24زبانوں کے 24مصنفین کواردو اور دکنی کے ممتاز شاعر وادیب یوسف رحیم بیدری نے دی مبارک باد 

بیدر۔ 19؍جون (پریس نوٹ): اردو اور دکنی زبان کے ممتاز شاعر وادیب، یارانِ ادب بیدر کے سکریڑی اور کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر کے صدر جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہاہے کہ ساہتیہ اکادمی دہلی کی جانب سے 24زبانوں کے 24قلمکاروں کو بال ساہتیہ پرسکار برائے 2025؁ء دینے کااعلان کیاگیاہے ۔جس پر میں اپنی مسرت کااظہار کرتاہوں کہ ادب زندگی سے وابستہ ہے اور زندگی کی تہذیب میں ادب کا بے انتہا اہم رول اہم ہے۔جس کی طرف مادہ پرست سماج اورحکومتوں کی توجہ کم کم جاتی ہے۔ مصنف ، قلمکار، شاعر ، ادیب ، ناول نگار ، ڈرامہ نگار ، انشاء پرداز دراصل وہ دانشور ہوتے ہیں جو آدمی کو انسان بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ اس عمل کامعکوس بھی کبھی کبھی ہوجاتاہے تاہم مثبت کام کرنے والے قلمکاروں کی میں بات کررہاہوں۔جن کی حوصلہ افزائی کی بدولت صحت مند ادب تخلیق پاتاہے ۔
جناب یوسف رحیم بیدر ی نے آگے کہاکہ آسامی زبان کے شاعر سریند رموہن داس، بنگالی کے افسانہ نگار تردیب کمار چٹوپادھیائے ، بوڈ وزبان کے کہانی کارمسٹر بینے کمار برہما، ڈوگری کے شاعر پی ایل پریہار شوقؔ، انگریزی کے کہانی نگار نتن کشالپا ایم پی ، گجراتی کے شاعر کرتیڈا برہم بھٹ ، ہندی کے افسانہ نگار سشیل شکلا، کنڑی زبان کے افسانہ نگار کے شیوالنگپا ہنڈی لال، کشمیری زبان کے افسانہ نگار اظہار مبشر ، کونکنی زبان کے افسانہ نگار نائن ادرکر ، میتھلی زبان کی کہانی کار محترمہ منی کامت ، ملیالم ناول نگار سریجیت موتھے دتھ ، منی پوری زبان کے پلے رائٹر شانتو ایم ، مراٹھی شاعری کے سریش ساونت ، نیپالی زبان کے ناول نگار سنگمو Lepcha، اوڈیہ زبان کے شاعر راجا کشور پارہی ، پنجابی زبان کے ناول نگار پالی خادم (امرت پال سنگھ )، راجستھانی زبان کے ڈرامہ نویس بھوگی لال پاٹیدار، سنسکرت زبان کی شاعرہ پریتی پجار ا، سنتھالی زبان کے شاعر ہرا لال مرمو، سندھی زبان کی شاعرہ حنااگننی ہیرؔ، ٹمل زبان کے ناول نگار وشنو پورم سرونن ، تیلگو زبان کے افسانہ نگار گنگی سٹٹی سیواکمار اور اردو زبان کے مضمون نگار غضنفر اقبال کو بال ساہتیہ پرسکار برائے 2025دئے جانے کے ساہتیہ اکادمی دہلی کے اعلان پر مذکورہ تمام قلمکاروں(شاعر، ادیب ، افسانہ نگار، کہانی کار، ڈرامہ نگار، مضمون نویس وغیرہ) کوقلب کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتاہوں ۔
جناب محمدیوسف رحیم بیدری  نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ہندوستان جیسے بڑے ملک کی 24زبانوں کے مصنفین کو ان کی کتابوں کے حوالے سے ایوارڈ دئے جانے کااعلان کیا گیاہے جس کاکھلے دل ودماغ کے ساتھ خیرمقدم کیاجاتاہے، تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ دکنی زبان کے لئے ’’پرسکار‘‘ کااعلان نہیں ہواہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس معاملے میں کیا طریق کار ہے ۔ آیا 24ہی زبانوں کو ساہتیہ اکادمی سے پرسکاردیاجاتاہے اور دکنی زبان اس میں شامل نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے کہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ میں دکنی زبان شامل نہیں ہے تو یہ ایک شاکنگ خبر مجھ ہیچمداں اور اہل دکن کے لئے ہوگی ۔ میں اس موقع پر دکنی شعراء ،دکنی ادبا،دکنی ناول نگار ،اور دکنی صحافیوں سے گزار ش کرتاہوں کہ وہ دکنی زبان کی حفاظت کے لئے آگے آئیں۔ جہاں کہیں دکنی زبان سے متعلق ناانصافی ہورہی ہو، اس کی طرف فوری توجہ دیں۔اپنی زبان کی حفاظت کے لئے ہمیں خود آگے آنا ہوتاہے ۔ کوئی دوسرا ہماری زبان کی حفاظت کیوں کر کرے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے