نظام باطل کو بخوشی برداشت کرنے والے بعض مکروہات کو بادل ناخواستہ ہی گوارہ فرمائیں

عبدالغفارصدیقی

یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے ۔اسی مہینہ کی بارہ تاریخ کو نبی ﷺ کی ولادت ہوئی تھی اور اسی تاریخ کو آپؐ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے ۔مسلمانوں کا ایک طبقہ آپ ؐ کی پیدائش کی خوشی میں عید میلادالنبی مناتا ہے تو ایک طبقہ آپ ؐ کی وفات کے حوالہ سے اس دن کو بارہ وفات کے نام سے موسوم کرتا ہے ۔ربیع الاول کے آغاز سے ہی سوشل میڈیا پر دونوں اطراف سے ویڈیوزاورپوسٹیں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں ۔دونوں اطراف کے علماء کرام کے بیانات ،ان کے معتقدین کے اعتراضات بھی نظر آنے لگتے ہیں ۔ہماری مسجد کے امام صاحب نے گزشتہ جمعہ (12ستمبر)کے اپنے خطاب میں فرمایا کہ بارہ ربیع الاول کے نام پر خرافات انجام دی گئیں ،حالانکہ وہ جس مسجد کے امام ہیں ،اس مسجد کے حلقہ اور اس شہر میں میلادالنبی کے نام پرکہیں کوئی پروگرام نہیں ہوا ۔نہ جلسہ ہوا ،نہ جلوس نکلا۔مگر امام صاحب نے ایسی منظر کشی کی کہ جیسے ساری واہیات اسی محلہ اور اسی شہر میں ہوئی ہوں ۔واعظین کا یہ رویہ حکمت کے خلاف ہے ۔انھیں اپنی بستی کے مسائل پر بات کرنا چاہئے ۔
میلاد النبی منانے پر اعتراضات کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ عمل بدعت ہے ۔دور رسالت اور دور خلافت راشدہ میںاس کا وجودنہیں ملتا ۔بدعت وہ عمل ہے جو عبادت اور ثواب کی نیت سے کیا جائے اور اس کا ثبوت قرآن و حدیث میں نہ ہو ،یعنی وہ عمل حضور اکرم ؐ نہ کیا ہو ،نہ کرنے کا حکم دیا ہو ،نہ کرنے والوں پر خاموشی اختیار کی ہو۔بدعت کی اس تعریف پر سب متفق ہیں ۔جو لوگ جشن میلاد النبی مناتے ہیں وہ اسے بدعت نہیں سمجھتے اور نہ ہی اسے وہ نماز روزے کی طرح عبادت سمجھتے ہیں ،بلکہ وہ اس کو اسلام اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت اور تاریخ سے منسوب کرتے ہیں ۔میری رائے ہے کہ ولادت رسول ؐکی نسبت سے جلسہ کرنا اور جلوس نکال کر خوشی کا اظہار کرنا کوئی معیوب بات نہیں ہے جس پر واویلا کرکے امت میں تفرقہ بازی کو ہوا دی جائے۔ہم سب نبی اکرم ﷺ سے محبت کرتے ہیں ، بلکہ ان سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔جس سے انسان محبت کرتا ہے، اس کی پیدائش پر خوشی کا اظہاربھی کرتا ہے ۔جو لوگ اس عمل کو بدعت کہتے ہیں انھیں اپنے اس موقف پر درج ذیل گزارشات کی روشنی میں نظر ثانی کرنا چاہئے ۔
قرآن مجید اللہ کی جانب سے نازل کی جانے والی آخری اور مستند کتاب ہے ۔اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے رکھی ہے۔ الحمد للہ آج تک وہ محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا یعنی اس کی آیات میں کسی قسم کی تحریف ،حذف یا اضافہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے باوجود آپ جانتے ہیں کہ موجودہ قرآن میں تیس پاروں اور سات منزلوں میں تقسیم اورہر پارہ کی چار حصوں میں تقسیم دوسری صدی ہجری میںکی گئی ہے ۔تقسیم کے اس عمل میں نبی ﷺ کی ہدایت و رہنمائی کی بات تو چھوڑیئے کسی صحابی کی رائے اور مشورے تک کو دخل نہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ قرآن مجید پر اعراب (زیر ،زبر،پیش وغیرہ) اور نقطے حجاج بن یوسف نے لگوائے ۔جس کی وفات 95ہجری میں ہوئی ۔ کیا ان امور کو آپ بدعت کہیں گے ؟
نبی اکرم ؐ اور شیخین کے زمانے میں نماز جمعہ کے لیے ایک ہی اذان ہوتی تھی ،دوسری اذان کی بدعت حضرت عثمان غنی ؓ کے زمانے میں شروع ہوئی ۔اذان فجر میں الصلوٰۃ خیر من النوم کا اضافہ ،باجماعت بیس رکعات تراویح کا آغاز حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں ہوا اور باجماعت تراویح کو حضرت عمر ؓ نے بدعت حسنہ کہا ۔اسی طرح طلاق بدعت بھی خلیفہ ثانی ؓ کی ایجاد ہے ۔یہ وہ اعمال ہیں جو اہل اسلام میں عبادت کی فہرست میں شامل ہیں ۔
نبی ؐ کے زمانے میں دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے کسی قسم کی جماعت سازی نہیں تھی ۔نہ صحابہ کرام اپنا بستر لے کر مسجدوں میں قیام کرتے تھے ،نہ گشت تھا اور نہ چھ باتوں کی تعلیم تھی ۔مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ تبلیغی جماعت کے عمل کو ہی اصل دین کہہ کر پیش کیا جارہا ہے ۔کیا یہ بدعات میں شامل نہیں ہیں ۔اسی طرح دینی کتابوں کی طباعت اور تقسیم بھی کار ثواب سمجھاجاتا ہے جبکہ حضور اکرم ؐ کے کئی سو سال بعدان کا وجود ہوا ۔آج وضو ،غسل ،نماز وغیرہ کے ذیل میں جن فقہی مسائل کو ہم پڑھتے ہیں ،مثال کے طور پر وضو کے فرض ،وضوکی سنتیں ، وضو کے مستحبات ،ارکان نماز اور واجبات نماز نیز مستحبات نماز کی ایک طویل فہرست ،حضور ؐ کے زمانے میں ان کی فہرستیں نہیں تھیں ۔یہ ہمارے فقہاء نے کئی سو سال بعد ترتیب دیئے ،لیکن آج ہمارے نصاب کا حصہ ہیں ،ان کا پڑھنا بھی ثواب ہے اور رٹنا بھی ۔کیا آپ انھیں بھی بدعت کہیں گے ؟حضور اکرمؐ کے زمانے میں لوگوں نے آپ ؐ کو جس طرح وضو کرتے دیکھا اسی طرح خود بھی کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا ، جس طرح نماز پڑھتے دیکھا اسی طرح خود بھی پڑھی اور دوسروں کو بھی سکھائی ۔خود حضور اکرم ؐ نے فرمایا :۔’’ صلواکمارائیتمونی اصلی‘‘(نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو)۔
اگر جشن میلاد النبی ؐ کے موقع پر منعقد ہونے والے پروگرام بدعت قرار پائیں گے تو اسلام اور تبلیغ دین کے نام پر منعقد ہونے والے سمینار،سمپوزیم ،کانفرنسیں اور اجتماعات بھی بدعت قرار پائیں گے ۔اگر حضور اکرم ؐ کا تذکرہ بدعت ہے تو نعتیہ مجالس اور نعتیہ مشاعرے کس ذیل میں شمار کیے جائیں گے ،جن کا اہتمام ہماری دینی جماعتیں کرتی ہیں ۔تعجب اس بات پر ہے کہ اپنے اکابرین کی شان میں اجلاس منعقد کریں گے ،ان کے حیات و کارناموں پر مشتمل کتابیں چھپوائیں گے اور اجرا ءکی رسم انجام دیں گے ،اور وہ بھی دین کے نام پر مگر حضور ؐ کے نام پر ربیع الاول میں پروگرام بدعت قرار پائیں گے ۔
مسلمانوں کی کچھ ملی و دینی جماعتیں اپنا فائونڈیشن ڈے (یوم تاسیس )مناتی ہیں۔بعض قیام کے پچاس سال اور سو سال مکمل ہونے پر پروگرام کرتی ہیں ،کچھ تنظیمیں یوم تشکر کے نام سے تو کچھ یوم احتساب کے نام سے یوم تاسیس کی تقریبات منعقد کرتی ہیں ،دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کو کون نہیں جانتا ؟جمعیۃ العلماء کے دفتر پر پرچم کشائی اور ذمہ داران جمعیۃ کی طرف سے سلامی دینے کا عمل جگ ظاہر ہے ۔ یہ سارے اعمال دین اور ثواب کے نام پر انجام دیئے جاتے ہیں ۔کیا یہ بدعات کی ذیل میں نہیں آتے؟
حضور اکرم ؐ کی پیدائش اور بعثت اللہ کا بڑا احسان ہے ۔لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ ٍ(آل عمران164)’’ یقیناً مومنین پر یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ان میں سے رسول مبعوث کیا‘‘۔دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول کی بعثت اللہ کی عظیم نعمت ہے ۔نعمت پاکر شکر ادا کرنے کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے دی ہے :۔وَاشْکُرُوا نِعْمَتَ اللّٰہِ إِن کُنتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ (النحل:114)’’اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘سورہ یونس کی آیت 57 میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بارے میں کہا:۔’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔‘‘ اس کے بعد آیت 58میں ارشاد ہوا:۔اے نبیؐ، کہو کہ ”یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں”۔یعنی نزول قرآن پر خوشی منانے کا حکم دیا گیا ہے ۔کیا رسول ؐ کی بعثت نزول قرآن سے کوئی کم درجہ کی نعمت ہے ۔جو لوگ نص کا مطالبہ کرتے ہیں کیا سورہ یونس کی یہ دو آیات نص نہیں ہیں ،کیا قیاس کو دینی احکام کا اہم ماخذماننے والے ان آیات پر قیاس کرکے یوم ولادت رسول ؐ پر خوشی منانے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔آپ پوچھتے ہیں کہ آپ کی ولادت پر صحابہ نے جشن نہیں منایا۔لیکن آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ دوررسالت میں ایمان لانا کسی مصیبت کو مول لینے سے کم نہ تھا اس کے باوجود جو صحابہ آپ پر ایمان لے آئے تھے انھوں نے محبت رسول میں اپنا سب کچھ قربان نہیں کردیا تھا ۔کیاان کی یہ قربانی کسی جشن سے کم ہے ۔غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت عمر ؓ نے نصف مال راہ خدا میں دے کر سوچا تھا کہ میں آج ابوبکر ؓ سے جیت جائوں گا ،لیکن ابوبکرؓ سارا مال لے آئے ،کیا ایثار و قربانی میں مسابقت کا یہ جذبہ کسی عداوت پر مبنی تھا ،کیا ایسا کرتے وقت صحابہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت ابوبکر کیوں کہتے :۔’’ صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس‘‘یہ خوشی نہیں تھی تو اور کیا تھا؟کیا آپ ؐ کی پیدائش پر آل مطلب خوش نہیں ہوئے تھے ؟کہتے ہیں کہ ابولہب تک نے ثوبیہ کو آزاد کردیا تھا۔(فتح الباری)
اس پہلو سے بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس موقع پر جلسہ و جلوس کے کیا فائدے ہیں ؟موجودہ دور میں مسلمانوں کی دین سے دوری کوئی مخفی بات نہیں ہے ۔ہماری نئی نسلیں حضور اکرم ؐ کی سیرت اور تاریخ سے واقف نہیں ہیں ۔بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے ہونے والے پروگرام کے ذریعہ انھیں کم سے کم کچھ معلومات مل جاتی ہیں ۔اسی طرح برادران وطن کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔مسلمانوں کے دلوں میں حضور سے محبت کا جذبہ تازہ ہوتا اور پروان چڑھتاہے ،ان کے اندر ایک جوش دیکھنے کو ملتاہے ۔یہ اس گئے گزرے دور میں غنیمت ہے ،کہتے ہیں کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کا گزر کسی گائوں سے ہوا ،وہاں کے لوگ دین سے واقف نہ تھے ۔حضرت نے پوچھا دین کے نام پر کیا کرتے ہو؟انھوں نے کہا :’’ تعزیہ نکالتے ہیں ‘‘ حضرت نے کہا :’’ نکالتے رہنا‘‘ ۔مریدین کو تعجب ہوا ۔حضرت سے وضاحت چاہی تو حضرت نے فرمایا:۔’’ ان لوگوں کے پاس اسلام کی یہی شناخت باقی ہے اگر اس سے بھی روک دیا گیا توان کے پاس دین کی کوئی علامت نہیں رہے گی ۔‘‘ اگر یہ واقعہ مستند نہ بھی ہو تب بھی کیاحکمت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ جو لوگ اپنے مسلمان ہونے کی پہچان تعزیہ بنانے اور میلاد النبی ؐ کا جلوس نکالنے کو سمجھتے ہوں ،ان کو ایسا کرنے دیا جائے ۔البتہ حکمت کے ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کا نظم کیا جائے ۔
ہمیں جشن میلادالنبی ؐ کی مخالفت کے بجائے اس ماہ کو ماہ سیرت رسولؐ کے طور پر منانا چاہئے ۔اس ماہ میں ہم سیرت کا مطالعہ کریں ،دوسروں کو سیرت رسول ؐ سے واقف کرائیں ،طلبہ کے درمیان سیرت کوئز کے مقابلے منعقد کیے جائیں ،سیرت پر اجلاس اور اجتماعات نیز نعتیہ مشاعرے منعقد کیے جائیں ،قلم کار اور محققین حضرات سیرت کے تشنہ موضوعات پر قلم اٹھائیں ۔وغیرہ ، وغیرہ۔اس موقع پر عظیم الشان اور منظم جلوس بھی نکالے جائیں تاکہ سرکاری انتظامیہ ،عوام اور میڈیا عظیم الشان پیغمبر کی بعثت سے آگاہ ہو۔رہی بات اس موقع پر کیک کاٹنے ،شراب پی کر ڈانس کرنے ،نماز ترک کرنے ،یا میلاد کے نام پر نماز پڑھنے کی تو ظاہر ہے اس کی تائید کوئی مسلمان کیسے کرسکتا ہے ؟میری گزارش ہے کہ آپ جشن میلاد النبی ؐ منائیں یا نہ منائیں ،مگر امت میں تفرقہ بازی کو ہوا نہ دیں ،ملک کے موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ جب آپ نظام باطل کو خوشی خوشی برداشت کررہے ہیں تو کچھ مکروہات(اگر آپ کے نزدیک وہ مکروہات ہیں) بھی بادل ناخواستہ گوارہ فرمائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے