مفتی ہمایوں اقبال ندوی
سب سے پہلے ایمان قبول کرنے والوں کی فہرست کا مطالعہ کیجئےتو پہلا نام ایک خاتون کا ملتا ہے، اور اسلام کی راہ میں اپنی جان کی قربانی جس نے سب سے پہلے پیش کی ہے وہ بھی ایک عورت ہی ہے۔تفصیلی واقعہ سیرت کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اماں جان حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے لبیك کہنے میں سبقت کی،اور وہ مسلم خاتون اول ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔اسلامی تاریخ میں اپنی پوری فیملی کے ساتھ اسلام قبول کرنے کی سعادت حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حاصل ہوئی ہے،اسی لئے انہیں بطور خاص ظلم و ستم کا شکار ہونا پڑا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ہونے والےمظالم کو دیکھ کرانہیں صبر کی تلقین کرتےاور یہ جملہ ارشادفرماتے:”صبراآل ياسر،فإن موعدكم الجنة "اے آل یاسر صبر کرو! بےشک تمہارا وعدہ جنت ہے”۔ابوجہل نے ایک موقع پر حضرت سمیہ رضی اللہ پرترک اسلام کا سخت دباؤ بنایا، انہیں بھوکا پیاسا رکھا، تپتی ریت پر لٹادیا، مگر جب وہ ایمان پر ثابت قدم رہیں تو نیزہ مار کر انہیں شہید کردیا۔یہ اسلام میں پہلی شہادت تھی، یہ بھی ایک خاتون کے نام لکھی گئی۔
تاریخ شاہد ہے کہ خواتین اسلام کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ مذہب اسلام سے ان کے عقیدت ومحبت کو اللہ رب العزت دین کی اشاعت کا ذریعہ بنادیا۔پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی ہے، اور لوگوں نے اس پہلو سے اسلام کا بطور خاص مطالعہ کیا ہے،اور اس کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہےکہ خواتین کی پہلی پسند مذہب اسلام کیوں ہے؟اور کیوں اس کےلئےجان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتی ہیں؟بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کی واحد وجہ اسلام میں دئیے گئے خواتین کو بے پناہ حقوق ہیں۔
اس دین میں عورتوں کو وہ حقوق حاصل ہوگئے ہیں جن سے وہ پہلے محروم تھیں۔عرب کی تاریخ پر نظر رکھنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام سے پہلے خود مرکز اسلام عرب میں کن مظالم سے دوچار ہونا پڑا ہے۔عورتوں کو اس درجہ حقیر وکمتر سمجھا جاتاکہ وہ حق زندگی سے بھی محروم کردی گئی تھیں۔ بچیاں زندہ دفن کردی جاتیں،حق وراثت سے انہیں محروم رکھا جاتا، زبردستی ان کا نکاح کسی سے کردیا جاتا، تعلیم سے انہیں دور رکھا جاتا، اسلام آیا تو بیٹی رحمت بن گئی،جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے چلی گئی، وراثت میں خواتین کا حصہ فکس ہوگیا، نکاح میں ان کی رضامندی کو لازمی سمجھی گئی، اور ان عزت وعصمت کی مکمل گارنٹی اسلام میں دی گئی۔ان باتوں نے صنف نازک پر ایسا اثرکیاکہ اس کے مقابلے میں انہیں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا آسان لگا۔اس راستے اسلام کی تبلیغ واشاعت کی راہیں کھل گئیں، اور خواتین نے اس دین کی اشاعت وحفاظت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ د
اسلامی تاریخ ان شاہین صفت خواتین کی قربانیوں کو تاقیامت فراموش نہیں کر سکتی ہے۔
عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
اک سچ کے تحفظ کے لئے سب سے لڑی ہوں
وطن عزیز میں کچھ سالوں سے سازش یہ ہورہی ہے کہ دنیا کی توجہ جس وجہ سے اسلام کی طرف مبذول ہوئی ہےاسی پر کاری ضرب لگائی جائے، اسلام ومسلمان کو حقوق نسواں کی پامالی کا ذمہ دار بنایا جائے،جن عورتوں کو مسیحا کی تلاش ہے ان کے دلوں میں نفرت پیداکردی جائے۔یہ کام اپنے ملک میں منظم طور پر کیا جارہا ہے۔بھارت کی عدلیہ پر اب بھی لوگوں کا بھروسہ ہے،چنانچہ عدلیہ کے ذریعے بھی یہ گھناؤنے اور ناپاک عزائم کو بروئے کار لانے کی سعی ہورہی ہے۔آج پھر ابوجہل نئے روپ میں سامنے آگیا ہے۔کبھی طلاق کے نام پر، کبھی حلالہ کا شگوفہ پھوڑ کر،کبھی حجاب کو قدامت پرستی کہ کر،مسلم خواتین کا استحصال کرنا چاہتا ہے۔
بلقيس بانو کا مشہور زمانہ کیس میں پورے ملک نے ابھی کچھ دنوں پہلے یہ منظر بھی دیکھا ہےکہ وہ مجرمین جنہیں پھانسی ہونی چاہیے تھی، انہیں ضمانت مل رہی ہے،اور پھول مالے سے مسلم خواتین کے حقوق پر باتیں کرنے والوں کی طرف سے ان کا استقبال کیا جاتا ہے۔اور دوسری طرف مسلم خواتین کے مسجد میں جاکر نماز نہ پڑھنے سے انہیں بڑا دکھ ہورہا ہے۔سپریم کورٹ میں پہلے یہ کہ کر درخواست دی گئی تھی کہ مسلم خواتین کے ساتھ برابری نہیں ہوتی ہے،انہیں مسجد جانے نہیں دیا جاتا ہے۔اس پر ملک کی متفقہ تنظیم مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وضاحت نامہ داخل کیا کہ مسلم خواتین مسجد میں جاسکتی ہیں، انہیں روکا نہیں گیا ہے، ملک میں بہت ساری مساجد ہیں جہاں خواتین نماز پڑھتی ہیں۔نیز ایک ایڈوائزی جارے کرکے ملک کے مسلمانوں سے بورڈ نے یہ اپیل کی ہے کہ اب مساجد میں خواتین کے لئے ایک ہال کا بھی نظم کیا جائے۔پرسنل لا بورڈ کی دانشمندی سے یہ معاملہ اپنے انجام کو پہونچ گیا،چنانچہ یہ بات سازش کرنے والوں کو بالکل راس نہیں آرہی ہے اور انہیں اس معاملے میں منھ کی کھانی پڑی ہے۔ اب دوسرا معاملہ شروع کردیا گیا ہے۔اب سپریم کورٹ میں پھر پٹیشن داخل کی گئی ہے، اسمیں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ مسجد میں مسلم خواتین کے ساتھ بھید بھاؤ ہوتا ہے،عورتوں کو امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، مسجد کے مین گیٹ سے خواتین کو داخلہ نہیں ملتا ہےاور ،ان کےلئے دوسرا گیٹ رکھا جاتا ہے۔جبکہ یہ چیزیں اپنے ملک میں خواتین کے لئے کی جاتی ہیں اور انہیں ناری سمان کہا جاتا ہے،بسوں میں خواتین کے لئے الگ نشست گاہ کا نظم ہوتاہے، کاؤنٹر پر خواتین کے لئے الگ لائننگ ہوتی ہے ۔یہی چیزیں مساجد میں کی جائیں تو بھید بھاؤ ہے۔یہ سب اسلام میں خواتین کو ملے بےپناہ حقوق سے دھیان بھٹکانے کی کوشش ہے۔اور ملک کی وہ خواتین جو بھید بھاؤ کی وجہ کر مذہب اسلام کی طرف مائل ہورہی ہیں انہیں اس سچے مذہب سے بدظن کرنا ہے۔
ملک کی دلت آبادی جنہیں مختلف مظالم کااس وقت سامنا ہے ،ان کی عورتوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کی روز خبریں آتی ہیں۔اس طرف کچھ بھی توجہ نہیں ہے۔صرف اور صرف مسلم خواتین کی انہیں یاد آرہی ہے۔یہ اسلام ومسلمان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔آج ہمیں اس بڑے خطرے سے ہشیار ہونا ہے اور اس کے سد باب کےلئے عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ابھی ہفتہ عشرہ پہلے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر محترم جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ارریہ تشریف لانے تھے،حضرت نے خاص طور پر اس بات کی تاکیدفرمائی ہے کہ یہ علماء کرام کی ذمہ داری ہے۔ علماء وائمہ کرام سامنے آئیں اور اس نازک گھڑی میں امت کی رہنمائی فرمائیں۔
خدا کا شکر ہے کہ کچھ احباب اس عنوان پر کام بھی کررہے ہیں۔قابل مبارکباد ہیں خلیل آباد شہر ارریہ کے امام خطیب جناب حضرت مولانا ومفتی انتخاب صاحب قاسمی پچھلے دس سالوں سے ہر ماہ اپنی مسجد سے متصل خواتین کے لئے ورکشاپ کا اھتمام کررہے ہیں۔ابھی گزشتہ اتوار کو مجھے بھی موصوف نے مدعو کیا تھا، قریب سے دیکھنے کا موقع نصیب ہواہے۔خواتین کے کیا حقوق ہیں؟ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟موجودہ حالات میں انہیں کیا کرنا ہے؟ان اہم موضوعات منظم انداز میں خواتین کی ترتیب کی جاتی ہے۔ مفتی صاحب کا مقصد موجودہ فتنوں سے انہیں خبردار کرنا ہے، نیز دعوت اسلام کے لئےانہیں تیار بھی کرنا ہے۔خواتین کے لئے یہ تربتی ورکشاپ موجودہ وقت کی شدید ترین ضرورت ہے۔اس کام کو باضابطہ ایک تحریک کی شکل میں کرنے کا یہ وقت تقاضہ کرتا ہے۔آج ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ ان خواتین کو ان کی ذمہ داریوں سے روشناس کرائیں۔عنقریب ان شاء اللہ العزیز یہ مسلم خواتین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مثال بنکر وقت کے اٹھتے ہوئے ان طوفانوں کے سمت کو تبدیل کر دیں گی۔وماذالك على الله بعزيز۔
صدیوں سے مرے پاؤں تلے جنت انساں
میں جنت انساں کا پتہ ڈھونڈ رہی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری
