

’’یہ حادثہ ایک گہرا صدمہ ہے جو صرف بھارت یا کسی ملک تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک کٹھن آزمائش ہے۔ راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو شفا دے اور تمام متاثرین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔‘‘

راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال نے اس سانحے کو انسانی ہمدردی، اتحاد اور صبر کا پیغام سمجھتے ہوئے تمام طبقات سے دعا اور متاثرین اور ان کے پسماندگان سے اظہار یکجہتی کی اپیل کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے