(یومِ اساتذہ کی مناسبت سے ایک درخواستِ غور و فکر)
رمیش کلکرنی (سر)، بیدر۔کرناٹک ۔
موبائل :9481634456
آج طلباء کے طرز عمل اور گفتگو کے بارے میں چاہے ہم کتنی ہی ہدایت دیں، ان کی عادات میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔، اساتذہ دیکھتے ہیں لیکن کچھ نہیں کر سکتے۔والدین کا بچوں پر دھیان اور نگرانی کم ہونے کے باعث یہ حالات پیدا ہو رہے ہیں۔صرف نرمی سے باتیں کرکے بچوں کو سمجھانا کافی نہیں، کچھ حد تک سزا، خوف اور محبت کے ذریعے ہی تبدیلی ممکن ہے۔بچوں کو نہ تو اسکول میں خوف ہے، نہ گھر میں، اسی لیے آج کا معاشرہ خوفزدہ ہے۔یہ لڑکے آج کے دھمکی دینے والے مانو بن گئے ہیں، لوگوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کی حرکتوں کی وجہ سے کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، پھر پولیس کے ہاتھ لگ کر عدالت میں سزا پاتے ہیں۔آج کے والدین کہتے ہیں’’ہمارے لڑکے کو نہ مارو، اسکول نہ آنے والے لڑکوں سے کیوں نہ پوچھیں کہ اسکول کیوں نہیں گیا؟‘‘اساتذہ صرف بچوں کی تعلیم چاہتے ہیں، ان کے دل میں بھی محبت ہے، ان کے بھی بچے اور پوتے ہیں لیکن وہ صرف آپ کے بچوں کی بہتری چاہتے ہیں۔اگرطلبہ اساتذہ کی نہیں سنتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ بچے پڑھیں، لکھیں اور اخلاق سیکھیں؟پانچویں کلاس سے ہی عجیب ہیئر اسٹائل، کٹے ہوئے جینز، دیواروں اور صوفوں پر بیٹھنے کی عادت ان میں دیکھی جارہی ہے۔ کچھ والدین کہتے ہیں کہ اگر میرا بچہ نہیں پڑھتا، کوئی مسئلہ نہیں، لیکن استاد بچے کو نہ مارے۔ یہ معاشرتی آفت ہے!۔ آج کے والدین چاہتے ہیں کہ اسکول میں غلطی پر سزا نہ دی جائے، نہ ڈانٹا جائے، بس نرمی سے سمجھایا جائے۔ کیا واقعی بغیر سزا کے تعلیم مؤثر ہو سکتی ہے؟ کیا معاشرہ بھی ایسا ہی کر رہا ہے؟ پہلی غلطی پر ہی معاف کر دینا درست ہے؟لیکن بار بار کی غلطی پر کوئی سزانہیں ؟؟
والدین توجہ دیں:۔ بچوں کی اصلاح میں اساتذہ کا مرکزی کردار ہے، چند اساتذہ کی غلطیوں کی وجہ سے تمام اساتذہ کی برائی نہ کریں۔ ہر چھوٹی غلطی پر اساتذہ پر الزام نہ لگائیں۔ 90% اساتذہ بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔جب ہم پڑھتے تھے، بعض اساتذہ ہمیں مارا کرتے تھے، لیکن ہمارے والدین اسکول آ کر اساتذہ سے نہیں پوچھتے تھے کہ میرے بچے کوکیوں ماراگیا؟، اساتذہ صرف ہماری بھلائی چاہتے تھے۔والدین کو چاہیے کہ وہ پہلے بچوں کے ذہن میں استاد کی اہمیت بٹھائیں۔
بچوں کی 60% بگاڑ کی وجوہات: ۔دوست، موبائل، میڈیا،
باقی 40%: ۔والدین، زیادہ محبت، جہالت،اور غلط عقائد جو بچوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
آج کے بچوں کی عادات:۔(۱)والدین کہنے پر بھی کار، بائیک صاف نہیں کرتے۔(۲)دکان سے چیز لینے یا لانے میں دلچسپی نہیں۔(۳)اسکول کا قلم،اور بیگ صحیح جگہ نہیں رکھتے۔(۴)گھر کے کاموں میں دلچسپی نہیں۔(۵)رات 10 بجے تک نہیں سوتے، صبح 6-7 بجے تک نہیں اٹھتے۔(۶)سنجیدگی سے بات کرنے پر چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔(۷)ڈانٹے جانے پر چیزیں پھینک دیتے ہیں۔
(۸)دیے گئے پیسے کا غلط استعمال کرتے ہیں (یعنی غیر صحت مند کھاناپینا جاری رکھتے ہیں)(۹)نابالغ بچے بائیک چلاتے ہیں، حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔(۱۰)لڑکیاں روزمرہ کے کام نہیں کرتیں۔(۱۱)مہمان آنے پر پانی دینے یا مہمانوں سے احترام کے ساتھ بات کرنے کی عادت نہیں(۱۲)لڑکیوں کے لیے کھانا بنانا معمول نہیں(۱۳)کپڑے صحیح طرح پہننا ایک چیلنج ہے(۱۴)فیشن، ٹرینڈ، ٹیکنالوجی بے ترتیبی میں ہیں(۱۵)لڑکیاں بال کاٹتی ہیں، مختلف ہیئر اسٹائل اپناتی ہیں، ہندو لڑکیاں ماتھے پر بندی نہیں لگاتیں، ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہنتیں، غیر اخلاقی لباس پہن کر‘‘فیشن’’کے نام پر ثقافت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔اوریہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ ہم بچوں کو زندگی کا سبق نہیں پڑھارہے ہیں۔ اپنے اپنے دیوتاؤں کی پوجا نہ کرنا،ثقافت سے دور ہونا،والدین اور اساتذہ کا احترام نہ کرنا،جھوٹ بولنا،بڑوں کا احترام نہ کرنا،سماجی اصولوں کی خلاف ورزی یہ سب زندگی میں چلاآیاہے۔
زندگی کے اصل قدروں کو نہ سمجھنے والے نوجوان، 15 سال کی عمر میں محبت، سگریٹ، شراب، جوا، منشیات وغیرہ میں الجھ جاتے ہیں اور زندگی کے مقصد کے بغیرزندگی کے سرکل میں گھومتے ہیں۔بچوں کی ہرطرح کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم ہوش نہ رکھیں تو آنے والی نسل تباہ ہو جائے گی۔
خبردار، خبردار، خبردار!:۔ اساتذہ کا احترام نہ کرنے والا معاشرہ تباہ ہو جاتاہے۔یہی آج کے اساتذہ کے دن کی اہم یاد دہانی ہے۔سب لوگ تبدیلی کی طرف آئیں۔
گرو کو سلام:۔ ‘‘گرو برہم گرو وشنو گرو دیو مہیشور گرو ساکشت پر برہم، تاسئے شری گرووے نمہ’’۔میری تمام استاد اور استانیوں کواساتذہ کے دن کی دلی مبارکباد
