از قلم محمد سلمان ندوی دربھنگہ بہار ۔

عورت دنیا کی خوبصورت نعمت ہے ۔بقول اقبال: وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں ،اللہ نے اس کو مرد کا رفیق سفر اور دمساز و ہم راز بنایا ہے ۔دنیا کی اس حسن و رعنائی میں اس کا اہم کردار ہے ۔اسی کے دم نفس سے رزم و بزم کی رونق قائم ودائم ہے ۔اس کے ناز و ادا اور عشوہ و غمزہ پر انسان ہزار جان سے فداہوتا ہے ۔وہ نہ ہو تو دنیا کی ساری رعنائی ا ورزیبایش ماندپڑجاے ۔اسی لیے قرآن نے اس کی تخلیق کوخاص نشانی قرار دیا ہے ۔اور اسے باعث سکون گردانا ہے ۔تخلیق انسانی کا ذریعہ اور نسل انسانی کے فروغ کا واحد وسیلہ بتایا ہے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: دنیا سامان ہے اور دنیا کا سب سے بہترین سامان نیک بیوی ہے ۔(صحیح مسلم:3716) اور ایک روایت میں نیک بیوی کی علامت یہ بتایا ہے کہ:جب تم اسے دیکھو تو وہ خوش کردے،تمہارے غایبانہ میں اپنی عصمت کی حفاظت کرے،تمہارے بستر پر اسے نہ بیٹھنے دے جسے تم ناپسند کرتے ہو،تمہاری دی گئی امانت کی وہ حفاظت کرے۔(مستدرک حاکم,2682/سنن ابی داؤد ،1664/صحیح مسلم ،1218)ان صفات کی حامل عورتوں کی وجہ سے ہی گھر جنت نظیر ہوجاتا ہے ۔نصف ایمان کی تکمیل کا سبب بنتا ہے ۔پاک دامنی اور عفت مآبی کی ضمانت ہے جس کی وجہ سے مرد شرعی اصطلاح میں محصن باور کیا جاتا ہے ۔ایسی ہی فرماں بردار عورت خاتون جنت کے طغرہ امتیاز سے نوازی جاتی ہے ۔

درحقیقت عورت سراپا عورت ہوتی ہے جسے شیطان خوش نما بناکر پیش کرنا چاہتا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پوری کی پوری پردے میں رہنے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے دوسروں کی نظروں میں اچھا وخوبصورت کرکے دکھاتا ہے”.(صحیح سنن الترمذی للالبانی ج 1/936) اسی لیے قرآن نے اسے خاتون خانہ بن کر رہنے کی تلقین کی ہے اور شمع انجمن بننے سے روکااور منع کیا ہے،ارشادباری تعالیٰ ہے "اور اپنے گھروں میں سکون سے ٹکی رہو اور پہلے کی جاہلیت کی طرح سج دھج کر نہ دکھاتی پھرو”.(الاحزاب:23)آیت مذکورہ سے واضح ہوتا ہے کہ انھیں گھر میں رہنے کا حکم دیا ہے اور سر جھاڑ منہ بھاڑ کرمٹر گشثی سے منع کیا ہے ۔چونکہ مقصود ان کی عزت وعصمت کی حفاظت ہے ۔اسی لیے بغیر ضرورت کے محض شوقیہ بازار گردی سے ممانعت کی ہے۔البتہ ضروریات اصلیہ اس حکم سے باجماع امت مستثنی ہے۔جیسا کہ اگلی ہی آیت میں بدرجہ مجبوری برقع وجلباب میں جانے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ارشادربانی ہے:اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کی گھونگھٹ ڈال لیا کریں ۔(الاحزاب:33) ترجمان قرآن حضرت عبداللہ بن عباس اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے ہے کہ جب وہ کسی ضرورت سے نکلیں تو سر کے اوپر اپنی چادروں کے دامن لٹکا کر اپنے چہروں کو ڈھانک لیا کریں ".(تفسیر ابن جریر ج 22,ص:29) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے ۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم عورتوں کو اجازت دی ہے کہ اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہو”.(صحیح بخاری ،237/صحیح مسلم ،217) حدیث مذکور کے لفظ حوایج میں عمومیت پایی جاتی ہے ۔اس میں دنیوی ضروریات بھی شامل ہیں اور دینی ضروریات بھی ۔چنانچہ اس کے تحت ڈاکٹر،عدالت،ملازمت اور تعلیم گاہ کے لیے جانے کی بشرط ضرورت اجازت ہوگی۔عورت کو بازار سے ضروری سودا سلف لانے والا نہ ملے تو یہ بھی ایک طرح کی حاجت وضرورت میں شامل ہے اور وہ اس کے لیے بازار جاسکتی ہے مگر شرعی پردہ کے حدود و قیود میں رہ کر۔ لیکن مرد کی موجودگی میں عورتوں کا بازار کرنے کا شوق وچسکا ناپسندیدہ ہے ۔جیسا کہ آج کے زمانہ میں یہ فعل بدمسلم معاشرہ میں ایک ابتلا عام کی طرح پھیلتا جا رہا ہے،مرد تو گھر میں سکون سے آرام فرما ہوتا ہے اورعورت دکان در دکان خاک چھانتی پھرتی ہے اور بد چلن ،آوارہ نوجوانوں کے نظر بد کا نشانہ بنتی ہے ۔اوراس میں وہ اتناطاق ہے کہ اللہ کی پناہ ۔وہ بازار کی اس قدر رسیا اور دلدادہ ہے کہ اس کے بغیر اس کو کسی دن چین و قرار نہیں ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ اکثر عورتوں کو مردوں کی خریدی ہویی چیزیں پسند نہیں آتیں ،لہذاوہ مردوں سے بار بار کہہ کر چیزیں بدلواتی رہتی ہیں ،یامرد کی خریدی ہوئی چیزوں میں نقص نکالتی ہیں ۔مثلامہنگی خرید لاے،رنگ صحیح نہیں آیا ،ڈیزایین پرانا ہے ،یہ نقش و نگار تو بوڑھی عورتوں والے ہیں۔غرض ایک دھاگے کی نلکی بھی خریدنا ہو تو بعض اوقات مرد بے چارہ دکان پر بارہا جا جا کر تنگ آجاتا ہے اور بالآخر قوت ضبط جواب دے جاتی ہے اور وہ بادل ناخواستہ کہہ دیتا ہے کہ جاؤ حسب پسند خود خرید لاؤ۔اورعورتیں اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ مردوں کی نسبت زیادہ اچھی اور سستی خریداری کرتی ہیں ۔حالانکہ یہ ان کا اپنا دعویٰ ہے،لیکن کوئی دوسرا ان کے دعوے کی تکذیب کی جرات نہیں کرسکتا۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ قیمتیں ادا کرتی ہیں اور گھاٹے کا سودا کرتی ہیں۔ایک سروے کے مطابق :دنیا کی تراسی کروڑ خواتین کا شاپنگ شیڈول ناشتے کی طرح ہے۔صرف دس فیصد خواتین شاپنگ نہیں کرتیں۔سروے کے مطابق خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں اتنا بے وقوف نہیں بنتیں جتنا دکان دار کے ہاتھوں۔دکان دارانھیں بہن،بیٹی،میڈم،بےبی کہہ کر اپنا مال مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔مغرب میں اگر چہ فکس پرایز سسٹم موجود ہے لیکن یہاں بھی دکان دار عورتوں کے ساتھ دغا وفریب کرجاتے ہیں۔جب کہ تمام ممالک جہاں بارگیننگ کے ذریعے خرید وفروخت ہوتی ہے وہاں دکان دار کے لیے شرح منافع بہت زیادہ ہے۔پٹرول پمپ پر بھی عورتوں کے ساتھ ہیرا پھیری کی جاتی ہے ملبوسات، جیولری، کاسمیٹکس اور تحائف کی خریداری میں دکان دار سب سے زیادہ نفع حاصل کرتے ہیں”.(عورتیں اور بازار ص:16/بحوالہ روزنامہ نوائے وقت 15/مئی، 1997) روزنامہ اخبار جنگ کی رپورٹ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے بغور ملاحظہ فرمائیں کہ: نیویارک میں ایک محتاط اندازے کے مطابق خواتین ا/ملین سے 4/ملین ڈالر ڈرائی کلیننگ کے اضافی چارجز دیتی ہیں ۔ آٹو کار کے ڈیلروں سے کیے گئے سروے کے مطابق 21%ڈیلروں نے مردوں کے مقابلے میں عورتوں سے زیادہ قیمتیں مانگیں ۔80/ہیر ڈریسرز سے سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دوتہائی ہیرڈریسرز عورتوں سے 25%چارجز زیادہ لیتے ہیں۔عورتیں اوسطاً 20/امریکی ڈالر زیادہ دیتی ہیں جب کہ مرد 16/امریکی ڈالرز ۔ڈرایی کلیننگ کی دکان پر ایک شرٹ کا عورتوں سے 309/ڈالر اور مردوں سے 291/ڈالر لیے جاتے ہیں ".(جنگ 30/اپریل 1993بحوالہ عورت اور بازار ،ص:17) ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے ۔ یہ رپورٹ ان مہذب اور ترقی یافتہ نام نہاد مغربی ممالک کے ہیں جو عورتوں کے حقوق اور اس کی مساوات کے سب سے بڑے علمبردار ہیں ۔تو بھلا ترقی پذیر ممالک اس صف میں کہاں کھڑے ہونگے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ گویا مرد و عورت کے مابین مساوات اور آزادی نسواں کی یہ تحریک ایک خوش نما پرفریب نعرہ ہے ، جو محض چھلاوا یا دل کے بہلانے کے لیے غالب یہ خیال اچھا ہے کے مترادف ہے ۔ع/جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ۔

بازار جانا حرام نہیں بلکہ ضروریات زندگی کی خرید وفروخت کے لیے ناگزیر ہے ۔حتی کہ اللہ کے افضل ترین خاصان خدا انبیاے کرام علیہم الصلاۃ والسلام بھی دعوت وتبلیغ اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے جاتے تھے ۔ارشاد باری ہے:ہم نے آپ سے قبل بھی رسول بھیجے ہیں جو کھانا کھاتے اور بازار میں چلتے تھے ".(الفرقان:20) لیکن یہ ضرورت کے طور پر تھا نہ کہ افضلیت کے واسطے ۔کیونکہ بازار شور و شغب،جھوٹ و فریب اور دھوکہ دھری کی جگہ ہے۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب جگہیں مسجد یں ہیں اور سب سے زیادہ ناپسند یدہ جگہیں بازار ہیں”.(صحیح مسلم) اور اس کی مزید قباحت کی وضاحت صحابی رسول حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے ہوتی ہے،ارشاد نبوی ہے: تو بازار میں سب سے پہلے داخل ہونے والا نہ ہو اور نہ ہی اس سے سب سے آخر میں نکلنے والا،اس لیے کہ اس میں شیطان انڈے بچے دیتا ہے ".(صحیح مسلم ،2451) اس سے واضح ہوتا ہے کہ بازار سے فراغت اور خریداری کے بعد وہاں ٹھہرانہ جائے بلکہ منزل پر لوٹ آیا جائے۔ خاص طور پر عورتوں کو بھی یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ گھر سے باہر محرم کے ساتھ پردہ شرعی میں نکلیں، اس طرح کہ زیب وزینت ،حسن وجمال اور جسم وبدن کی نمائش کا اظہار نہ ہو۔کیونکہ مسجد میں عورتوں کو زیب وزینت اور خوشبو میں معطرہوکر آنے کی ممانعت احادیث میں وارد ہوئی ہیں تو بازار میں تو یہ بدرجہ اولیٰ سخت ممنوع ہوں گی ۔امام ابو زکریا یحیی شرف نووی رقم طراز ہیں کہ: مختلف احادیث کی بنا پر علما نے کہا ہے کہ عورت کو مسجد جانے کی اجازت اس وقت دی جائے گی جب کہ وہ خوشبو لگاے ہوئے نہ ہو،زیب وزینت سے آراستہ نہ ہو ،ایسی پازیب نہ پہنی ہو جس کی آواز سنائی دے ،بھڑکیلے لباس میں ملبوس نہ ہو ،نہ وہ فتنہ کا باعث بنے اور نہ راستہ میں کسی فساد کا خدشہ ہو”.(شرح النواوی ،کتاب المساجد) ان شرائط کی اگرپابندی ہو تو وہ بازار جاسکتی ہے ورنہ نہیں ۔کیونکہ

مردوزن کا اختلاط عموماً فتنہ کا باعث ہوتا ہے ۔اسی لیے شریعت نے اس کو ممنوع قرار دیا ہے ۔جوعام طور پر بازاروں ،بھیڑبھاڑ والی جگہوں اور نمایشگاہوں میں ابتلاے عام کے طور پر نظر آتا ہے ۔ہندو، مسلم ،سکھ اور عیسائی کی اس میں کوئی تفریق نہیں ہوتی ۔یہیں سے مسلم لڑکیاں ہندوؤں کے رابطے میں آتی ہیں ،دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھتی ہے ،پھر یہ بھگوا لوو ٹرپ پر آکر ختم ہوتی ہے ۔ارتداد کا یہ سب سے سہل راستہ ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اس اختلاط پر مردوں کی فہمائش کی تھی اور ان کی غیرت کو للکارتے ہوئے فرمایا تھا: کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہاری عورتیں بازاروں میں جاتی ہیں اور وہاں ان کی کافروں سے مڈبھیڑ ہوتی ہے ".(مسند احمد ،1118)جس کی وجہ سے مختلف برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس پر قدغن لگانے کے لیے علامہ ابن قیم الجوزیہ نے اپنے زمانے کے امیروں اور اور خلفا کویہ صلاح ومشورہ دیا تھا۔جو آج بھی ہمارے لیے اس دور پرفتن میں چراغ راہ کا کام کرسکتا ہیے،جہاں ہر چہار سوارتدادکا طوفان آیا ہوا ہے؛ بشرطیکہ ہم اس پر عمل پیرا ہوں۔وہ فرماتے ہیں کہ: حاکم کا فرض ہے کہ وہ بازاروں،کھلے مقاموں اور مردوں کے مجمعوں میں مردوں کے ساتھ عورتوں کو اختلاط سے باز رکھے۔اس لیے کہ امام اس سلسلے میں اللہ کے یہاں جواب دہ ہے،کیونکہ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔امام کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کو آراستہ پیراستہ ہوکر نکلنے سے منع کرے،اورایسے کپڑوں میں ملبوس ہوکر نکلنے کی اجازت نہ دے جس کے پہننے کے بعد بھی وہ عریاں معلوم ہوتی ہیں۔مثلا ضرورت سے زیادہ چوڑے یا تنگ اور باریک کپڑے پر پابندی لگانے۔بعض فقہا کی یہ رائے بھی درست ہے کہ جب عورت بن سنور کر نکلے تو امام کو یہ حق حاصل ہے کہ روشنائی وغیرہ سے اس کے کپڑے خراب کردے۔یہ بہت ہلکی سزا ہے۔اگر عورت بار بار بلا ضرورت گھر سے باہر گھومنے نکلے خصوصاً بھڑکیلے لباس میں تو امیر کو قید کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔کیونکہ عورتوں کو اس حالت میں چھوڑ دینا ان کے ساتھ معصیت میں تعاون کرنے کے مترادف ہے”.(عورت اسلامی معاشرے میں،ص:383) یہ تعاون تو صرف بر و تقویٰ کے کاموں میں ہے اور برایی وغلط کاموں میں تعاون نہیں۔ارشاد ربانی ہے:تم لوگ ایک دوسرے کا تعاون نیکی اور تقویٰ میں کرو اور گناہ اور برے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو”.(المایدہ) مزید آگے فرمایا:وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوں نے چھپا رکھا ہے اس کا علم لوگوں کو ہوجائے”.(النور:31) امام ابو بکر جصاص رازی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: لفظ کے معنی سے جو مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ زینت کو ظاہر کرنے سے روکا گیا ہے کیونکہ زینت کی آواز سنانے کی نہی کے سلسلے میں نص وارد ہوا ہے۔بقول ابوالاحوص اور مجاہد اس سے مراد پازیب کی جھنکار کی آواز ہے”.(احکام القرآن،ج6,ص:169) ساتھ ہی عورت کو اتنی اونچی آواز میں گفتگو کرنے کی بھی ممانعت ہے جس سے اس کی آواز غیر مردوں کے کانوں تک پہنچ جائے ۔کیونکہ عورت کی آواز اس کی پازیب کی جھنکار کی بہ نسبت زیادہ فتنہ انگیز اور فتنہ پرور ہے ۔مفتی شفیع صاحب اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: امام جصاص نے فرمایا کہ جب زیور کی آواز تک کو قرآن نے اظہار زینت میں داخل قرار دے کر ممنوع کیا ہے تو مزین رنگوں کے کام دار برقعے پہن کر نکلنا بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگا”.(معارف القرآن ج6 ص:406)آج کل کے مروج برقعوں کے پہننے کے بعد اگر چہ عام گھریلو لباس کی زینت تو کچھ حد تک چھپ جاتی ہے لیکن خود اس برقعے کی زینت اور اس کی بناوٹ غارت گر ایمان اور فتنہ سماں ہوتی ہے ۔اورخواہ مخواہ نگاہ کو مایل اور دعوت نظارہ دینے والی ہوتی ہے ۔اسی لیے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اس کو تبرج جاہلیت میں شامل کیا ہے ،وہ رقمطراز ہیں:ہر وہ زینت اور ہر وہ آرایش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لیے لذت نظر بننا ہو،تبرج جاہلیت کی تعریف میں آجاتی ہے ۔اگر برقع بھی اس غرض کے لیے خوب صورت اور خوش رنگ انتخاب کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہوں تو یہ بھی تبرج جاہلیت ہے”.(پردہ ،ص:213) خلاصہ کلام یہ کہ عورت کا دائرہ کار گھر ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے اور باہر جانے سے حتی الامکان پرہیز کرے ۔الا یہ کہ ضرورت اس کا متقاضی ہو تو پردہ شرعی میں جاے تاکہ فتنہ وفساد سے محفوظ رہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے