ایک درخشاں ستارہ غروب ہوا!
اللہ تعالیٰ نے شہر گورکھپور کو جہاں علماء، صلحاء، مدبرین و مفکرین، شعراء و ناقدین، مولفین و مصنفین سے نوازا ہے وہیں ڈاکٹر و اطباء سے بھی مالامال کیا ہے، جس کی ایک سنہری کڑی مولانا حکیم محمد احمد قاسمی گورکھپوری بھی تھے، جو ایک عالم باصفا کے ساتھ ایک ماہر طبیب اور روحانی حکیم تھے، جہاں خدمت خلق کے فریضہ کو انجام دیتے تھے وہیں عالمانہ انداز میں دینی و سیاسی اسٹیج پر بھی نظر آتے تھے۔ اسلام کے پیغام کو برادران وطن تک پہونچاتے رہے۔ یہ قوم کے ساتھ ہمدردی و غمخواری، اخلاص و محبت کا جذبہ ان کے نمونہ سلف والد بزرگوار مولانا حکیم وصی احمد قاسمیؒ سے ملا تھا، وہ درحقیقت اپنے والد مرحوم کے علوم کے جانشین تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اخلاق حمیدہ اور اصلاح مابین کی دولت سے نوازا تھا۔
الغرض یہ بھی ہمارے لئے نمونہ سلف تھے، جب بھی گورکھپور جانا ہوا، ان کی ملاقات کیلئے حاضر ہوتا، وہی خاندانی رئیسانہ اندازمیں دم کی ہوئی چائے بڑی خندہ پیشانی سے پیش فرماتے۔ مرحوم ملی کاموں کے ساتھ دینی کاموں میں بھی اپنی مثال چھوڑ گئے۔ تاحیات دارالعلوم رسولپور گورکھپور کی سرپرستی فرماتے رہے۔ افسوس یہ درخشاں ستارہ اپنے رب حقیقی سے جا ملا ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘۔
اللہ تعالی مرحوم کی بال بال مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے صاحبزدگان، بھائیوں اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔
احمد کمال عبدالرحمان ندوی
خادم جامعہ رحمانیہ اسلامیہ
رحمان نگر ، کشی نگر یوپی
