میرؔبیدری، بیدر۔کرناٹک
پڑھائے جو استاد کہلائے گا
دِلوں میں ہے آباد کہلائے گا
نہیں پھر تو افتاد کہلائے گا
جہاں بھر میں برباد کہلائے گا
مقامِ پیمبر پہ قائم ہے وہ
کہ علم وعمل کابھی صائم ہے وہ
پڑھائے جو طلبہ کودائم ہے وہ
وگرنہ سنوتم بہائم ہے وہ
زمانے کو رستے پہ لائے ہوئے
انھیں مدرسوں کے پڑھائے ہوئے
قرآن ، احادیث میں دیکھا ہے
یہ عمریں اپنی گھلائے ہوئے
اے اُردو کے استاد تم ہوامام
اے کنڑکے شکشک تمہیں پر سلام
ہے کالج کے فیکلٹی تم کو دوام
ہے قابل بنانا، پڑھاناہے کام
ہاں کہتے ہیں غالب ؔبے استادہ تھا
اگر سچ ہے یہ بات تو آدھاتھا
جہاں زندگی رنگ بھی ساداتھا
چلیں اس پہ استادوں کاجادہ تھا
ہیں بیالوجی استاد تیری پسند
یہ جغرافیائی کریں سانس بند
ہاں انگریزی کو چاہتے ہوں گے چند
ہیں دکنی کے استاد میری پسند
جسے کر دیا ، ہے گیا اب عموم
اے آئی ہے نام اس کا، اِ سکی ہے دھوم
اس استاد کے واسطے دنیا گھوم
وہ مل جائے گرتجھ کو ، پیشانی چوم
ہے ایماں ہمارا نھیں کے تئیں
محمد ﷺ سا استاد کوئی نہیں
میاں بیٹھ جانا ہی ہوگا وہیں
اسی درپہ رکھ دینا اپنی جبیں
(نظم جاری ہے)
