محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک
۱۔ ہتھے اس نے کہا’’تم دراصل غلط آدمی کے ہتھے چڑھ گئے ہو‘‘ یہ سنناتھاکہ مجھے تو جیسے بجلی کے تار نے چھولیا۔ میں نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا’’سائیں، دراصل غلط آدمی میرے ہتھے چڑھ گیاہے ۔جو انجام ہوگا اس کی بابت میں ذمہ دار نہیں ‘‘پھر تو یہ جاوہ جا۔ کوئی جگہ پر نہیں کھڑا رہا۔
۲۔ طاقت ور جانے کیاجادو ہوتاہے بیٹیوں کے ہونے میں کہ میں نے پھر ایک بار بیٹی مانگ لی۔ اماں کویہ سب اچھانہیں لگتا۔ ان کاماننا ہے کہ بیٹیاں ہوں لیکن اللہ سے مانگ کر نہ لی جائیں۔ ایک دن اماں سے پوچھ لیاکہ ’’ایسا کیوں اماں ، اللہ سے بیٹیاں کیوں نہیں مانگی جائیں ؟‘‘اماں نے میرے سرپرہاتھ پھیرتے ہوئے لاڈسے کہاتھا’’بیٹے ، اللہ سے کمزور چیزیں نہیں مانگتے ۔ طاقت مانگناتاکہ تم طاقت ور بن کر رہ سکو‘‘
ا س وقت میں نے اماں سے کچھ نہیں کہاتھا۔کچھ دن بعد بیوی نے پوچھ لیا تو بتاناپڑاکہ ’’بیٹی دراصل طاقت ہی ہوتی ہے اور ایک ایسی طاقت ہوتی ہے کہ اس کی پرورش اورلکھاپڑھاکر شادی کرکے اس کواس کے گھر وداع کرنے پر جنت کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی ہے ،پھر تم یہ بتاؤکہ جنتی سے بڑھ کر طاقتور اور کون ہوسکتاہے ؟اور جنتی بھی ایسا جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہے گا؟‘‘
۳۔ خواہش میرے لڑکے نے پوچھ لیا ایک دن کہ ’’ابو ، کہانیاں لکھ کر آپ کو ملتاکیاہے ؟‘‘ میرے لئے یہ ایک غیرمتوقع سوال تھا۔ پھر بھی خود کوسنبھالنا پڑا۔ پھر میں نے بیٹے سے پوچھا’’ایک سال پہلے تم نے ایک جھگڑا کیاتھا۔ یاد ہے نا؟‘‘ میرے لڑکے نے کہا’’ہاں ابو، یاد ہے ۔ پولیس نے ایف آئی آر بھی کی تھی میرے خلاف؟جو میری زندگی کی پہلی ایف آئی آر ہے ـ‘‘
میں نے کہا’’پوچھنا یہ تھاکہ جھگڑا کرکے تمہیں آخر کیاملا؟‘‘ لڑکا میرے سوال کو سمجھنے سے زیادہ جواب دینے کی طرف دماغ لگابیٹھا۔ وہ کہہ رہاتھاکہ ’’میں سچ کے لئے لڑرہاتھا۔ ایک سال کے مقدمہ کے دوران میں نے ہمیشہ خود کو سچائی کے لئے لڑنے والا پایا، اس احساس کے ساتھ ہی جو سکون میرے جسم و جاںمیں درآتاہے اس کالطف میں بتانہیں سکتا ابو‘‘
میں نے آہستہ سے کہا’’سچائی کے لئے میں بھی لڑتاہوں بیٹے ‘‘ وہ میری طرف دیکھنے لگا۔ وہ سمجھ نہیں پایاکہ میں کیاکہہ رہاہوں۔ پھر میں نے زور دے کرکہا’’بونا آدمی ہوں، مگر کہانیاں لکھ کر سچائی کے ساتھ کھڑا ہوجاتاہوں تاکہ میرا قدبڑا کرنے کی میری امی کی خواہش پوری ہوسکے ‘‘
۴۔وہاں موجودتھا وہ بہت خوب صورت اور تیز وطرّارگھڑسوار تھی ۔برق رفتاری سے گھوڑا دوڑانا اس کے بائیں ہاتھ کاکھیل تھا۔ ایڑ لگائی اور گھوڑا سمیت خود بھی ہواسے باتیں کرنے لگ جاتی تھی لیکن اب وہ بوڑھی ہوچکی ہے۔
100قدم چلنا اس کے لئے دوبھر ہے ۔ ہوا سے باتیں کرنے والی کو آج آکسیجن کی کمی کی شکایت ہے۔جو فوری طورپر پوری کردی جاتی ہے۔ تاہم یہ بات خود اس نے بھی محسوس کی ہے کہ اس کی جوانی واپس نہیں آسکتی ۔ اسی حال میں دنیا سے جانا ہوگایاپھر اور بھی بدتر حالت ہوسکتی ہے۔ جسم گل چکاہے ۔ ہڈیاں پگھلتی جارہی ہیں ۔اس نے ایک آہ بھری اور سوچا’’زندگی کے بارے میں کتنا کچھ سوچ رکھاتھا۔ لیکن اس ظالم نے دھوکا دے دیا۔ کاش !میں آج بھی جوان ہی رہتی ‘‘
شام کے کسی وقت فرشتہ ء اجل نے اس کی سانسیںرکوا دیں تو لگاجیسے ایک دور ختم ہوا۔ اس کی نعش کو جلایاگیا،میں بھی وہاں موجودتھا۔
۵۔ کامیاب پروگرامنگ
پروگرام ختم کرکے وفدجب واپس دفتر پہنچاتو مولانا افسرعلی صاحب نے پوچھا’’پروگرام کیسا رہا؟‘‘ پروفیسر چاند پاشاہ نے آگے بڑھ کر کہا’’مولانا پروگرام نہایت ہی کامیاب رہا۔ گوکہ شرکاء کی
تعداد نہیں کے برابر تھی لیکن پروگرام کامیاب رہا‘‘
مولانا افسرعلی الجھن کاشکار ہوگئے۔’’ شرکاء کم اور پروگرام کامیاب ؟‘‘وہ گویا بڑبڑانے لگے تو اسی وفد میں سے کسی نے کہہ دیا’’اولاد اگر معذور پیدا ہوجائے تب بھی اولاد ہی ہوتی ہے۔ والدین اس معذوراولاد کو صحت مند بچے سے زیادہ پیار کرتے ہیں ‘‘
