🖊️: امام علی فلاحی

ایم اے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن ۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد ۔

 

رنجش کا پہاڑ اس وقت ٹوٹا جس وقت پھوپھا جان محمد سلیم شیخ کے انتقال کی خبر ملی، صبح اٹھتے ہی یہ پیغام موصول ہوئی کہ جناب سلیم شیخ بھی اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، قبر کی کٹھنائیوں سے محفوظ فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین یا رب العالمین.

مرحوم بہت ہی نیک نیتی کے مالک تھے، ہر کام صاف دل سے کرنے کا ہنر رکھتے تھے، انکے یہاں ایک سال رہنے کا بھی موقع ملا اور مرحوم نے اپنے دم پر ایک سال پالا، پڑھایا بھی، میری تعلیم کی شروعات پھوپھا جان ہی نے کی تھی، 7 برس کا تھا کہ میرا داخلہ ایک اسکول میں کرا دیا تھا، وہیں سے میری تعلیم کی ابتدا ہوتی ہے اور آج جب تعلیم مکمل ہونے کو ایک سال رہ گیا تو یہ خدا کو پیارے ہوگئے۔

بہر کیف! پھوپھا جان بھی کسی زمانے میں کاروباری دنیا میں بڑے شباب پر تھے، تجارتی میدان کے بہترین شہسوار تھے، لوگ ان پر ناز کرتے تھے، لیکن کہتے ہیں نا کہ:

 ہمیں اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا،

میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا۔

شاید انکا بھی یہی حال ہوا تھا کہ ترقی سے تنزلی کی راہ پر گرتے چلے آئے، اور اب اس دار فانی سے بھی رخصت ہو گئے ۔

خیر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا، زندگی کی آخری سانس مادر وطن ہی میں لکھی تھی، اسی لئے بمبئی سے مادر وطن کو جانا پڑا اور وہیں کی زمیں میں سمانا پڑا۔

میں اس موقع پر مرحوم کے لواحقین کی بالخصوص ان کے اہل خانہ کی تعزیت کرتا ہوں، اہل خانہ کے غم میں شریک ہوتا ہوں، اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کو (اہل خانہ) صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کے سئیات کو حسنات سے مبدل فرما کر انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے