ایک عالِم ربانی، ایک معلمِ اخلاق، ایک مشفق باپ کی تابندہ یاد
جمع و ترتیب: عتیق زاھر
اللہ رب العالمین ہر دور ہر طہ، ہر گوشہ سے دین متین کی طرف بلانے، دعوت حق کی ترویج و اشاعت اور قرآن وسنت کی تعلیمات سے عوام کو روشناس کرانے کے لئے کسی نہ کسی کو منتخب کرتا ہے جو ہزار تکلیف،غم اور رنج والم کے باوجود منزل کی جانب رواں دواں رہتاہے، نیپال کی زمین بڑی زرخیز اور سر سبز و شاداب ہے لیکن شمع اسلام کی ضوفشانی کے اعتبار سے بالکل بچھڑا اور پچھڑا ہے ، بالخصوص جہاں گوتم بودھ کی جائے پیدائش ہو وہاں دعوت تبلیغ کرنا بڑا مشکل امر ہوتا ہے۔ آج اس سوانحی دستاویز میں جس شخصیت سے روبرو کرانے کا شرف حاصل ہوا وہ اسی گوتم بودھ کی جائے پیدائش سے بالکل متصل ہے۔ جن کی دعوتی ، تعلیمی، تدریسی خدمات بےشمار ہیں ۔
نام و نسب اور ابتدائی زندگی
نیپال کے ضلع روپندیہی، لمبنی کے قریب واقع ایک تاریخی و علمی گاؤں "پرڑیا خرد” کی فضاؤں میں 1 مئی 1959ء کو ایک چراغ روشن ہوا، جس نے بعد ازاں علم، حلم، محبت، اور تدریس کی روشنی پھیلائی۔ اس روشن چراغ کا نام تھا: محمد منیر سراجی رحمہ اللہ۔
آپ کا مکمل نسب: محمد منیر بن قدرت اللہ بن غولی۔
آپ کا تعلق ایک دین دار، محنت کش اور بااخلاق خاندان سے تھا، جہاں دینی شعور، اخلاص، اور خدمتِ خلق کی روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔
تعلیمی سفر:( ایک روشن منزل کی تلاش)
آپ کی تعلیم کا آغاز گاؤں کے مدرسہ فیض الاسلام سے ہوا، جہاں میاں محمد یوسف اور مولانا عبدالحکیم جیسے اساتذہ سے ابتدائی کتب کی تحصیل کی۔ آپ نے درجہ طفلان سے جماعتِ ادنیٰ تک اسی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔
اس کے بعد علمی سفر نے مزید وسعت اختیار کی:
جامعہ فرقانیہ بھیسکنڈا: یہاں آپ نے درجہ اولیٰ و ثانیہ تک تعلیم حاصل کی۔
جامعہ دارالہدیٰ یوسف پور: یہاں رابعہ تک کی تعلیم مکمل کی۔
جامعہ سلفیہ بنارس: یہ علمی دنیا کا وہ مرکز ہے جہاں آپ نے عالمیت کے مرحلے میں قدم رکھا۔ لیکن گھریلو مجبوریوں کی بنا پر یہ سفر مکمل نہ ہو سکا۔
جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر: یہی وہ ادارہ ہے جہاں سے آپ نے فضیلت (فاضل) کی سند حاصل کی، اور اپنی علمی پختگی کو جِلا بخشی۔
مشاہیر اساتذہ کرام:
آپ کے اساتذہ کی فہرست نہایت درخشاں ہے، جن میں کئی جید علماء، مفسرین، محدثین اور مصنفین شامل ہیں:
میاں محمد یوسف، مولانا عبدالغفار رحمانیؒ
مولانا محمد ابراہیم رحمانی
مولانا عبد الوحید بنارسی
مولانا مقتدی حسن ازہری
مولانا صفی الرحمن مبارکپوریؒ (مصنف الرحیق المختوم)
مولانا عبد الحنان فیضیؒ
شیخ الحدیث مولانا خورشید احمد سلفی
مولانا صبغۃاللہ ندویؒ
یہ وہ علمی سرمایہ ہے جس کی تربیت سے آپ کی فکر، بصیرت، اخلاق، اور تدریس میں گہرائی پیدا ہوئی۔
تدریسی خدمات: عمر بھر کی علمی خوشبو
مولانا مرحوم کی زندگی کا بیشتر حصہ تدریس، اصلاح، اور تربیتِ طلبہ میں گزرا۔ انہوں نے مختلف اداروں میں اپنے علم کا نور پھیلایا:
1. مدرسہ، موضع برسولی (ضلع کپلوستو): 1980–1985
2. مرکز احمد بن حنبل، تولہوا: 1986–2000
3. جامعہ مطلع العلوم، ڈمرا: 1 سال
4. مدرسہ انوار الاسلام، دانگ: 5 سال
5. جامعہ محمدیہ، بھیرہوا: 5 سال
6. کلیہ الایمان، کالیدہ 10سال
7. کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات، پکڑی پرسیا: آخری تدریسی مقام
جہاں کہیں بھی گئے، علم کے ساتھ خلوص، شفقت، وقت کی پابندی، اور اخلاق کی روشنی بھی ساتھ لے کر گئے۔
اہم تلامذہ کرام
مولانا مرحوم کے شاگردوں کی فہرست طویل ہے، لیکن چند ممتاز نام درج ذیل ہیں:
مولانا محمد شریف مدنی (املیا)
مولانا صلاح الدین (بھنگہیا)
مولانا محمد ایوب مدنی
مولانا عزیز الرحمن مدنی
مولانا نثار احمد فیضی (بھنگہیا)
یہ سب آپ کی تربیت و تدریس کے زندہ نمونے ہیں، جو آج بھی ملک و ملت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
ذاتی زندگی اور اولاد:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو بیٹے اور پانچ بیٹیوں سے نوازا:
بیٹے:
صفی الرحمن، عتیق زاھر سراجی
بیٹیاں:
سائرہ، طاہرہ توحیدی، راشدہ مطلعی، صالحہ
خدیجہ (جو اس وقت مدرسہ فیض الاسلام میں زیرِ تعلیم ہیں)
آپ نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت نہایت اخلاص اور سادگی سے کی، اور انہیں دین و دنیا کی راہ دکھائی۔
اخلاق و سیرت : ایک آئینہ دار شخصیت
مولانا مرحوم نرم خو، بردبار، اور امن پسند انسان تھے۔ ان کے اخلاق کا دائرہ نہایت وسیع تھا:
نرم گوئی اور مسکراہٹ ان کی پہچان تھی
صبر، درگزر اور معافی ان کی فطرت
مہمان نوازی اور امانت داری ان کی صفت۔
بچوں کے لیے محبت اور طلبہ کے لیے شفقت ان کی خاص اداؤں میں سے تھیں
ان کے چہرے پر نور، ان کے الفاظ میں مٹھاس اور ان کی باتوں میں تاثیر ہوتی تھی۔ وہ ہر کسی سے شفقت، مسکراہٹ اور خلوص سے پیش آتے تھے۔
آخری لمحات: صبر و غم کے دو کنارے
15 جون 2025ء بروز اتوار، ان کی شریکِ حیات انتقال فرما گئیں۔ آپ نے ان کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن قضا غالب آ گئی۔ گھر میں رنج و غم کی کیفیت تھی۔
ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ 20 جون 2025ء بروز جمعہ، نماز عشاء ادا کرنے کے بعد سنتوں کی نیت باندھنے والے تھے کہ سینے میں شدید درد ہوا، اور چند لمحوں بعد روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
نماز جنازہ:
نماز جنازہ آپ کے آبائی گاؤں پرڑیا خرد کی عید گاہ میں شیخ الحدیث مولانا خورشید احمد سلفی کی امامت میں ادا کی گئی، جہاں ہزاروں افراد نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ آپ کو الوداع کہا۔
خاتمہ:ایک سچا خادمِ دین رخصت ہوا
مولانا محمد منیر سراجیؒ کی رحلت سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ علمی، تدریسی اور دینی حلقوں میں خلا پیدا ہو گیا۔ ان کی زندگی علم، حلم، خلوص، اور سادگی کا نمونہ تھی۔
اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل اور ہمت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

