محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک 

۱۔ زندہ اور تابندہ 
وہ ایک سچی ماں تھی اور اپنی لڑکیوں کے لئے پوری طرح وقف تھی۔ انھیں لوریاں سنانے، کھلونوں سے کھیلنے ، کھانا بنانے ، پڑھنے اور شادی کے بعد کی زندگی کو بہتر کروانے تک وہ مشغول رہی۔ اور جب تمام جسم نے جواب دے دیا ، تب بھی اس کی بیٹیاں آتیں ، رازہائے دل کہتیں اور اپنی ماں سے زندگی کی بابت پوچھتی رہتیں ۔ وہ دل کے نہ چاہتے ہوئے بھی اوربیمار جسم کے تقاضوں کو پیچھے ڈالتے ہوئے اپنی لڑکیوں کی رہنمائی کرتی۔پھرایک دن وہ دنیا سے اسی حالت میں گزرگئی۔
سب سے زیادہ لڑکیوں نے اپنی ماں کی کمی محسوس کی ۔ تاہم اس کی لڑکیوں کی زندگی آج اس کے بغیر چل رہی ہے۔ زندگی کاکارواں چلتارہتاہے ، اسی لئے شاید یہ کارواں زندہ اور تابندہ ہے۔
۲۔ غائب 
ہرطرف جنگ وجدال ہورہی تھی ۔ اور مصنف سوچ رہاتھاکہ کیالکھے ؟ زبانِ حال سے پوری دنیا جو کچھ کہہ رہی تھی کہہ رہی تھی ۔ اسکے پاس اس دنیا سے کہنے کے لئے کچھ نہیں بچاتھا۔ وہ سوشیل میڈیا اور اخبارورسائل سے غائب ہوگیا ۔
۳۔ لائن کٹ گئی 
’’صدر بولیں ، نکولڑورے ، کئیکو لڑریں ‘‘فون پر کہاگیا۔ یہودی وزیرخارجہ نے کہا’’صدر ِچ بولے تھے، لڑنے کے لئے ، اب کئیکو ہماکو منا کرریںکی؟‘‘یہودی وزیر خارجہ کے ہم منصب کو غصہ آگیا ۔ انوں بولے ’’تے کُو اقل ہے رے،صدر کئیکو لڑنے کو بولیں گے ؟ تم لوگاں کوغزہ پر حملہ کرکو مستی ائی اے ۔ مسلم ملکاں پواب اور بھی حملے کرنا چاہ ریں شایدتم بے اقل لوگاں ۔ اسی لئے صدر صاحب اور جنگ کرنے سے منا کررِیں ‘‘دوسری جانب سے کچھ لوگوں کے باتاں ہوتے رہے ۔ پھر آوازائی ۔’’ ہلو ۔۔۔۔تل ابیب اور حیفا کی تباہ شدہ بلڈنگاں کے منظر دیکھیایانئیں دیکھیا؟یاکون سے بنکر میں چھپ کو بیٹھے، جہاں ٹی وی بھی نئیں ہے شاید ‘‘یہودی وزیر خارجہ صرف سر، سر ہی کہہ سکا۔ اس کاہم منصب دوسری جانب سے بولا’’تم لوگاں بھؤت دماغ والے کَتے نارے ؟دوچار دِن اور جنگ چلی تو تماری خستک تک پھٹ کو جاتی اے ۔ تم میں سے لاکھوں مرجاتیں رے ، اب جان بچانے اور عزت بچانے کاوقت آگَئْے ۔ اسلئے جنگ بندی کرکو عزت بچالیو ، صدر صاب بول ریں ، فوری جنگ بندی کرلیو‘‘وہ جی سر، اچھاسر کہتارہا۔ اور لائن کٹ گئی(واضح رہے کہ یہ ایک دکنی افسانچہ ہے)
۴۔ ایک مکتوب 
محترم ومکرمِ رجسٹرارصاحب۔۔۔ ۔۔۔۔۔آداب ، سلام ورحمت !!!
حکومت کے اُردو پروگرام وقت پر شروع نہ ہونے پر آپ نالاں ہیں۔ یہ خوبی آپ کو ایک بڑا انسان بنائے گی ، واقعی آپ کے احساسات اہم ہیںمگر۔۔۔۔!!!چوں کہ آپ حکومت سے وابستہ ہیں، سرکاری افسر ہیں۔اُردو اکادمی کے رجسٹرار کے عہدے پرفائز ہیں۔ یہ بتائیے کہ اکادمی کے اُردوپروگرام کو چھوڑکر ریاست کی سرکاری زبان کے کون سے اداروں کے پروگرام وقت پر شروع ہوتے ہیں؟
تین دن پہلے آپ ریاستی سرکاری زبان کے ایک پروگرام میں مجھے نظر آئے ۔ یہ وہ پروگرام تھا جس کاوقت 9؍بجے دن دیاگیاتھا۔گیارہ سوا گیارہ بجے دن پروگرام شروع ہوا۔ یہ واقعہ آپ اچھی طرح اس لئے جانتے ہیں کیوں کہ آپ وہاںپروگرام شروع ہوتے وقت یعنی گیارہ سواگیارہ بجے آپ کے محکمہ کے وزیر محترم کے ساتھ تشریف لائے تھے۔
وزیراعلیٰ ، وزیرتعلیم ، وزیر ٹرانسپورٹ اور دیگر وزراء کاپروگرام کبھی بھی وقت پر شروع نہیں ہوا۔ یہ ایک تاریخ ہے (تاخیر سے پروگرام شروع کرنے کی تاریخ ) لہٰذاصرف اُردوکے پروگراموں کو دوش دینا ،اُنھیں ہی قصوروار قرار دینے کے بجائے ہمت کریں اور حکومت کو دوش دیں، وہ حکومت جس کا ایک ستون آپ جیسے قابل ،گورے چٹے اور چشمہ لگانے والے افسربھی ہیں۔چوں کہ آپ اُردو اکادمی کے رجسٹرار ہیں تو حالات پر نظر رکھتے ہوئے اردو پروگراموں کے ساتھ انصاف کریں اورکوئی سامع وقت پر آئے یانہ آئے آپ اردو کے پروگرام وقت پر شروع کردیں ۔ شکایت ختم ہوجائے گی۔ گویامسئلے کا حل خود آپ کے ہاتھ میں ہے۔
یہ مکتوب لکھنے میں مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہوتو اس کو میری غلطی نہ سمجھتے ہوئے اپنی اِصلاح فرمالیں۔ اور اگرآپ ایسا نہ بھی کریں تو میں بیچارا کیاکرسکتا ہوں؟ اتنا سمجھ لوں گاکہ وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سرکاری اُردو اداروں کے افسران پر رحم فرمائے ۔ عقل سلیم کے ساتھ ساتھ قلب سلیم بھی عطاکرے۔آمین
خاکسار
    دلیل حسین مدلّل  ؔ
   (اُردو شاعراور نقاد )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے