✍️مفتی نذیر احمد حسامی ظہیر آباد 

      زمانہ فتنہ و انتشار کا ہے۔ اقدار مٹ رہی ہیں۔ بزرگوں کا وقار پامال ہو رہا ہے۔ نوجوان خود کو عقل و فہم کا محور سمجھنے لگے ہیں۔ زبانوں میں کڑواہٹ ہے، آنکھوں میں بے ادبی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بڑوں کا ادب ہی زندگی کی زینت ہے۔ احترام ہی انسانیت کا سرمایہ ہے۔ بے ادبی وہ زہر ہے جو رشتوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
    قرآن اور حدیث ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ بڑوں کی تعظیم دراصل ایمان کا حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ﴾ (یسین)یعنی "ہم جس کو لمبی عمر دیتے ہیں اس کی جسمانی ساخت کو پلٹ دیتے ہیں، کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے؟”۔ یہ آیت ایک آئینہ ہے۔ بڑھاپا بچپن کی طرف پلٹنا ہے۔ ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔ قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔ سماعت کمزور ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے۔ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ سبق یہ ہے کہ جو بوڑھے اور ناتواں ہیں، وہ احترام اور خدمت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
     قرآن کے اوراق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ملتا ہے۔ وہ مدین پہنچے۔ کنویں پر ہجوم تھا۔ مرد اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ ایک طرف دو لڑکیاں کھڑی تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا، تم کیوں نہیں پانی پلاتیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارے والد بوڑھے ہیں، وہ باہر نہیں آ سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔ یہ خدمت صرف لڑکیوں کی نہیں تھی، بلکہ ایک بوڑھے باپ کی خدمت تھی۔ قرآن نے اس منظر کو محفوظ کیا تاکہ قیامت تک لوگ سمجھیں کہ بوڑھوں کی مدد، ان کا سہارا بننا، دراصل شریعت کا تقاضا ہے۔
    حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان میں بھی یہی سبق ہے۔ جب بنیامین کو روک لیا گیا تو برادران یوسف نے عرض کیا: ہمارے والد بوڑھے ہیں، ہم پر رحم کیجیے۔ اس "بوڑھے والد” کا واسطہ دیا گیا۔ یہ واسطہ خود بڑھاپے کی عظمت کی دلیل ہے۔
     قرآن نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی سخت تاکید کی ہے۔ فرمایا: "جب وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انہیں اف تک نہ کہو”۔ اف تک کہنا منع ہے تو پھر گستاخانہ جملے کیسے جائز ہو سکتے ہیں؟ ماں باپ کی خدمت جنت کا راستہ ہے، اور بے ادبی ہلاکت کا سامان ہے۔
      احادیث بھی اسی حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "ان من اجلال الله اكرام ذي الشيبه المسلم”۔ یعنی سفید بالوں والے مسلمان کی عزت کرنا اللہ کی تعظیم کرنا ہے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: "ان من اجلالی توقير الشيخ من امتي”۔ یعنی میری امت کے بوڑھوں کی تعظیم کرنا، دراصل میری تعظیم ہے۔ ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا: "البركة مع أكابركم”۔ یعنی برکت تمہارے بزرگوں کے ساتھ ہے۔
      سیرتِ نبوی بھی اس ادب کا جیتا جاگتا آئینہ ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کے سامنے دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ نے نوش فرمایا۔ دائیں طرف ایک کم عمر لڑکا تھا اور بائیں طرف بزرگ بیٹھے تھے۔ آپ نے اس لڑکے سے اجازت چاہی کہ یہ پیالہ بزرگوں کو پیش کر دوں۔ سوچیے! یہ عدل بھی ہے، ادب بھی ہے۔ ایک اور منظر دیکھیے۔ فتح مکہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے والد حضرت ابو قحافہؓ کو، جو بالکل بوڑھے ہو چکے تھے، اسلام قبول کرنے کے لیے لائے۔ ان کے سر اور داڑھی سفید ہو چکی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! انہیں گھر پر رکھتے، میں خود ان کے پاس آ جاتا۔ یہ جملہ سنت کے آئینے میں بوڑھوں کی عزت کا ایسا عکس ہے جو قیامت تک نہیں مٹے گا۔
     یہ واقعات اور نصوص ہمیں چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بڑوں کا ادب زندگی کا سرمایہ ہے۔ ماں باپ کی عزت لازم ہے۔ اساتذہ کا احترام فرض ہے۔ علماء کی تعظیم ایمان ہے۔ جو عمر میں بڑے ہیں، جو علم میں بڑے ہیں، جو تقویٰ میں بڑے ہیں، سب ہمارے لیے باعثِ برکت ہیں۔
      آج کے دور میں یہ سبق اور زیادہ ضروری ہے۔ سوشل میڈیا نے زبانیں بے لگام کر دی ہیں۔ نوجوان بڑوں کو کمتر سمجھنے لگے ہیں۔ استاد کی کرسی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ماں باپ کی نصیحتوں کو مذاق سمجھا جا رہا ہے۔ یہ روش خطرناک ہے۔ بے ادبی قہر الٰہی کو دعوت دیتی ہے۔ کہا گیا ہے: "با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب”۔ ادب ہی سعادت ہے، گستاخی محرومی ہے۔
     پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بڑوں کی خدمت کو سعادت جانیں۔ ان کی دعاؤں کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنائیں۔ ان کے قدموں کو جنت کا راستہ سمجھیں۔ انہی کے سائے میں زندگی کا سکون ہے، انہی کے چہرے میں اللہ کی رحمت کی جھلک ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے