محمد عاصم الدین اختر
امیر مقامی جماعت اسلامی ہند رائچور
سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے متعلق منائی جارہی مہم کے پروگرام کے سلسلہ میں اکبر علی صاحب سکریٹری حلقہ رات 4:30 بجے رائچور اسٹیشن پہنچے، چونکہ اس وقت کسی سواری کا انتظام نہ ہوسکا تو میں نے آٹو رکشا کے ذریعہ گھر آنے کی درخواست کی اور پتا بتادیا. جیسے ہی اکبر علی صاحب آٹو رکشا میں سوار ہوئے میں استقبال کے لئے گھر سے باہر آکر سٹرک کے کنارے انتظار میں کھڑا رہا. تھوڑی دیر بعد جب وہ پہنچے تو سلام کلام و معانقہ ہوا پھر جب میں آٹو ڈرائیور سے رقم کی بابت بات چیت شروع کی تو وہ مجھے بڑے غور سے دیکھنے لگا، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی پرانی یاد تازہ ہوگئی ہو۔ اس نے قدرے حیرت اور جوش کے ملے جلے انداز میں پوچھا، "کیا آپ اقبال آپا کے بیٹے ہیں؟” میں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور کہا، "جی ہاں۔”
یہ سنتے ہی اس کا چہرہ دمک اٹھا، وہ مسکرایہ پھر بڑی عقیدت اور محبت سے میری والدہ مرحومہ کو یاد کرنا شروع کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ برسوں پہلے اقبال آپا کا شاگرد رہا تھا۔ "آپ کی والدہ،” اس نے کہا، "ایک ایسی استاد تھیں جن کا دل اپنے شاگردوں کے لیے ماں جیسا تھا۔ وہ نہ صرف پڑھاتی تھیں، بلکہ ہر بچے کو اپنا سمجھ کر اس کی بھلائی سوچتی تھیں۔ ان کی باتوں میں ایک عجیب سی کشش اور محبت ہوتی تھی، جو دل میں اتر جاتی تھی۔”
اس کے لہجے میں ایسی گرم جوشی اور خلوص تھا کہ میں خود بھی ان لمحات میں کھو گیا، جب میری والدہ اپنے شاگردوں کو نہ صرف علم سکھاتی تھیں، بلکہ ان کے کردار کو بھی سنوارتی تھیں۔ آٹو ڈرائیور نے مزید بتایا کہ اقبال آپا کی تعلیم اور تربیت کی بدولت اس نے زندگی میں بہت کچھ سیکھا۔ "وہ ہمیں ہمیشہ ایمانداری اور محنت کی تلقین کرتی تھیں،” اس نے کہا، "اور آج بھی ان کی باتیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں۔” پھر بڑے افسوس بھرے لہجے میں کہا اگر میں ان شفیق اساتذہ کی نصیحتوں پر عمل کرتا تو آج کہیں اور ہوتا…
جب کرایہ دینے کی باری آئی تو اکبر علی صاحب نے ازراہ مزاح کہا کہ کچھ ڈسکاؤنٹ کردیجئے…. اس نے ہاتھ جوڑ کر صاف انکار کر دیا۔ "نہیں!” اس نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہئے، "اقبال آپا کے بیٹے سے میں کرایہ کیسے لے سکتا ہوں؟ یہ میری طرف سے ان کے لیے خراجِ عقیدت ہے۔” اس کی اس بات نے میرا دل چھو لیا۔ میری والدہ کو اس دنیا سے گئے 13 برس بیت چکے ہیں، لیکن ان کی محبت، ان کی تعلیم و تربیت، اور ان کے کردار کا اثر آج بھی ان کے شاگردوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
اور کیا خوبصورت حسنِ اتفاق تھا کہ یہ دل موہ لینے والا واقعہ ٹھیک اس دن پیش آیا جب یومِ اساتذہ منایا جا رہا تھا۔ یہ دن، جو اساتذہ کی عظمت اور ان کی لازوال خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مختص ہے، اس واقعے نے اور بھی یادگار بنا دیا۔ ایک اجنبی آٹو ڈرائیور کی زبانی اپنی والدہ کی خوبیاں سننا اور ان کے اثرات کو اس قدر زندہ دیکھنا، میرے لیے ایک ایسا لمحہ تھا جو دل کو گرما گیا۔ یہ واقعہ زندگی بھر ایک والدہ نما استاد اور ایک استاد نما والدہ کی یاد کو دل میں تازہ رکھے گا۔
یہ واقعہ اس بات کی گواہی ہے کہ ایک سچا استاد صرف علم ہی نہیں دیتا، بلکہ اپنے کردار اور محبت سے شاگردوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتا ہے۔ میری والدہ مرحومہ اقبال صاحبہ واقعی ایک ایسی استاد تھیں جن کی ذمہ داری اور لگن آج بھی لوگوں کے دلوں میں غیر معمولی تاثیر رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ میری والدہ مرحومہ کی قبر کو نور سے بھردے، انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے.
