محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک
۱۔ دلچسپی
صادق بوڑھا ہوگیاہے ، اسلئے اس کے بڑھاپے کے پیش نظر اس تک کچھ نہ کچھ واٹس ایپ کرتارہتاہوں۔ جیسے کوئی لطیفہ،جیسے کوئی پیار اساشعراور کبھی کبھی خوبصورت لیکن چھوٹی سی لڑکی کی تصویر۔۔۔۔ تاکہ اس کو اسکی مرحوم بیٹی یاد آسکے۔ او روہ اس کے حق میں دعا کرنے کے لئے خود کو تیار کرسکے۔ وہ کسی بھی ڈیجیٹل تحفہ پر ری ایکٹ نہیں کرتا اور نہ ہی میرا شکریہ اداکرتاہے۔ جگناتھ بھی میرادوست ہے ، ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی سے انجوائے نہیں کرسکااسلئے وہ ریٹائرمنٹ والی زندگی سے جوجھ رہاہے۔ میں جب کبھی اس کوکوئی چیز پوسٹ کرتاہوں ، وہ اس پوسٹ پر کبھی کبھی ری ایکٹ کردیاکرتاہے۔ اچھے جملے لکھ دیتاہے ۔ ان جملوں میں تنہائی کے احسا س سے زیادہ جئے جانے کی اُمنگ ہوتی ہے۔ایک دن میں نے جگناتھ کو قرآن مجید کی دوآیات کا ریاستی زبان میں ترجمہ بھیج دیا۔ وہ بڑا خوش ہوا اور اس نے مجھے فوراً فون کیا اورپوچھا’’قرآن کہاں ملتاہے ، مجھے پڑھنا ہے ؟‘‘میں اُس کے سوال کاجواب دینے کے بجائے حیرت زدہ تھاکہ آیاکوئی ہندوقرآن پڑھنے میں اس قدر دلچسپی لے سکتاہے کہ فوری فون ہی کرکے قرآن طلب کربیٹھے ؟
۲۔ خریداری
وہ مسلسل دنیا خریدنے میں لگا ہواہے اور میں ہوں کہ ۔۔۔۔آخرت خریدنے کے معاملے میں سستی اور کاہلی کاشکار ہوں۔ہم دونوں کی دوڑ خرگوش اورکچھوے کی ہے۔ کون جیتے گاپتہ نہیں۔
۳۔خوفناک خدشے(دکنی)
’’بولے تو نئیں سنے ۔ جاکو جھگڑا کرے اور پولیس لے کو گَئْی ۔ کیاکرنا کی کیانئیں کی ‘‘اماں پریشان تھے۔ میں ان سے بولیا’’اماں پریشان نکو ہو، ابو کبھی بھی سچ کے لئے لڑتیں ‘‘اماں یکدم سے بولیں ’’پوٹٹے ، سچ کے لئے لڑنے والے شہید ہو جاتیں یاپھر جیل میں سڑادئے جاتیں۔ زلدی جا، جاکو پولیس اسٹیشن سے ان کونکال لا۔پولیس کو چاہے جتی رشوت دینی پڑے دے ڈال ۔اگر عدالت تک بات پہنچی تو پھر تیرے باوا ہمارے ہاتھ نئیں لگ سکتے ، ہمیشہ کے لئے اُدھرچ ہوجاتیں‘‘اماں کے باتاں اور ان کی پریشانی دیک کو میں سوچ روں ، کیاواقعی میں ہماری عدالتیں ایک ایک کرکے سچ کیلئے لڑنے والوں کوجیل میں ڈال دے ریں ؟دل مان نئیں راتھا۔ اور میری اسکوٹی تیزی سے پولیس اسٹیشن کی طرف جاری تھی۔
۴۔نئے سرے سے
’’مجموعی طورپر واک کوناکام بنادیاگیا۔ کوئی ساتھ نہیں تھا، عوام کوچھوڑیں ، ضلع کے بڑے نام تک واک میں شریک نہ ہوسکے ‘‘ اس نے ٹیلی فون پر شکایت کی، لہجہ بجھا بجھا تھا ۔میں نے پوچھا’’ایسا کیاہوا؟‘‘ اُس کاجواب تھا’’پتہ نہیں۔معلوم ہواکہ کچھ لیڈراس ’’ بھائی چارہ واک‘‘ کے خلاف تھے ۔ اس لئے پولیس کا رول بھی تعاون والا نہیں رہاگوکہ پولیس نے اس کی مخالفت بھی نہیں کی‘‘میں نے پوچھا’’آئندہ کے لئے کیاسوچ رہے ہیں ؟اگر اسی طرح آئندہ بھی ناکام ہوتے رہے تو ؟‘‘کچھ توقف کے بعد اس نے کہا’’سوچنا تو پڑے گا۔ میرے خیال میں ہمیں نئے سرے سے کام کرنا چاہیے ، چند ایک نئے طبقات کو شامل کرنا پڑے گا۔تنظیم نو کرنی پڑے گی ۔ اسکول اور کالج سے تعاون لیں گے لیکن معاشرے سے قربت کو خصوصیت کے ساتھ ترجیح دینی پڑے گی ‘‘
بات ختم ہوگئی ۔میں سوچ رہاتھاکہ عوام کی شرکت کیلئے پاپڑ بیلنے کے علاوہ دن تاریخ بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ ’واک‘ کے نکلنے پر مسرت کے اظہار سے بچنا چاہیے تھا۔ کیوں کہ ہمارے علاقے کی ملت اسلامیہ یکم محرم سے بارہ تیرہ تاریخ تک کسی بھی قسم کی دیگر سرگرمی سے ہاتھ اٹھاکر ’’غم ِ حسینؓ ‘‘ میں ڈوبی رہتی ہے ۔
