محمد شمیم احمد نوری مصباحی

خادم: دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)
الحمدللہ رب العالمین! عصرِ حاضر کے فکری انتشار، فقہی پیچیدگیوں اور نت نئے مسائل کے ہجوم میں اگر کوئی علمی کاوش دل کو طمانیت بخشتی ہے تو وہ ایسی ہی سنجیدہ، متوازن اور بصیرت افروز تصنیفات ہوتی ہیں، جو نہ صرف ماضی کے علمی ورثے سے جڑی ہوں بلکہ حال کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہوں۔ انہی اوصافِ حمیدہ سے مزین شہزادۂ مصباح الفقہاء، فاضلِ جلیل عزیزالقدر حضرت مولانا مفتی محمد احسن رضا صاحب ضیائی اشفاقی امجدی سلمہ اللہ تعالیٰ کی مرتب کردہ کتاب "الافاضاتُ الأمجدیۃ فی الفتاوی الأحسنیۃ المعروف بھا فتاویٰ تربیتِ افتاء جامعہ امجدیہ” ایک درخشاں مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
یہ کتاب محض فتاویٰ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت علمی و فقہی دستاویز ہے، جس میں تربیتِ افتاء کے اصول، جزئیاتِ فقہیہ کی باریکیاں، اور عصرِ حاضر کے حساس مسائل کا نہایت متوازن اور مدلل حل پیش کیا گیا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں روایت اور درایت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے یعنی اکابرینِ اہلِ سنت کے فقہی منہج کی پاسداری کے ساتھ ساتھ جدید مسائل پر عمیق نظر بھی موجود ہے۔
مرتبِ کتاب نے اپنی دستارِ فقہ و افتاء کے مبارک ومسعود موقع پر اس عظیم علمی کاوش کو پیش کیا، یہ خود اس امر کی دلیل ہے کہ یہ تصنیف محض علمی مشق نہیں بلکہ ایک ذمہ دار مفتی کی عملی زندگی کا آغاز ہے۔ گویا یہ کتاب ان کے علمی سفر کا تعارفی اعلامیہ بھی ہے اور آئندہ خدماتِ دینی کا پیش خیمہ بھی۔
کتاب کے مندرجات پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ اس میں شامل موضوعات کا انتخاب نہایت بصیرت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ معاشرتی، عباداتی، معاشی اور عصری نوعیت کے متعدد مسائل کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری نہ صرف مسئلے کو سمجھتا ہے بلکہ اس کے پس منظر اور حکمت سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ یہی وہ اسلوب ہے جو کسی بھی فقہی تصنیف کو محض "جواب نامہ” کے درجے سے بلند کر کے ایک "علمی مرجع” بنا دیتا ہے۔
اس کتاب کی عظمت و اہمیت میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب طیبۃ العلماء جامعہ امجدیہ رضویہ کے جلیل القدر اساتذۂ کرام اور اکابر علماء وفقہاء نے اپنی گراں قدر تقریظات، تاثرات اور دعائیہ کلمات سے اسے نوازا۔ نہایت خوش آئند امر یہ ہے کہ اس میں مرتب کے استاذ جانشین حضور مفتی اعظم راجستھان حضرت علامہ الحاج مفتی شیر محمد خان صاحب قبلہ رضوی شیخ الحدیث دارالعلوم اسحاقیہ جودھپور کے دعائیہ کلمات شامل ہیں، جو اس کتاب کے لیے روحانی پشت پناہی اور خیر و برکت کا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح شمس الفقہاء حضرت علامہ مفتی شمشاد احمد مصباحی شیخ الحدیث جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی کی تصدیقِ جمیل اس تصنیف کے علمی معیار کی مضبوط شہادت پیش کرتی ہے، جبکہ ماہر درسیات حضرت علامہ مفتی عبدالرحمن رضوی مصباحی کے کلماتِ تحسین اس کے حسنِ ترتیب اور افادیت پر مہرِ قبول ثبت کرتے ہیں۔
مزید برآں جانشین حضور محدث کبیر حضرت علامہ مفتی ابو یوسف محمد قادری صاحب قبلہ کا اہم اور بصیرت افروز تاثر اس کتاب کے فکری و فقہی وزن کو مزید بڑھاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مرتبِ کتاب کے والدِ بزرگوار، مصباح الفقہاء،صاحب فتاویٰ اسحاقیہ حضرت علامہ الحاج مفتی محمد عالمگیر صاحب رضوی مصباحی امجدی نے ایک نہایت وقیع، جامع اور بصیرت افروز تاثر تحریر فرمایا ہے، جو اس تصنیف کے لیے گویا سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان اکابر کی آراء درحقیقت اس کتاب کے لیے سندِ اعتبار اور مہرِ تصدیق ہیں، اور یہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ یہ کتاب علمی معیار پر پوری اترتی ہے اور آئندہ طلبۂ افتاء کے لیے ایک رہنما نصاب کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔
مرتبِ کتاب عزیزالقدر حضرت مولانا مفتی محمد احسن رضا صاحب ضیائی  کی شخصیت اس تصنیف میں پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتی ہے۔ ان کی علمی سنجیدگی، فقہی بصیرت، اسلوب کی شگفتگی اور دلائل کی مضبوطی ہر مقام پر نمایاں ہے۔ ساتھ ہی ان کی انکساری، اخلاص اور دینی حمیت اس امر کی غماز ہے کہ یہ کتاب محض علمی برتری کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ حقیقی خدمتِ دین کے جذبے سے ترتیب دی گئی ہے۔
مزید برآں، اس کامیابی میں ان کے خانوادۂ علمی کا فیضان بھی واضح طور پر نظر آتا ہے، بالخصوص ان کے والدِ گرامی، ماہرِ جزئیات فقہیہ حضرت علامہ الحاج مفتی محمد عالمگیر صاحب رضوی مصباحی مدظلہ العالی کی تربیت، دعائیں اور علمی سرپرستی اس کارنامے کے پس منظر میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح اساتذۂ کرام کی رہنمائی اور جامعہ امجدیہ رضویہ کا علمی ماحول اس تصنیف کے لیے زرخیز زمین ثابت ہوا۔
یہ امر بھی نہایت خوش آئند ہے کہ اس کتاب کا اجرا ایک روح پرور اور تاریخی موقع یعنی "عرسِ حضور صدر الشریعہ” کے جلسۂ دستار بندی میں عمل میں آ رہا ہے۔ یہ بابرکت مناسبت اس کتاب کی قبولیت اور اثر انگیزی کے لیے نیک شگون ہے۔ امید ہے کہ یہ تصنیف نہ صرف طلبۂ افتاء بلکہ علماء و مفتیانِ کرام کے لیے ایک مفید رہنما ثابت ہوگی۔
آخر میں بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم علمی کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے، اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے نافع بنائے، اور مرتبِ کتاب کو مزید اخلاص، استقامت اور علمی رفعت کے ساتھ خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔ یقیناً یہ کتاب آنے والے وقت میں فقہی ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل کرے گی اور "تربیتِ افتاء” کے باب میں ایک معتبر حوالہ کے طور پر جانی جائے گی۔
وما ذٰلک علی اللہ بعزیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے