تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!
شاعر مشرق ڈاکٹرعلامہ اقبال ؒ کا یہ ایک خواب ہے جو اب تک شرمندئہ تعبیر نہ ہو سکا مگر آج جس طرح مشرق وسطیٰ کے حالات بدل رہے ہیں اس سے خواب دیرینہ کی تعبیر کی ایک جھلک نظر آرہی ہے، بشرطیکہ خلیج ممالک ایک آہنی دیوار کی طرح اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں بہترین موقع ہے کہ اس وقت مغربی ملک کی غلامی کو خیر باد کہہ کر کے ایرانی قیادت سے ہاتھ ملا لیا جائے جو امت اسلامیہ کے درد کا درماں ثابت ہوگا۔
چشم کشاں حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کی اس بار ہ روزہ جنگ نے دشمنوں کے غرور کو چکناچور کر دیا اور ایک ناقابل تسخیر جارح حکومت کے ساتھ سپر پاور امریکہ کو بھی دھول چٹا دی، یہ صورتحال جہاں دشمنان اسلام کیلئے ایک تازیانہ ہے وہیں مسلم ممالک کیلئے درس عبرت۔
ایک ایسے نازک ترین وقت میں ایران نے جارح ملک اسرائیل سے پنجہ آرائی کی ، جبکہ اس نے غزئہ کو کھنڈر بنا کر رکھدیا، بلا تفریق مرد و خواتین ، شیر خوار بچے اور مریضوں پر بم برساکرموت کی نیند سلا دیا، یہ جنگ ایک طرفہ تھی کیونکہ غزئہ کے پاس فائر جیٹ تو تھے نہیں مگر جب اسکا مقابلہ ایران سے ہوا تو اسے بھی اپنی طاقت کا پتہ چل گیا، اور ناقابل تلافی نقصان اٹھانے کے بعدجنگ بندی کے اعلان پر راضی ہونا پڑا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں اسرائیل کا نقصان ہوا وہیں ایران کا بھی نقصان ہواہے۔
اس جنگ میں کامیابی کا سہرہ یقینا موجودہ سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے سر جاتا ہے ، مگر اگر ماضی کا جائزہ لیںتو اس کے حقدار وہ شخصیت ہے جو انقلاب اسلامی کا روح رواں ہیں وہ شخصیت ہے مرحوم آیت اللہ خمینی کی، ان کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوں جن کی قربانیوں او رجہد مسلسل نے ایران میں اسلامی انقلاب برپا کیا، جمہوری نظام قائم کیا اور اس مرد مجاہد نے اپنے ملک کو امریکہ جیسے سپر پاور کی غلامی سے آزاد کرایا، آج انہیں کے نقش قدم پر چل کر موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مشرق وسطیٰ کی اس حالیہ جنگ میں مثالی کردار ادا کیا، اور اسرائیل جیسے جدید اسلحہ سے لیس ملک کو شکست فاش سے دوچارکیا۔
محترم سپریم لیڈر !آپ کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکل رہی ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کے ملک جمہوریہ ایران کی حفاظت فرمائے اور حاسدین اور معاندین کی شرور و فتن سے آپ کو محفوظ رکھے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ دو دہائیوں کے اندر ایران نے ساری مزاحمتوں اور سامراجی طاقتوں کے غلط پروپیگنڈہ کے باوجود جو غیر معمولی ترقی کی ہے وہ قابل تحسین بھی ہے اور دیگر ممالک کے لئے قابل عبرت بھی ، آپ کو مبارکباد دیتا ہوں آپ کی دوراندیشی ، فراست ایمانی اور آپ کے عزم و استقلال پر، اور میں مجبور ہوں یہ عرض کرنے پر کہ آپ کی شخصیت اس صدی کی ایک غیر معمولی شخصیت ہے جو ایک طرف اپنے وطن کی محبت سے سرشار ہے تو دوسری طرف دشمنوں کے مقاصد اور ان کے نشانوں کی شناخت کرنے میں نظر عقابی رکھتی ہے، آج مجھے آپ کا وہ جملہ یاد آرہاہے جو آپ نے کسی موقع پر فرمایا تھا کہ ایران اور سعودی عرب باہم اشتراک سے اس خطہ میں اہم رول ادا کرسکتے ہیںاس میں کوئی شک نہیں کہ عراق کے زوال کے بعد آپ دونوں مل کر اتحاد اور اتفاق کی طاقت سے اس علاقہ کے سارے الجھے ہوئے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔
محترم سپریم لیڈر ! میں آپ کو مبارکباد دیتاہوں آپ کے ملک کی اس سائنسی ترقی پرجس نے عالم اسلام کو یہ کہنے کا موقع عنایت کر دیا کہ ہم بھی سائنسی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور ہمارے اندر بھی ایسے مسلم سائنسداں موجو دہیں جن کی مدد سے ہم بھی ستاروں پر کمندیں ڈال سکتے ہیں، آپ کو مبارکباد خصوصیت سے پیش کرتا ہوں ایران کی اس جاویداں ترقی پر کہ اس نے ایسا طیارہ ایجاد کرلیا جو بغیر پائلٹ کے ۷۰۰ کلومیٹرمار کرنے کی صلاحیت رکھتاہے جس کا تعاقب راڈار بھی نہیں کرسکتا۔
خدا رکھے آباداں ساقی تیرے محفل کو
محترم سپریم لیڈر! اللہ کا شکر ہے کہ آپ اسلامی ممالک کے درمیان شخص واحد رہنما ہیں جس نے وقت کے اس تقاضہ اور نزاکت کو سمجھا اور دشمن کو ترکی بترکی جواب دینے میں کامیاب رہے دشمن کی ساری دھمکیوں کے باوجود آپ کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی، اللہ تعالیٰ کی یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جو آپ کو عطاکی گئی ہے اور میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اس صدی کی آپ مرد آہن شخصیت ہیں ، آپ کی شان میں یہ شعر عرض کرتا ہوں ۔
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
اللہ تعالیٰ آپ کو یہ توفیق عطافرمائے کہ آپ سعودی عرب کے ساتھ و دیگر مسلم ممالک اور ہندوستان اور چین کو ملاکر ایک مشترک بلاک بنانے کی کوشش کریں تاکہ امریکن اور یوروپی لابی کے ظلم و زیادتی اور دہشت گردی کا جواب دے سکیں اور مقدسات اسلامیہ کی حفاظت کر سکیں اس موقع پر ہندوستانی کے سابق وزیر اعظم آنجہانی اندراگاندھی کی یاد آرہی ہے جنہوں نے آخری وقت تک آزادی تحریک فلسطین کی حمایت کی اور یاسر عرفات کو اپنا بھائی کہتے ہوئے فخر محسوس کرتی تھیں اور انہوں نے اسرائیل جیسے دہشت گرد ملک سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے مگر بڑے افسوس کے ساتھ یہ عرض کرنا پڑتا ہے ان کے بعد کی حکومت نے اس دہشت گرد سے سفارتی تعلقات قائم کئے جس نے ماضی میں ہندوستان پرست جیسے ملک عراق کے یورینیم افزائشی ریئکٹر کو بمباری کر کے تباہ کر دیا اور ساری دنیا خاموش رہی ، اور آج ہندو دھرم اور یہودی جیسے دہشت گرد افراد سے تہذیب و ثقافت کا تبادلہ ہو رہاہے جس اسرائیل میں تیار شدہ آر ڈی ایکس گجرات فسادات کے اندر استعمال کیا گیا تھا جو پریس کے اندر بھی آچکاہے اور ہر شخص اس سے واقف ہے۔
دنیا میں کوئی ایسی تمثیل نہیں ملتی قاتل ہی محافظ ہے قاتل ہی سپاہی ہے
اللہ تعالیٰ آپ کی ہر میدان میں غیبی مدد فرمائے اور آپ کے عزم و حوصلہ میں پختگی اور جمہوریہ ایران کو مضبوط تر بنائے تاکہ باطل طاقت کا مقابلہ کر سکے اور سسکتے ہوئے عالم اسلامی کی رہبری کر سکے۔
مگر ان ساری کامیابیوں اور کے باوجود محترم آپ کو پنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
(۱) اپنے سراغ رساں ایجنسی کو اور متحرک اور فعال بنایئے۔
(۲)اپنے آستین کے سانپ سے ہوشیار رہیے، کیونکہ یہ آستین کے سانپ ہے جس کی وجہ سے آپ کے ماہر و قابل ۳۷ سائنسدانوں کو شہید کر دیا گیا۔۔
دیکھا ہے ملوکیت فرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اس خواب سے تعبیر بدل جائے

مولانا اے۔ کے۔ رحمانی

قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
حجاز منزل، کسیا، کشی نگر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے