محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
تینوں بیٹیوں نے گھر میں داخل ہوتے ہی کہا ’’ابو، ابو، ہم تینوں مسز سیٹھی سے مل کر آئے ہیں۔ انھوں نے کنڑی کہانیوں کی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیاتھا، اس کتاب پر بین الاقوامی ایوارڈ ملاہے۔ہم نے انھیں شال اوڑھائی ، مٹھائی کھلائی اور مبارک باد دی۔ مسزسیٹھی بہت سیدھے مزاج کی ہیں۔ ان کی باتوں سے لگتاہے انہیں اسلام میں بے حد دلچسپی ہے ‘‘
والد نے تینوں دختران کے سوشیل کام کو سراہتے ہوئے کہا’’سنومیری لاڈلیو، لوگوں کی خوشی میں خوش ہونے اوران کے غم میں غم زدہ ہونا اسلامی تہذیب ہے۔ تم نے مسزسیٹھی کی خوشی میں ان کے گھر پہنچ کر شال اوڑھائی اچھی بات ہے۔ اور اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ مسز سیٹھی اسلام میں بے حد دلچسپی رکھتی ہیں۔ مگر۔۔۔۔’’والد خاموش ہوگئے۔ چھوٹی دختر رضوانہ ماہین نے فوراً پوچھا ’’مگر کیاابو؟‘‘
والد نے تینوں بیٹیوں کے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا’’مگریہ کہ ۔۔۔۔تم تینوں ان سے دریافت کرتیں کہ اب تک انھوں نے کتنی اسلامی کتابیں پڑھی ہیں ؟‘‘
بڑی دختر رخسانہ نوشین نے کہا’’میں نے پوچھا تو بتایاکہ 100سے زائد اسلامی کتابیں پڑھ چکی ہوں ‘‘
والد کاچہراتمتمااٹھا۔ انھوں نے کہا’’پھر تو تم ان سے پوچھ لیتیں کہ کتنی تعمیری کہانیوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیاہے ؟‘‘
منجھلی دختر عروسہ شبانہ نے اپناہاتھ اٹھاتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا’’ابو جی ، وہ کہہ رہی تھیں کہ تعمیری کہانیاں خیالی کہانیاں ہوتی ہیں،خیالی کہانیوں کاترجمہ کرنا خود کو ضائع کرناہوتاہے ‘‘
والد کا تمتماتاہوا چہرا جیسے بجھ ساگیا، انھوں نے تھکے تھکے لہجے میں کہا’’بیٹیو! ان ہی کہانیوں کوبین الاقوامی ایوارڈ ملتاہے جو باضابطہ طئے شدہ ہدف کے دائرے میںآتی ہیں۔ ایجنڈا پوراہوتاہوانظر آتاہے تو بین الاقوامی ایوارڈ دے دیاجاتاہے ‘‘
اتنے میں نوکرانی نے چائے لاکر رکھ دیا ۔ چائے پیتے ہوئے چاروں خاموش تھے۔ پھر والد نے اس خاموش کو توڑتے ہوئے کہا’’ مسز سیٹھی کو میں جانتاہوں ، پندرہ سال پہلے وہ ہمارے پڑوس میں رہتی تھیھں۔ انھوںنے ان ہی کہانیوں کاترجمہ کیا ہے جو مسلم معاشرے کو بدنام کرنے کے لئے لکھی گئی ہیں۔ ایسی کہانیوں کی مترجم مسز سیٹھی کو تم تینوں بیٹیوں نے جاکر شال اڑھائی ۔بیٹیو، میری لاڈلیو، زندگی میں جوش کے بجائے ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ‘‘
تینوں بیٹیوں نے اپناسرجھکالیا۔ وہ افسوس کررہی تھیں کہ مسلم معاشرے کے خلاف ایک ایجنڈا کے تحت ترجمہ کی گئی کہانیوں کی ایوارڈ یافتہ خاتون کو انھوں نے تہنیت پیش کی۔
