ذاکر حسین
بانی : الفلاح فاؤنڈیشن (بلڈ ڈونیٹ گروپ)
بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر کی پندرہویں برسی پر اس سانحہ کی تلخ یادیں پھر تازہ ہو گئیں ہیں۔اس معاملے کی حکومت کا عدالتی تحقیقات سے راہِ فرار نہ صرف ملک کے مسلمانوں بلکہ ملک کے انصاف پسند طبقوں کیلئے بھی باعث تشویش ہے۔ بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر کو ملک کے مسلمانوں کے علاوہ دیگر طبقات کے انصاف پسند افراد غلط مانتے ہیں اور ان کی جانب سے مسلسل اس پولیس آپریشن کی جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ ہوتا آرہاہے۔ لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر کی جوڈیشیل انکوائری کا کوئی واضح موقف پیش نہیں کیا جا سکا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں اور انصاف پسند طبقوں میں غم و غصے کا احساس پایا جا رہا ہے ۔
واضح رہے کہ 19 ستمبر2008میں دہلی کے جامعہ نگر میں دہلی پولس نے اعظم گڑھ کے دو مسلم نوجوان عاطف امین اور محمد ساجد کو مبینہ تنظیم سیمی کا رکن بتا کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے حقوق علمبردار کی تنظیموں اور راشٹریہ علماء کونسل کی جانب سے اس پولس آپریشن کو لیکر مسلسل شک و شبہے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انکاﺅنٹر میں ہلاک محمد ساجد کی انکاﺅنٹر کے وقت عمر تقریباً 14,15 کے آس پاس تھی۔ انکاﺅنٹر سے متعلق ایسے بہت سے سوال ہیں، جن کے جواب تلاش کرنے کی کوشش میں اس انکاﺅنٹر کو لیکر ذہن میں بہت سے سوال گردش کرنے لگتے ہیں۔ جیسے دہلی پولس کا کہنا تھا کہ جامعہ نگر کے L-18 میں مقیم دہشت گرد دروازہ کھولتے ہی پولس اہلکاروں پر گولیاں برسانے لگے ۔اب سوال یہ ہیکہ اگر دروازہ کھولتے ہی فلیٹ کے اندر سے گولیاں چلائی گیں تو آپریشن کی رہنمائی کر رہے موہن چند شرما کے پیچھے گولی کیسے لگی؟ محمد ساجد مرحوم کے والد محترم اپنے نوجوان بیٹے کی موت پر رنج وغم کی چادر سے ایسا لپٹے کہ موت کے بعد بھی ان کے چہرے سے رنج و غم کااحساس ان کے عزیز اقارب کو مسلسل پریشان کرتا رہا۔ ان کے چہرے پر چھائی درد کی پرچھائیں جیسے ہر وقت یہی سوال پوچھتی ہو کہ ہمیں کب انصاف ملے گا؟ لیکن ان کا انتظار، انتظار ہی رہا اور وہ بھی درد کے سائے میں جیتے جیتے زندگی سے ہار بیٹھے۔
بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر میں ہلاک عاطف امین کے والد محترم کے چہرے پر بھی اپنے جوان بیٹے کی موت کے درد کے سائے ہر وقت منڈلاتے نظر آتے تھے۔ محترم امین مسلسل راشٹریہ علماء کونسل کے ساتھ اپنے بیٹے کو انصاف دلانے کیلئے جدوجہد کی راہوں میں سرگرداں تھے۔ لیکن انصاف نہیں ملا اور وہ بھی دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ محترم امین کی دردناک کہانی کچھ یوں ہیکہ ان کا ایک بیٹا بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر میں میں زندگی کی دہلیز عبور کر موت کی وادیوں میں کہیں کھو گیا تو دوسرا بیٹا بھی گزشتہ تین برس قبل دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔ عاطف امین مرحوم اور محمد ساجد مرحوم کے اہل خانہ انکاﺅنٹر کے بعد سے ہی احساسِ محرومی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہیکہ جناب امین صاحب محمد ساجد کے اہلِ خانہ کی احساسِ محرومی کا صلہ کون دے گا۔؟ حکومت یا پھر دہلی پولیس؟ خیال رہے کہ آئین ہند کی مروجہ کرمنل پروسیجر کوڈ (ضابطہ مجموعہ فوجداری) کی دفعہ 176 کے مطابق کسی بھی پولس ٹکراﺅ کی مجسٹریٹ جانچ کروانا لازمی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکوت مسلمانوں اور انصاف کا احترام نہ سہی آئین ہند کا احترام کرتے ہوئے اس پولس آپریشن کی جانچ کرواتے ہوئے انکاﺅنٹر سے جڑے شک و شبہات کو دور کرے۔ بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر کی جوڈیشیل انکوائری کی مانگ اور اس معاملے میں انصاف کی مانگ کر رہے راشٹریہ علماء کونسل کے سربراہ مولانا عامر رشادی، دیگر لیڈران اور کارکنان قابلِ مبارکباد ہیں کہ مسلسل ان کی جانب سے بلا خوف حکومت سے جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر نہ صرف ایک انکاﺅنٹر نہیں تھا بلکہ یہ حادثہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بدترین دن تھا، جب دہلی پولس نے دو نوجوانوں کو آئین اور حقوق انسانی کی تمام حدود کو عبور کرتے ہوئے قتل کر دیا۔ انکاﺅنٹر میں ہلاک محمد ساجد کے بارے میں کہا جاتا ہیکہ وہ ایک نا بالغ لڑکا تھا اور انکاﺅنٹر سے قبل وہ اعظم گڑھ کے اپنے آبائی وطن سنجر پور میں رسوئی گیس بھرنے کی دوکان چلایا کرتا تھا، میڈیا نے اسی سے جوڑ کر اسے بغیر کسی تحقیق کے بم بنانے کا ماہر بتا دیا تھا۔ حالانکہ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے انکاﺅنٹر میں ہلاکت کے وقت ساجد کی عمر 13،14 تھی۔ اب اس بات پر غور کرنے کی ضروت ہیکہ ایک تیرہ، چودہ سال کے بچے کو بم بنانے کی اتنی مہارت کہاں سے حاصل ہوئی ہوگی؟ انکاﺅنٹر کے بعد گرفتاریوں کا لامتناہی سلسلہ چلا، جس میں سنجر پور باشندہ محمد سیف، اعظم گڑھ باشندہ محمد شہزاد، اعظم گڑ ھ کے ہی موضع بینا پارہ باشندہ ابوالبشر سمیت انگنت تعلیم یافتہ مسلم نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دئیے گئے ۔
بٹلہ ہاﺅس انکاﺅنٹر کے بعد پولس کی گرفت میں آئے خالص پور باشندہ اعظم گڑھ کے شہزاد احمد کو دہلی کی نچلی عدالت ساکیت کورٹ نے عمر قید کی سزا سنا ئی تھی۔حالانکہ شہزاد احمد کے معاملے میں ایسے بہت سے شواہد ہیں،جو شہزاد احمد کی عمر قید کی سزا پر بہت سے سوال اٹھاتے ہیں ۔جس دن ساکیت کورٹ میں شہزاد احمد کی مقدمے کی سماعت ہورہی تھی تو شہزاد احمد نے ساکیت کورٹ سے مانگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ فاضل جج ایک بار L-18 کو دورہ کر کے وہاں کا جائز لے لیں کہ کیا اس عمارت کی اوپری منزل سے کوئی چھلانگ لگا کر زندہ بچ سکتا ہے؟ لیکن ساکیت کورٹ نے شہزاد احمد کی مانگ کو رد کرتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا سنا دی تھی۔ گزشتہ برس جیل میں ہی شہزاد کی موت ہوگئی۔
واضح رہے کہ جامعہ نگر میں واقع L-18 چار منزلہ عمارت ہے اور مرحوم شہزاد پر جس فلیٹ سے کود کر بھاگنے کا الزام ہے وہ عمارت کی چوتھی منزل ہے۔ اب غور کرنے والی بات ہے کہ اگر کوئی شخص چار منزلہ عمارت سے کودتا ہے تو وہ کیسے زندہ بچ سکتا ہے؟ حکومت کو چاہئے کہ اس انکاﺅنٹر کی عدالتی تحقیقات کروائے، تاکہ اس انکاﺅنٹر کو لیکر ملک کے مسلمانوں اور انصاف پسند طبقوں میں جو شکوک و شبہات پائے جا رہے ہیں۔ اس کو دور کیا جا سکے اور اس معاملے میں انصاف ہو سکے۔ اس کے علاوہ اس معاملے میں راشٹریہ علماء کونسل کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
آج اعظم گڑھ کے مختلف مقامات سے مسلمانوں کی تعلیم و ترقی سے متعلق مثبت خبریں آرہی ہیں، جو اطمینان بخش ہیں۔ قوم کے لوگوں کو چاہئے کہ قوم کے بچوں کو قانون کی تعلیم کی طرف بھی راغب کریں۔ قوم کو چاہئے کہ متحد ہوکر اپنی سیاسی طاقت کو مضبوط کرے، ایسی سیاسی طاقت کو جو ہمارے حقوق کیلئے لڑ سکے،جو ہمارے اوپر ہوتے مظالم کے خلاف لب کشائی کر سکے۔
