مجیب بستوی سمریاواں سنت کبیر نگر اتر پردیش
مدارس کے طلبہ سے گذارش ” دینی مدارس کے طلبہ آج کل بے راہ روی کے شکار ہیں جب مدرسہ میں رہتے ہیں ٹوپی لگائے رہتے ہیں مدرسہ سے باہر ننگے سر رہتے ہیں معلوم نہیں ہوتا کہ مدارس عربیہ کے طالب علم ہیں سلام کرنے سے گریز کرتے ہیں والدین کا ادب واحترام نہیں کرتے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تہذیب سے دور ہوتے جارہےہیں چند سال پہلے بستی بس میں سوار ہوا مولانا نثار احمد مرحوم مدرس دارالعلوم الاسلامیہ بستی کھڑے تھے بس میں سیٹ پر ایک طالب علم بیٹھا ہوا تھا سلام بھی اس نے مولانا کو کیا مگر کھڑا نہیں ہوا کہ مولانا آپ بیٹھئے میں نے کنڈکٹر سے مولانا کو سیٹ دلوائی طالب علم کی بد اخلاقی اب تک یاد ہے افسوس ہے طلبہ کے اخلاق پر انگریزی طلبہ کے اندر کافی اخلاق پایا جاتا ہے والدین اور ان کے ملنے والوں سے سلام ودعا رکھتے ہیں مگر عربی طلبہ بد اخلاقی و بد کردار ہورہے ہیں ضروری ہے کہ علماء کرام طلبہ کے اخلاق پر توجہ دیں ۔ کیوں کہ آئندہ وہ عالم تو ہو جائیں گے مگر بد اخلاق ہی رہیں گے میری عربی طلبہ سے گذارش ہے کہ اپنی اصلاح کی فکر کریں والدین کا ادب واحترام کریں یہی وقت ہے سنبھلنے کا ہے اللہ تعالی طلبہ کو نیک اور اچھا بنائے آمین۔

