سمریاواں، سنت کبیر نگر (ظفیر علی کرخی /محمد رضوان گوہرندوی): عالمی شہرت یافتہ داعی مولانا مستقیم بستوی (آبائی گاؤں تنہری معافی ضلع سنت کبیر نگر) کا پیر کی رات کو 95 سال کی عمر میں 1/ بجے ممبئی میں انتقال ہو گیا ۔
مرحوم کو ان کے آبائی گاؤں تنہری معافی ضلع سنت کبیر نگر لایا جا رہا ہے جہاں عشاء کے بعد تدفین ہوگی ۔ اس حآدثہ سے پو رے علاقہ میں غم و سوگ کی لہر چھا گئی ۔ متعدد اضلاع اور مختلف صوبوں کے بے شمار مدارس،مکاتب،مساجد میں دعاؤں کا اہتمام کیا گیا اور بلندی درجات کی دعائیں کی گئیں ۔
مولانا مستقیم احمد بستوی نےاپنی پوری زندگی دعوت و تبلیغ کے لیے وقف کر دی تھی۔انکا شمار اکابرین علماء میں کیا جاتا ہے ۔
تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں نے کہا کہ آپ مخلص ربانی علماء کرام میں سے تھے، اپنی پوری زندگی آپ نے دین کی دعوت میں صرف کردی، تبلیغی جماعت کے سرگرم اور فعال اراکین میں سے تھے، ہمیشہ اس دینی تحریک سے دل و جان کے ساتھ وابستہ رہے، اپنی بہترین خطابت اور علمی صلاحیت سے بے شمار خلقت کو فائدہ پہنچایا، مولانا غفران احمد ندوی نے کہا کہ آپ خطابت کے شہنشاہ تھے،نہ کبھی تھکتے تھے نہ اکتاتے تھے ، ہمیشہ ایسی زبان استعمال کرتے تھے جس سے عوام و خواص دونوں کو برابر کا فائدہ ہو. دہلی مرکز سے بہت کم فرصت پاتے، وہیں لگے رہتے، شخصیت میں مقبولیت کے ساتھ محبوبیت بھی تھی، جہاں جاتے بندگان خدا کی بھیڑ لگ جاتی، کسی کو محروم اور مایوس واپس کرنا قطعی ناگوار تھا، اپنا آرام چھوڑ کر دوسروں کو آرام پہنچانے میں بڑی مسرت محسوس کرتے، جب گھر آتے اور جمعہ کا دن پڑجاتا تو قصد اور اہتمام کرکے مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا فرماتے، طبیعت میں بشاشت رہتی اور ضرورت محسوس کرتے تو خطاب فرماتے ورنہ اہل تعلق سے مل کر اور موجودہ حالات اور مطالبات سے آگاہی حاصل کرکے چلے جاتے، مدرسہ، اساتذہ اور ممبران سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔
ماسٹر ظفیر علی کرخی نے نے کہا کہ یہ حادثہ اہل خانہ، متعلقین کے ساتھ ان کے علم و تجربہ سے فائدہ اٹھانے والے بے شمار لوگوں کے لئے بہت تکلیف دہ ہے ، کے علاقے کے مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور ذمہ داران اس دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں،مولانا محمد رضوان گوہر ندوی نے کہا کہ مولانا مرحوم نے ابتدائی دور میں مشرقی یوپی میں جگہ جگہ دعوت دین کا کام کیا ، پھر دہلی مرکز سے جڑ کر پورے ملک میں تبلیغ اسلام کو اپنی زندگی کا سب سے اہم مشن بنا لیا اور بیرون ملک بھی فروغ دعوت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ان کے اخلاق لائق تحسین اور قابل تقلید تھے۔
جمعیۃ علماء شمال مغربی زون ممبئی کے صدر محمد اسلم غازی القاسمی نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے روس کے علاوہ دنیا کے ہر علاقے میں دعوت وتبلیغ کے لئے سفر کیا۔ان کی زندگی تبلیغ اسلام کے لئے وقف تھی۔
علاقہ کے مکاتب،مدارس،مساجد اسکول کالج کے اساتذہ، ذمہ داران اور سیاسی لیڈران نے بھی تعزیت پیش کی، جن میں حاجی مشہور عالم چودھری، میر حسن چودھری، حمید الدین چودھری، مفتی مجاہد حسین، مولانا عبدالسلام ، مولانا مختار احمد، حاجی سمیع اللہ، حاجی کرم حسین، نسیم احمد، ظفیر علی کرخی، حافظ ضیاء الدین، حافظ اعجاز منیر، نوشاد احمد، محمد احمد، گوہر علی خان، وکیل احمد انصاری، ابرار احمد پردھان، جمال الدین پردھان، ماسٹر عبد السلام صدیقی، فیضان احمد مینیجر، شمشیر احمد مینیجر، مجیب اللہ پرنسپل، قاری نصیر الدین وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے، پسماندگان خصوصا حضرت مولانا مفتی محمد اسلم ،حاجی محمد قاسم کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے۔

