ظہیرآباد 13جون (مشرقی آواز جدید): تلنگانہ کی ریونت ریڈی کی زیر قیادت کانگریس کی کابینہ میں مزید کسی تاخیر کے کسی ایک مسلم لیڈر شامل کرنے اور پارٹی کی سیکولر امیج کر برقرار کھنے کی مانگ کے ساتھ آج مسجد عائشہ ظہیرآباد سے مصلیوں بعد نماز جمعہ ایک جلوس نکالا۔اس جلوس کی قیادت آل انڈیا صوفی علما کونسل’ ہومین رائٹس اسوسی اْشن ٰ ٹیپو کرانتی سینا اورفروٹ اسوسی ایشن کے کل آئمہ موذنین ‘مختلف یونینوں کے صدور بشمول کانگریس پارٹی کے اقلیتی قائدین نے مشترکہ طورپر کی۔جلوس میں شامل مصلیوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی مرحون منت ہے جس کا خود چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور کانگریس ہائی کمان نے واضح طور پر اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کاکہا کہ تلنگانہ دکن کی سرزمین کا ایک اہم ترین علاقہ ہے جہاں مسلمان کی زائد از ساڑے آٹھ سال تک حکمراں رہے ایسے علاقہ میں قائم شد ریاستی کابینہ میں مسلمانوں کی عدم نمائندگی ان کی تذلیل کے مترادف ہے۔جلوسیوں نے کانگریس کی اعلی قیادت ملک کاارجن ‘ سونیاگاندھی’ راہول گاندھی اور پرینکاگاندھی سے مانگ کی کی وہ ریاست کی قیادت کا مسلمانوں میں پھیلی بے چینی کے ازالہ کیلئے فوری طور پر ریونت ریڈی کابینہ میں مسلم کو یقینی ببنانے کی ہدایت دیں۔ انہوں نہ کہاکہ ریاست میں مسلمانوں کا تناسب 13فیصد ہے کل آباد کے دوسر ے بڑے طبقہ کو نمائندگی محروم رکھنا خلاف انصاف بات ہے جس کو مسلمان برداشت نہیں کرسکتے۔ انہیں یہ امید تھی کہ حالیہ توسیع میں انہیں موقع دیا جائے گا جیسا کہ پارٹی کے قومی قائدنے انتخابات کے ایام میںجس کی جتنی آباد اس کی اتنی بھاگے داری کاوعدہ کیا تھا ۔ انہوں نہ کہاکہ کابینہ میں مسلم وزیر نہ ہونے سے مسلمانوں کے پیشتر مسائل کی یکسوئی میں سخت مشکلات کاسامناہے ۔انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہارکیا کہ ریاست میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعدمسلمانوں پر فرقہ پرستوں کے حملوں میں اضافہ ہواگیا۔جس کو عام طور ماب بلیچنگ کہاجاتا ہے ایسے نقص امن کے اقدامات پر سخت کاروائی کرنے کی ضرورت ہے ریاست کرناٹک میں کانگریس حکومت مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے مسلمانوں کوکابینہ میں اہم ترین وزراتیں دی ہے جو قابل ستائش اقدام ہے ۔ جلوسیوں نے کہا کہ ملک ہر شہری کو اپنے اپنے مذاہب عمل کرنے کاحق ہے جس کی ہمارے دستورنے ضمانت دی ہے مگر شرپسندوں وفرقہ پرست عناصر اور مٹھی بھر غنڈوں کو یہ نہیں بھارہا ہے جو کسی نہ کسی طریقہ سے ماحول کومکدرکررہے ہیں اور ارباب اقتدار بروقت ان کی سرکوبی سے قاصر ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو نامزدہ عہدودوں پر فائز کیا جائے ظہیرآباد میں مسلم آباد ی کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی حرکیاتی مسلم لیڈر کو ا ٹاون صدر کانگریس پارٹی کو نامزدہ کیا جائے جس طریقہ سے آنجہانی وائی ایس وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںتمام طبقات مذاہب کی عوام کو یکساں لئے کر انصاف سے حکومت کررہے تھے اسی طریقہ سے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ‘راج شیکھر ریڈی کی طرز پر حکومت چلائیں انہیں راج شیکھر ریڈی کی طرح یاد رکھاجائے گا ۔اس مواقع پرمولانا مجیب کتوری صدر ائمہ موزنین محمد یوسف شریف صدر آل انڈیا صوفی علما کونسل محمد ایوب خان سیلم شاہ سید حسین آحمد’ محمد اسماعیل محمد فیاض ‘مسعود علی ملنگ’ مد عمر محمد قمراور مصلیوں کی بڑی تعداد موجودتھی۔۔۔۔
