اعداد: محمد وسيم راعين 

تعلیم کی اہمیت، افادیت اور ضرورت کسی سے مخفی نہیں ہے- اسی لیے اسلام میں تعلیم کی بڑی اہمیت ہے پہلی وحی، اللہ کی عبادت، توحید کا حکم اور شرک کی مذمت وغیرہ سے  متعلق نہیں، بلکہ تعلیم وتعلم سے متعلق ہے جس سے اسلام میں تعلیم وتعلم کے اعلی مقام ومرتبہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے مزید یہ کہ ان پانچ آیتوں میں ، پانچ مرتبہ علم اور ادات علم کا ذکر ہے جس سے بھی علم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

قرآن کریم میں متعدد مقامات پہ علم اور اہل علم کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کیا گیا ہے- کہیں علماء کو  حقیقت میں اللہ سے ڈرنے والےقراردیا ہے، کہیں اللہ تعالی نے فرشتوں کے ساتھ اہل علم کو اپنی وحدانیت پہ گواہ بنایا ہے ، کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم کے اضافہ کی دعاء سکھلائی گئی ہے ۔ یہ سارے امور علم اور اہل علم کے مقام کو بتلاتے ہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا ہے کہ اللہ نے آپ  کو معلم  بناکر بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں تعلیم پہ خصوصی توجہ دی بدر كے قیدیوں کا فدیہ ہی بچوں کو سکھلانا مقرر کیا، خود  مسجد نبوی میں صحابہ کی تعلیم وتربیت میں مشغول رہتے ،آپ کی علمی مجلسیں اسی میں منعقد ہوا کرتی تھیں۔

جو قوم تعلیم کو جتنی اہمیت دے گی وہ اسی قدر ترقی کے منازل طے کرے گی یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت نے ابتداء ہی سے تعلیم پہ بڑی توجہ دی ہے  مدرسوں،تعلیم گاہوں، یونیورسٹیز اور کالجوں کے قيام کا خصوصی اہتمام کیا ہے- ساتھ ہی ساتھ ہر مسجد میں حفظِ قرآن کے مراکز قائم ہیں۔ نظامی تعلیم کے علاوہ مختلف مساجد ومراکز میں لکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے- مختلف چھٹیوں میں مختلف علوم وفنون کے متون کی تدریس وتشریح کے دورے منقعد کئے جاتے ہیں ۔ کتاب وسنت کی صحیح تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا یہ عمل صرف سعودی باشندے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دنیاکے مختلف گوشوں میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ سعودی کے مختلف یونیورسیٹی میں دنیا کے مختلف ممالک کے طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اور انہیں کتاب وسنت  کے صحیح  علم سے مزین کیا جاتا ہے، سعودی حکومت کی اس عظیم خدمات کا اندازہ اس سے لگائیے کہ سعودی کے مختلف یونیورسٹی سے بیرونی فارغین طلبہ کی تعداد ستر ہزار سے متجاوز ہے ۔

مسجد نبوی، مقام و مرتبہ کے اعتبار سے مسجد حرام کے بعد ہے، مسلمانوں کے دل میں اس کا بڑا مقام ہے- اس مسجد میں ایک نماز کا ثواب ہزار نماز کے برابر ہے-

مسجد نبوی میں تعلیم کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے ۔ جسے اللہ تعالی نے اس مسجد کی زیارت  کی سعادت بخشی ہے انہوں نے ضرور مشاہدہ کیا ہوگا کہ مسجد کے مختلف جگہوں میں مختلف اوقات میں کیا چھوٹے کیا  بڑے، کیا مرد کیا خواتین سب پڑھنے میں مشغول ہیں۔

مسجد نبوی کا تعلیم کے فروغ میں کیا کردار ہے اسی کو جاننے کے لئے ان احصائیات کوپڑھیں اور  وہاں کے علمی ماحول اور علم کے فروغ میں سعودی حکومت کی کاوشوں کا اندازہ لگائیں۔

حفظ قرآن مجید کے لئے (۴۰۶) اساتذہ کی نگرانی میں طلبہ کے حلقات کی تعداد (۸۰۳)آٹھ سو تین ہے جن سے (۹۱۸۲) طلبہ مستفید ہو رہے ہیں اسی طرح ۴۳۴ معلمات کی نگرانی میں (۵۷۳) پانچ سو تہتر حلقات سے (۱۱۲۰۹) گیازہ ہزار دو سو نو طالبات قرآن کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، یہ تو وہ اعداد و شمار ہیں جو براہ راست ان حلقات میں شامل ہوکر استفادہ کرتے ہیں۔ الحمدللہ آج کے اس فاصلاتی تعلیم کے دور میں فاصلاتی تعلیم سے مستفید ہونے والوں کا تعلق دنیا کے ۱۲۴ ممالک سے ہے جن کی مجموعی تعداد  ۶۵۸۱۸ہے۔

قرآن مجید کے حفظ کے علاوہ  دیگر علوم وفنون کے متون کا یاد کرنا ایک اچھے عالم کے لئے ضروری ہے اسی کی خاطر مسجد نبوی میں مختلف علوم وفنون کے متون بھی یاد کروائے جاتے ہیں جس کے لئے (۱۳۱) اساتذہ کی نگرانی میں طلبہ کی (۲۸۸) حلقات ہیں جس سے  ۴۸۶۵ طلبہ مستفید ہوتے ہیں اسی طرح ۸۴ معلمات کی نگرانی میں طالبات کے لئے ۸۴ حلقات ہیں جن سے استفادہ کرنے والی طالبات کی تعداد ۲۱۳۹ ہے۔ یہ تو  وہاں موجود رہ کر استفادہ کرنے والوں کی تعداد کی تفصیل ہے جبکہ  دنیا کے ۹۸ ممالک کے ۱۸۹۷۱ طلبہ و طالبات مستفید ہوتے ہیں۔

یہ تو صرف قرآن مجید کے حفظ اور علمی متون کے یاد کرنے کی تفاصیل ہے۔ جبکہ تصحیحِ تلاوت کے حلقات الگ ہیں جن میں سے بہت سے حلقات سال بھر چلتے ہیں اور کچھ حلقات موسمی ہوتے ہیں جو زائرین کی قلت و کثرت سے کم و زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔

اسی طرح بڑے بڑے علماء کے مستقل دروس ہوتے ہیں جو مختلف اوقات میں مختلف علوم وفنون کی مختلف کتابیں پڑھاتے ہیں۔ کہیں تفسیر کا درس ہوتا ہے تو کہیں حدیث کا، کہیں علم قراءت کی مجلس ہے تو کہیں علم حدیث کی۔ کہیں فقہ کے مسائل سمجھائے جاتے ہیں تو کہیں عقیدہ  کی باریکیاں بتائی جاتی ہیں، تو کہیں  وعظ نصیحت کی مجلس قائم ہوتی ہے۔

اسی طرح مسجد نبوی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے مستقل کلیہ قائم ہے۔

یہ تو صرف مسجد نبوی کی تعلیمی خدمات ہیں، مسجد حرام میں بھی اسی طرح کی علمی فضاء ہے، وہاں بھی مختلف علوم وفنون کی تدریس ہوتی ہے اور  شائقین علم کے لیے باقاعدہ کلیہ موجود ہے۔

سابقہ سطور سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ سعودی حکومت علم اور علماء کی کیسی سرپرستی کرتی ہے، آپ سعودی عرب کی علم دوستی کا اندازہ اس سے بھی لگائیے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ نے حال ہی میں ایک ہی جگہ متعدد جنسیات کے طلبہ کا ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے۔

سعودی عرب کی یہ ایسی خدمات ہیں جس کی مثال نہیں ملتی ہے، اللہ تعالی اس حکومت کی حفاظت فرمائے اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے اور دن دگنی رات چگنی ترقی دے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے