محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک 

۱۔منافقانہ قصہ 
اس شہر میں پیسہ بہت ہے کیا؟ جی ہاں ۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر فنون ِ لطیفہ اس قدر تباہ شدہ حالت میںکیوں ہے ؟ شاعری اور اصنام پرستی سے اس شہر کے لوگ دلچسپی جتلاتے ہیں لیکن ان کی ترقی کے لئے جیب سے پیسہ نہیں نکلتا؟آخر یہ منافقانہ قصہ کیاہے ؟
۲۔فیکٹری اور قبرستان 
اس کا بہت بڑا کاروبار تھا۔ اور وہ پھیلتاہی جارہاتھا۔ ایک دفعہ جب وہ ایک اور فیکٹری خرید رہاتھا، تب اس کی قریب البلوغ بڑی دختر نے پوچھا ’’ابو،یہ دسویں فیکٹری ہے ناجو ہم خرید رہے ہیں ‘‘ اس کے ابو نے محبت بھری نظر بیٹی پر ڈالی اور کہا’’جی گڑیا ماں ، یہ ہماری دسویں فیکٹری ہوگی‘‘بیٹی پھر خاموش ہوگئی ۔اس نے بیٹی کی خاموشی کو محسو س کرتے ہوئے پوچھا ’’کیا بات ہے گڑیاماں ، خاموش کیوں ہوگئی ہو؟‘‘اس کے اصرار پر بیٹی نے کہا’’میں سوچ رہی تھی ، ایک قبرستان بھی ہم خرید لیں تو اچھارہے گا’’وہ کیوں ؟‘‘بیٹی سے سوال کیاگیا۔ بیٹی نے ہچکچاتے ہوئے جواباً کہا’’ داداابوکو عوامی قبرستان میں جگہ ملی ، دادی بھی فریش ہیں، کیا ہم اپناقبرستان نہیںبناسکتے؟ ‘‘وہ جانے کیاسو چ رہاتھا۔
۳۔ انسانی بنیاد
وہ وہاں سے نکل آیا۔ کئی سال بعد اس کے پاس ایک کال آئی ۔واپس آنے کے لئے کہاگیا۔ وہ انسانی بنیادوں پر واپس چلاگیا۔
۴۔یہی کچھ احساس  
پھول کھلتے جارہے تھے۔ راہ معطر ہورہی تھی ۔دونوں کواپنے اپنے ساتھی کی اہمیت کااحساس ہوا۔ مرد ساتھی نے کہا’’پھول کھلنے کااحساس ہورہاہوگا،دراصل پھول نہیں کھل رہے ہیں بلکہ میں کِھلتا جا رہاہوں۔ میرے روم روم سے عطر نکل کر راہ کومعطر بنارہاہے ‘‘ خاتون ساتھی نے نیم غنودہ لہجے میںکہا’’جی ، یہی کچھ احساس میرابھی ہے ‘‘
۵۔ آبائی قبرستان 
  وہ اپنے بچوں کوبہت چاہتاتھا۔ اورجب بچے بڑے ہوئے تو اس کواحساس ہواکہ بچوں کی زندگی میں اس کاوہ مقام نہیں ہے ، جیساکہ ایک باپ کا ہونا چاہیے۔تاہم وہ مایوس نہیں ہوا۔ اپنے جگری دوست سے کہنے لگا’’یار، بچے ابھی بالغ نہیں ہوئے ۔ کچھ بچے ٹھوکریں کھاکر بالغ ہوتے ہیں۔ میرے بچوں کے بچے ہوجائیں گے اور جب وہ انھیں پال پوس کر بڑا کریں گے تب انھیں احساس ہوگاکہ باپ کیاچیز ہوتاہے اور بچو ں کی زندگی میں باپ کامقام کیاہوتاہے ؟‘‘
پھرپتہ چلاکہ وہ شہر چھوڑ کر آبائی گاؤں میں جاکر بس گیا۔وہ دراصل اپنے آبائی قبرستان میں دفن ہونا چاہتاتھا۔
۶۔آخری احساس 
شعور میں آنے کے بعدسے اس کو یاد تھاکہ کسی نے اس کی تعریف نہیں کی۔ پھر جب وہ کہانیاں لکھنے لگاتو اور بھی فضیحت ہونے لگی ۔ وہ ان فضیحتی ملامتوں سے بے نیازادب کی راہوں پرآگے بڑھتاچلاگیا۔ آج جب اس کی میت اٹھی ہے تو مرنے والے کو پتہ ہے کہ قلمکارساتھیوں کے سواکسی نے بھی اس کی ستائش نہیں کی۔ تاہم اس کاآخری احساس یہی تھاکہ ہزاروں بے جا تنقیدوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ رائیگاںنہیں گیا۔اُس کاقلم اس کو زندہ رکھے گا۔
۷۔محبت زندگی 
اس کی زندگی نے اسکو یہی سبق سکھایاتھاکہ ’’محبت ہے تو زندگی ہے ورنہ جہنم کا دہانہ دنیا میں کھلارہتاہے ‘‘
۸۔ حیرت زدگی 
ایک سروے کیاجارہاتھا ،’’ کون کیاکھارہاہے ؟‘‘صحت سے متعلق سروے تھا۔ مختلف افراد سے استفسار کیاگیا۔ موٹرمیکانیک سے پوچھاگیاتو اس نے کہا’’میں روز انہ چاول کھارہاہوں ، کبھی کبھی روٹی بھی کھالیتاہوں‘‘ بہت زیادہ زور دے کر پوچھاگیاتو اس نے سہمے ہوئے کہا’’مجھے گریس اور آئیل کھائے بغیر چارہ نہیں ہے ‘‘ معروف اخبار کا سینئر ایڈیٹر نے بتایاکہ ’’وہ الفاظ کھارہاہے، تاکہ سیاست دان اس کاخیال رکھ سکیں ‘‘سیول انجینئر نے کہا’’ریت ، کنکراور سلاخیں کھارہاہوں ‘‘ بالائی کھانے والے بدنام زمانہ افسر نے صاف کہہ دیاکہ ’’میں دراصل سبھی کوفضلا کھارہاہوں ، یہ حرام زدگی سے میں کب باز آؤں گاپتہ نہیں‘‘ہم لوگ حیرت زدہ رہ گئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے