ڈاکٹر لکشمن دستی، ڈاکٹر ماجد داغی، پروفیسر آر کے ہوڑگی، پروفیسر کمنور، سید راؤف قادری و دیگر کا اظہارِ تعزیت 

کلبرگی  16/ اگسٹ (ڈاکٹر ماجد داغی):    یہ خبر گہرے دکھ کے ساتھ دی جارہی ہے کہ معروف فلسفی و دُور اندیش ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شرن بسپا اپاجی آٹھویں پیٹھادی پتی شرن بسویشور سمستھان و چانسلر ایس بی یونیورسٹی کلبرگی نے 14 اگست 2025 کی  9:23 بجے شب آخری سانس لی اور اس جہان سے رخصت ہوگئے۔
                     گزشتہ شام تک، اگرچہ اپاجی کی زندگی کی سرگرمیاں بہت سنجیدہ اور معمول کے مطابق چل رہی تھیں اور انہوں نے بہت خوشی سے اپنے ارکانِ خاندان کے ساتھ وقت گزارا۔ ان کی آخری خواہش کے مطابق، اپاجی کو صحت مند حالت میں شرن بسویشور مندر لے جایا گیا۔ وہاں اپاجی مندر میں داخل ہوئے اور شری شرن بسویشور کے درشن کیے اور آرتی کی گئی۔  بعدازاں طبی نگرانی والی گاڑی میں مندر کا طواف کیا گیا۔ شام تقریباً ساڑھے سات بجے اپاجی کو داسوہا لے جایا گیا، جہاں دن کے پہلے نصف حصے میں ایک عارضی آئی سی یو تیار کیا گیا۔ تمام علاج اور معاون ادویات ان کی آخری سانس تک ایک طبی عملہ کی نگرانی میں جاری رکھی گئیں ، جس میں اپاجی کے آرام کے لئے سکون آور علاج جاری تھا۔
               ماتوشری ڈاکٹر دکشینی اوواجی، 9 ویں پیٹھادی پتی پوجیہ دوڈپا اپا، شری بسواراج دیشمکھ سمیت ان کے خاندان کے دیگر سبھی ممبران، جب وہ رات 09:23 بجے وفات پائی تو ان کے قریب موجود تھے۔
             ڈاکٹر اپاجی، جو اس سال نومبر میں 91 سال کے ہوگئے تھے، انہیں سانس کے انفیکشن کی شکایت کے بعد ایک نجی دواخانہ میں داخل کرایا گیا تھا اور دواخانہ میں آنے والوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ان کی صحت میں نمایاں بہتری آئی تھی۔  دواخانہ کی طرف سے جاری ہیلتھ بلیٹن اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق جمعرات کو ڈاکٹر اپاجی کی صحت نازک ہوگئی تھی ۔
                  ہیلتھ بلیٹن کے مطابق بگڑتی ہوئی صحت کے باوجود ڈاکٹر اپاجی خوش رہے اور اپنے خاندان کے تمام افراد کے ساتھ وقت گزارا۔ ڈاکٹر اپاجی کی اپنی آخری خواہش کے مطابق انہیں سانس لینے کی مستحکم حالت میں شرن بسویشور مندر منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹر اپاجی کو شرن بسویشور کے درشن کے لئے مقدس مقام میں لے جایا گیا اور آرتھی پوجا کا مشاہدہ کیا گیا۔
               شام ساڑھے سات بجے ڈاکٹر اپاجی کی آمد کے بعد سب سے پہلے ڈاکٹر اپاجی سے ملنے والوں میں ان کے خاندان کے قریبی معززین جناب شرن بسپا نِشٹی، مسٹر لنگرپا اپا، جناب پربھوراجپا اپا، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نرنجن نِشٹی، نندنی نِشٹی، وائس چانسلر پروفیسر انل کمار بڑوے، ڈین لکشمی پاٹل ماکا، فینانس آفیسر کرن ماکا اور دیگر شامل تھے۔
          شری بسواراج دیشمکھ کے بشمول خاندان کے دیگر معزز ممبروں اور مختلف ویرشیو لنگایت مٹھوں کے سوامی جیوں بشمول سری سیل کے سارنگا مٹھ کے جگت گرو ، چوڈاپوری مٹھ کے ڈاکٹر راج شیکھر مہاسوامی اور دیگر سوامی جیوں سے طویل تبادلہ خیال اور صلاح و مشورہ کے بعد، اہلِ خانہ نے ڈاکٹر اپاجی کی آخری رسومات آج 15 / اگسٹ بروز جمعہ کی شام کو ان کے والد کی سمادھی کے دائیں جانب واقع شرن بسویشور مندر کامپلیکس اور سمستھان کے ساتویں پیٹھادی پتی پوجیہ دوڈپا اپاجی کے قریب مذہبی رسم و رواج اور عقائد کے مطابق تدفین کا فیصلہ کیا۔
جب پوجیہ ڈاکٹر اپاجی کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح شہر میں پھیل گئی تو مندر کا احاطہ سمستھان کے غم زدہ عقیدت مندوں سے بھر گیا اور بہت سی خواتین عقیدت مندوں کو بے قابو روتے ہوئے دیکھا گیا اور ڈاکٹر اپاجی کے آخری دیدار کے لئے داسوہا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
ڈپٹی کمشنر گلبرگہ محترمہ فوزیہ ترنم ، پولیس کمشنر ڈاکٹر شرنپا اور سینئر پولیس عہدیداروں نے مندر کے احاطے کا دورہ کیا اور ڈاکٹر شرن بسوپپا اپا جی کے آخری رسومات کی تاریخ اور وقت کے بارے میں اہل خانہ سے تبادلہ خیال کیا اور داسوہا کے مرکزی دروازے کے علاوہ انوبھاؤمنٹپ اسٹیج پر پوجیہ ڈاکٹر اپاجی کے عقیدت مندوں کے پرامن درشن کے لئے حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دی. جہاں ریاست و ملک کے مختلف علاقوں سے آنے کا سلسلہ شروع ہوا کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی کے صدر ڈاکٹر لکشمن دستی، نائب صدر ڈاکٹر ماجد داغی رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا) ، جناب سید عبدالرؤف قادری صدر اردو منچ، و دیگر عہدیداران سمیتی پروفیسر بسواراج کمنور ،پروفیسر آر کے ہوڑگی، جناب اسلم چونگے، شری منیش جاجو، پروفیسر گلشٹی و دیگر نے ڈاکٹر دکشینی اوواجی، نوّے پیٹھادی پتی دوڈپااپا، شری بسواراج دیشمکھ و دیگر ارکان خاندان سے اظہارِ تعزیت کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے