بیدر۔ 16؍ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): محفل نساء شاخ گلبرگہ کے تحت ایک روزہ سیمینار ’’اردوادب میں تصوف‘‘7؍ستمبر 2025؁ء اتوار کو ہیومن ایج گلشن اطفال گلبرگہ میں رکھاگیاتھا۔ جس
کی صدارت محترمہ شائستہ یوسف نے کی اور جس کاکلیدی خطبہ پروفیسر حمیدالدین اکبر صاحب صدرشعبہ ء اردو خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی گلبرگہ نے دیا۔اس کلیدی خطبہ کویہاںاختصار کے ساتھ پیش کیاجارہاہے ۔
پروفیسر حمیدالدین اکبر نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہاکہ ایک پلیٹ فارم کے ذریعہ غالباً پہلی مرتبہ اس عنوان کے ذریعہ متوجہ کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جو قابل مبارک باد ہے۔ ان کاکہناتھاکہ ادب کے ارتقاء میں تین تہذیبی اداروں کارول مرکزی معلوم ہوتاہے (۱) بازار(۲) خانقاہ (۳) دربار ۔ چھٹی تا دسویں صدی تک ہندی روایات غالب رہیں۔ سب سے پہلے صوفیاء نے ہندی ؍ہندوستانی سے کام لیا۔ امیر خسرو، بوعلی قلندر، شرف الدین یحییٰ منیری ، شاہ باجن ، گرونانک ، بندہ نواز ، سید اشرف جہانگیر سمعنانی ، کبیر ، شیخ عبدالقدوس گنگوہی، عین الدین گنج العلم ، میراجی ، شمس العشاق ، برہان الدین جانم کے یہاں اسلامی تصوف بہاریں دکھانے لگتاہے۔ جس میں نازک خیالی ، شفافیت ، صناعی اور دیگر خوبیاں نظر آتی ہیں۔ آج تصوف کو ماورائیت ، زندگی سے فرار، خانقاہیت اور ترک ِ دنیا والا مسلک کہہ کر اس کو پرے رکھاجاتاہے ۔ پروفیسر حمیدالدین اکبر نے کہاکہ تصوف میں بھی بے راہ رویاں جگہ پاگئی ہیں جس کی اخلاقی ، سماجی قدروںکاایماندارانہ تجزیہ ضروری ہے۔ مصحفی نے کہاتھا’’حق یہ ہے کہ تصوف اور شاعری ساتھ ساتھ چلتے ہیں‘‘تصوف میں اکثرمسائل وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے تحت چلتے ہیں۔ جس کے لئے نص (قرآن وحدیث) سے دلیل ملتی ہے۔ ہر بڑی شاعری منزل پر پہنچ کر صوفیانہ ہوجاتی ہے۔ تصوف میں اس قدر کشش ہے کہ شاعر اپنی ذات میں کائنات کو سمیٹ لیتاہے توتصوف کی طرف ہوجاتاہے۔ ایرانی شعراء کے پاس تصوف کااثر بہت زیادہ تسلیم کیاگیاہے۔ ایرانی شعراء عطار، رومی ، نظامی گنجوی ، جامی ، عراقی ، تقدیسی ، حافظ وغیرہ بلند پایہ شاعر ہیں۔ اردو میں بھی ایسا ہی ایک سلسلہ ہے۔ شاہ تراب بو علی قلندر، حضرت جی غمگین ، مرزا مظہر جان جاناں ، خواجہ میردردؔ وغیرہ ۔ مولانا محمد حسین آزاد کے بقول ایسا تصوف کسی نے بیان نہیںکیاجیسا خواجہ میردردؔ نے بیان کیاہے۔ خواجہ میردردؔ صوفیانہ شاعری کے ایک نمائندہ شاعر ہیں۔ اپنی شاعری میں انھوں نے مدح وضم ، مزاح اور ہجونگاری سے ہٹ کر تصوف سے لبریز باتیں پیش کی ہیں۔ جمیل جالبی کااقتباس ہے ’’بنیادی طورپر تصوف کاکام تہذیبِ نفس اور اصلاح ِ فرد ہے ۔ تصوف سراسر اخلاق ہی کانام ہے۔ اس سے انسانی معاشرتی رشتے گہرے اور مبسوط ومربوط ہوتے ہیں ‘‘پروفیسر حمیدالدین اکبر نے حوالہ کے ذریعہ بتایاکہ ہمہ اوست کی بات کرنے والا وحدت الوجود اور ہمہ از اوست کی بات کرنے والا وحدت الشہود، دونوں صحیح نظریات ہیں۔ الگ الگ نہیں ایک ہیں۔ میرتقی میرؔ، آتش ، غالب ؔ، میکش ؔ، انوراللہ انور، احمد رضاخان کے یہاں مرکزیت تصوف کوحاصل ہے۔ انسان دوستی کامسلک تصوف کامرکزی نکتہ ہے ۔ اردوکے شعراء نے اس پر روشنی ڈالی ہے۔ پروفیسر صاحب نے اس سلسلہ میں اقبال ؔ،میرتقی میرؔ، نظیرؔاکبرآبادی ، غالب ؔ، جیسے شعراء کے اشعار پیش کرتے ہوئے ان میںموجود صوفیانہ فکر کو اجاگر کیاہے۔ اور کہتے ہیں کہ’’ اردوشاعری میں تصوف کی روایات گہری ہیں۔ اخلاقی بلندی اور وسعتِ قلبی اس طرح کی شاعری میںملتی ہے۔ تصوف نے اردوشاعری کاذہن بنانے میں اہم کردار اداکیاہے۔ جس تصوف نے ہماری شاعری کومتاثر کیاہے وہ سماجی احتجاج ہے‘‘ پروفیسر حمیدالدین اکبر نے نثر کی جانب رخ کرتے ہوئے اپنے کلیدی خطبہ میں کہاکہ خواجہ بندہ نواز ؒ کی معراج العاشقین اور شکارنامہ میں صوفیانہ افکارپیش کئے گئے ہیں۔ ملاوجہی کی سب رس اور دیگر نثرنگاروں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے صوفیا کے اس نکتہ کو پیش کیاجس میں کہاگیاہے کہ فکرکرو اللہ کی صفات میں، فکرنہ کرواللہ کی ذات میں۔ پروفیسر صاحب نے گلبرگہ کے حوالے سے اکرام باگ اور حمیدسہروردی کے افسانوں میں بھی تصوف کی جلوہ گری بتلائی ہے۔ اسی طرح وہاب عندلیب کے خاکوں اور شائستہ یوسف کے اشعار میں بھی تصوف کے ہونے کی گواہی دیتے ہوئے محفل نساء اور ارباب مجاز کو ’’اردو ادب میں تصوف‘‘ جیسے اہم عنوان پر ایک روزہ سیمینار رکھنے پر مبارک باد پیش کی ۔ اور اپنا کلیدی خطاب ختم کیا۔ محفل نساء کی ارباب مجاز ’’اردو ادب میں تصوف ‘‘جیسے اہم اورخوبصورت عنوان پرمردوں کے بجائے صر ف اور صرف خواتین ہی سے مقالے لکھواتیں اوردیگر ذمہ داریاں بھی مردوں کو دینے کے بجائے خواتین ہی کو سونپ دیتیں تو نسوانیت کاحقوق ادا ہوجاتا اور اس ’’حق طرازی‘‘کے سب قائل ہوجاتے۔
تصویر منسلک ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے