میرؔبیدری ۔ کرناٹک
نام ترا ہم لے کے ہیں
ماں ماں ماں ماں کہتے ہیں
درپہ پڑے جو رہتے ہیں
ماں ہم تیرے بچے ہیں
قد کے دیکھو پورے ہیں
خدمت میں پر پیچھے ہیں
آنچل میں ہے ٹھنڈی ہوا
دنیا میں بس دھوکے ہیں
ماں ہے کہ بازو سوتی ہے
خواب میں لیکن ڈرتے ہیں
نام سکوں دیتاہے ترا
لے کے نام بھی روتے ہیں
ماں سے شرارت اچھی نئیں
ایسا کرتے کھوٹے ہیں
ماںتو بھاگوں بھری ہے میرؔ
اتنے سارے بچے ہیں

