ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، شاخ بیجاپور کی جانب سے مشاعرے کا کامیاب انعقاد
بیدر۔ 14؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): ادارۂ ادب اسلامی ہند شاخ بیجاپور طویل عرصے سے مسلسل شعری و ادبی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس ادارہ کی بنیاد ادبِ اسلامی کے فروغ، اصلاحِ معاشرہ، اور نوجوان نسل کو اخلاقی و فکری روشنی فراہم کرنے کے لیے رکھی گئی تھی۔ماہ بہ ماہ منعقد ہونے والی شعری و ادبی محفلیں نہ صرف ایک تخلیقی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں، بلکہ ادب کے ذریعے روحانی،سماجی اور اصلاحی بیداری کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔اس سلسلے کو قائم رکھتے ہوئے ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند، شاخ بیجاپور کی جانب سے 12؍جولائی کو بعد نماز مغرب ایک کامیاب ’’مشاعرہ ‘‘ منعقدکیا گیا،جس کی صدارت معروف شاعر جناب آصفؔ اقبال نے کی۔ نظامت کے فرائض جناب عبدالقدیر ساحلؔ نے انجام دیے، مشاعرہ کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا جسے مولانا عبدالرحمٰن عاطرؔ نے پیش کیا، جناب اقبال خادم نے اپنی سِحْر اَنْگیز آواز میں حمد پیش کی جبکہ جناب مومنؔ بیجاپوری نے حضور اکرم ؐ کی شان میں نعت پیش کی۔ جناب آصِف بالسنگ ، سیکریٹری ادارہء ادب اسلامی ہند، شاخ بیجاپو ر نے صدر، شعرا اور سامعین کا استقبال کے ساتھ افتتاحی کلمات پیش کئے۔انہوں نے ماہ محرم کی عظمت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جس طرح ماہ ِ محرم میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اپنی رحمتوں کے زیر سایہ مظالم اور مصائب سے نجات دی وہ ہم سب کے لیے اللہ تعالیٰ کی صلہ رحمی کا اعلیٰ نمونہ ہے اور اسی ماہ میں کربلا کا سانحہ پیش آیاجو ایک طر ف ظلم و بر بریت اور دوسری طرف صبر و تحمل، صدائے حق اور حق کی خاطر حضرت امام حسین ؓ اور آپ کے رفقا کی شہادت ساری دنیا کے لیے جذبہ ء ایثار و قربانی کی بہترین مثال ہے۔ادارہ ء ادب اسلامی ہند ایسے ہی تعمیری ادب کے ذریعہ ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کی فکر لیے ایسی شعری و ادبی نشستیں منعقد کرتاچلا آیا ہے، صدر مشاعرہ جناب آصف ؔ اقبال نے اپنے صدارتی خطاب میں نہایت مسرت کے ساتھ کہاکہ میں کئی سال سے ادارہ اور ادارہ کی شعری و ادبی نشستوں سے جڑا ہوا ہوں اور آج میںیہ فخر کے کہہ سکتا ہوں کہ ادارہ دن بہ دن اپنے نت نئے سرگرمیوں کے ذریعہ آگے بڑھتا جارہا ہے۔ نئے شعرا و ادبا سے آپ نے الفاظ کے درست تلفظ کی جانب خصوصی توجہ دلائی اور کہا شعر ہو کہ نثر درست تلفظ اشد ضروری ہے۔ شعر میں معنوی کیفیت، فصاحت و بلاغت درست تلفظ سے ہی ممکن ہے۔ اگرتلفظ صحیح ہوتو آہنگ درست اور درست آہنگ سے ایک کامیاب شعر کا وجود تشکیل پاتا ہے ۔اس کے برعکس غلط تلفظ شعر ہو کہ کوئی جملہ دونوں کی مٹی پلید کر دیتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ شعرا و ادبا کے ساتھ، سامعین کی کثیر تعداد ادارہ سے جڑتی جارہی ہے۔ آخر میں آپ نے مشاعرہ کی کامیابی کی ضمانت دی۔اس مشاعرہ میں ممتاز شعرا، بشمول آصفؔ اقبال، مومنؔ بیجاپوری، اقبال خادمؔ، عمرؔ بیجاپوری،مجیب احمد مجیبؔ، رضوان احمد رضوانؔ، امیر حمزہ رازؔ،قمر ؔمرتضیٰ، بشرؔ بیجاپوری، ڈاکٹر امیرالدین امیرؔ، صاحب لال نداف، یاسین منتظرؔ، جاوید احمد جایدؔ، عبداللہ راشد ذبیحؔ، عبدالرحمٰن عاطرؔ ، سید ابراھیم حسین حسینیؔ اور خواتین شعرا ء میںمہرو النساء مہروؔ اور عشرت جہاں زیب ؔ شامل رہیں۔ تمام شعرائے کرام نے سامعین کو اپنے کلام کے ذریعہ خوب محظوظ کیا اورشاعری کا حق ادا کرتے ہوئے مشاعرہ کو کامیاب بنایا۔آخر میں ادارہ کے معاون سیکریرٹری جناب رضوان احمد رضوان نے اظہار تشکر پیش کیا۔ یہ مشاعرہ بیجاپورکی شعری و ادبی روایت کا ایک سنہرا باب ثابت ہوا۔مشاعرہ میں پیش کیا گیا شعرائے کرام کا منتخب کلام ملاحظہ فرمائیں۔
خیر ہم کیا کہ تیرے تو اپنے بھی
تنگ ہیں تیری حکمرانی سے
آصف اقبال
اک وہ بھی وقت تھا سب کو ٹھکرا دیا
دیتا ہے آج کیوں دستکیں کوبہ کو
مومن بیجاپوری
آگ چپکے سے لگاتا ہے اشاروں سے کوئی
آئے الزام تو پھر ہاتھ اٹھا دیتا ہے
مہرالنّساء مہرو
اعمال اپنے دیکھ کے اب تو بتا مجھے
کتنایزید کا ہے تو کتنا حسین ؓ کا
مجیب احمد مجیب
چھوڑ کر حسب و نسب اور انا کو اپنی
بیٹی مفلس کی بہو اپنی بنا کر دیکھو
رضوان احمد رضوان
مرے غموں کا ازالہ ہو جا ئے گا اک دن
میں نے ابھی اسے ایوب سا پکارا نہیں
عمربیجاپوری
جو جلا دل تو روشنی پائی
اب چراغوں سے شب سجاتے ہیں
محمد عبدالقدیر ساحل
ائے حسین ابن علی کوفے کو جانے والے
حق کا پیغام زمانے کو سنانے والے
عشرت جہاں زیب
پیار معدوم ہے دشمنی عام ہے
یار میرے کروں کیا بتا ان دنوں
امیر حمزہ را
خواب دل میں بڑے سجاتے ہیں
تم سے کہنے بھی ہچکچاتے ہیں
امیر فضل
جو دین حق پہ ہے قائم وہ اہل ِحق
حقیقت کو کبھی بدلا نہیں کرتے
عبداللہ راشد ذبیح
٭٭٭
