اٹوا، سدھارتھ نگر: ڈاکٹر جاوید فلاحی کی والدہ کا شہر بستی میں دورانِ علاج کم و بیش نوے سال کی عمر میں ہفتہ کے روز انتقال ہوگیا موصوفہ ایک نیک خاتون تھیں ان کی نماز جنازہ کرہیا خان گاؤں میں شام پانچ بجے اداکی گئی نماز جنازہ کی امامت ڈاکٹر جاوید فلاحی نے کی مقامی قبرستان مین تدفین عمل میں آئی عزیزوں رشتہ داروں ، اہل قریہ کے علاوہ شیخ نعیم ارشد القاسنی، شیخ منظور احمد، شیخ محمد اسرائیل دھنکھرپوری، شیخ جمال احمد، سید عزیز الرحمٰن قاسمی، عبدالرقیب اثری سمراوی،  ارشاد عالم وغیرہ شریک رہے۔

 ڈاکٹر جاوید کرہیاخان کی والدہ کے انتقال پر تعزیتی نشست منعقد۔

       یقینا ہر جی کو موت چکھنی ہے، ہر ذی روح کو موت آنی ہے۔ ابدی و لافانی ذات فقط اللہ کی ہے ،موت ایسی یقینی شے ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ موت ایسی جیز ہے جس سے کسی کو جائےفرار نہیں ہے۔ ،موت آخرت کی منازل میں سے سب سے پہلی منزل ہے۔ موت کے مرحلہ سے گزر کر ہی انسان روزِ محشر میں جمع ہوں گے۔ ،جس کی موت آگئی گویا اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ ،مرنے کے بعد جب انسان قبروں سے اٹھیں گے تو صبح و شام کے مختصر وقت سے زیادہ قبر میں پڑے رہنے کا انھیں احساس نہیں ہوگا۔ موت لقآء رحمان کا ذریعہ ہے، موت مومن کا تحفہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولوی سید عزیزالرحمٰن نے کرہیاخان کی بڑی مسجد میں بعد نمازِ مغرب تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہرانسان کو آخرت کےلیے اعمال صالحہ اور خیر کے کام کرتے رہنا چاہیے۔اس موقع پر کثیر تعداد میں علمآء اور عوام موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے