مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
جادو کو عربی میں سحر کہتے ہیں، قرآن کریم کے پہلے پارے کے سورہ بقرہ:102/میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے حوالہ سے اس کا ذکر آیا ہے ، امام قرطبی نے تفسیر قرطبی میں محمد بن اسحاق کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے رسول ہونے کی بات کہی تو پادریوں نے کہا کہ وہ نبی رسول نہیں ، اللہ کی قسم وہ جادوگر تھے ( احکام القرآن للقرطبی : 31/2) اللہ رب العزت نے ان کے اس خیال کی تردید کی اور فرمایا: وہ لوگ اس کے پیچھے پڑ گیے جو شیطان حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمرانی کے دور میں پڑھا کرتے تھے، حضرت سلیمان نے کفر نہیں کیا ، شیطانوں نے کفر کیا ، اس لیے کہ وہ لوگوں کو جادو سکھلاتے تھے، قرآن کریم میں بابل میں ہاروت و ماروت نامی دو فرشتوں کے جادو سکھانے کا ذکر بھی ملتا ہے، یہ دوفرشتے اس کام پر اس لیے مامور کیے گیے تھے کہ لوگ معجزہ اور جادو کو ایک ہی سمجھنے لگے تھے، اصلاً یہ فرشتے ان دونوں کی الگ الگ حقیقت کو واشگاف کرنے کے لیے بھیجے گیے تھے، اس کے لیے فرشتوں کو جادو کے اصول و فروع بھی بتانے پڑتے تھے، بتانے کے قبل یہ دونوں فرشتے اس بات کی صراحت کرتے تھے کہ ہم آزمائش کے لیے بھیجے گیے ہیں، اس لیے اس جادو کا استعمال کر کے کافر مت ہو جانا، یہ بتا کر انہیں جادو سکھاتے ، ان میں سے بعض نے اس قول کو مانا اور بعض اس کو غلط کاموں کے لیے استعمال کرنے لگے ، میاں بیوی میں تفریق مخلوق خدا کو تکلیف پہونچانے اور لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے استعمال کرنے لگے، چنانچہ وہ اس عمل کی وجہ سے دین حق سے ہٹ کر کافر ہو گیے ۔
یہاں پر یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ سحر (جادو) ایسے عمل کو کہتے ہیں جس میں شیطانی تقرب اور اس کی مدد شامل ہو (لسان العرب : 189/6) علامہ آلوسی نے روح المعانی میں لکھا ہے کہ سحر سے مراد وہ عجیب وغریب معاملات ہیں، جو خارق عادات جیسے ہوتے ہیں، شیطان کی قربت اور بُرے کاموں کے ذریعہ ہی اس کا حصول ہوا کرتا ہے (534/1) معجم الاوسط میں ہے کہ ہر وہ معاملہ جس کا سبب مخفی ہو اور غیر حقیقی چیزوں کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہو، دھوکہ دہی اور مکر و فریب کے مثل ہو، سحر کہلاتا ہے (419 ) سحر کا لفظ کبھی اچھے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحُرا یعنی واقعتاً بعض بیان اپنی تاثیر کے اعتبار سے جادو ہوتے ہیں.
حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد جادو گروں کا ذکر قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں آیا ہے اور بار بار آیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو اس فن میں مہارت تھی ، اسی نسبت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معجزہ دکھانے کے لیے عصا (لاٹھی ) دیا گیا تھا ، جو زمین پر رکھتے ہی سانپ بن جاتا تھا، دریا پر مار دیتے تو پانی راستہ دیدیتا، جادوگروں سے مقابلہ ہوا تو اس عصا نے سانپ بن کر جادوگروں کے سارے شعبدے اور تماشے کو نگل لیا، حضرت موسی علیہ اسلام اپنے ہاتھ کو بغل میں ڈال کر نکالتے تو وہ روشن نظر آتا، چوں کہ یہ اعمال بھی دیکھنے میں خرق عادات ہی ہیں ، اس لیے بنی اسرائیل اس کو بھی جادو ہی سمجھتے تھے لیکن جب لاٹھی نے جادوگر کے سارے تماشوں کو ہڑپ کر لیا تب ان کی آنکھ کھلی اور بہت سارے جادو گر موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور فرعون کے سولی پر چڑھانے، ہاتھ پاؤں کاٹنے کی دھمکی تک کی انہوں نے پرواہ نہیں کی۔ لیکن جادو کا فن جاری رہا، آخر میں آقا آقاصلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیے جانے کا واقعہ سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے، چنانچہ قرآن کریم کی دوسورۃ معوذتین کا شان نزول یہی جادو ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جاد ولبید یہودی اور اس کی بیوی نے کیا تھا، اس کا اثر آپ کے ذہن پر پڑا، آپ سمجھتے تھے کہ یہ کام میں نے کر لیا حالاں کہ وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، لبید نے جادو تانت کے ایک ٹکڑے پر کیا تھا، جس میں گیارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں ، دونوں سورتوں کی آیات مجموعی طور پر گیارہ ہیں، حضرت جبریل نے ان سورتوں کو پڑھا اور ہر آیت پر ایک گرہ کھلتی چلی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر شفایاب ہو گئے۔
اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ سحر، جادو کا وجود ہے اور اس کے اثر سے آدمی بیمار بھی ہو سکتا ہے ، حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سحر اور نظر بد دونوں حق ہیں۔
سحر (جادو) کی بہت ساری اقسام کا علماء نے ذکر کیا ہے، ان میں سے بھی محض نظر بندی اور تخیل ہے، جب جادوگروں نے حضرت موسی علیہ السلام سے مقابلے کے لیے رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوت متخیلہ متأثر ہوگئی اور وہ اس کو سانپ سمجھنے لگے، قرآن کریم میں ہے کہ اچانک ان کی ڈالی ہوئی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے نتیجے میں حضرت موسی کو ایسا محسوس ہونے لگیں جیسے وہ دوڑ رہی ہوں ، بعض شعبدہ بازہاتھ کی صفائی اور نظر بندی کے ذریعہ سڑکوں پر بھی ایسا تماشہ دکھاتے ہیں، یہی ان کی کمائی کا ذریعہ ہے، تخیل اور نظر بندی کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو شیطان کے اثر سے ہوتا ہے اور اس کے اثرات جس پر جادو کیا گیا ہو، حقیقتاً ہوتا ہے اور وہ پریشان ہو اٹھتا ہے، جادو کی تیسری قسم میں حقیقتیں ، اعیان تبدیل کر دیے جاتے ہیں ، جیسے آدمی کوکتا، بلی، چوہا عورت کو سانپ بچھو وغیرہ کی شکل میں تبدیل کرنا، بعضوں نے تبدیل اعیان کو نہیں مانا ہے لیکن ایسا نہ تو عقلی طور پر مستبعد ہے اور نہ شرعی طور پر، اس لیے جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ سحر کے اثر سے ایسا ممکن ہے، علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اسی کو جمہور کی رائے قرار دیا ہے، لکھتے ہیں ”جمہور علماء کے نزدیک دیا علماء اس کی حقیقت یہ ہے کہ جادو گر کبھی جادو کے موقعہ پر ہوا میں اڑتا ہے، کبھی پانی پر چلتا ہے، کبھی کسی انسان کو قتل کر دیتا ہے، کبھی کسی کو گدھا بناتا ہے، فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور وہی اس کے منتر میں اثر ڈالتا ہے، جس کی وجہ سے ماہیت اور حقیقت تبدیل کرنے پر وہ قادر ہوتا ہے (534/1) اس کی تائید میں قعقاع بن حکیم کی وہ روایت بھی ذکر کی جاتی ہے جو موطا امام مالک میں ہے کہ یہ چند کلمات نہ ہوتے اور میں ان کو نہیں پڑھتا تو یہودی مجھے گدھا بنا دیتے ، بعض حضرات نے ان تین قسموں کے علاوہ چار اور قسمیں یعنی کل سات قسمیں بتائی ہیں، تفصیلات کے لیے حضرت مولانا محمد طاہر اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب کی "حقیقت سحر“ کا مطالعہ کرنا چاہیے، میرے اپنے خیال میں سحر کی ایک وہ قسم ہے جو سمیریزم کی طرح اثر کرتی ہے اور گرمی کی لہر کی طرح جسم میں سرایت کر جاتی ہے، ساحر کی سزا کے سلسلے میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ بہت سخت ہیں ، ان کے یہاں اس جرم کی سزا قتل ہے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی ، امام ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف کافر ہی نہیں ہے بلکہ زمین میں کفر کے ساتھ فساد بھی پھیلا رہا ہے، اس لیے مرتد کی طرح اس کی توبہ قبول نہیں کی جاسکتی، چنانچہ حضرت حفصہ کی ایک باندی نے ان پر سحر کر دیا تھا ، اقبال جرم کے بعد حضرت حفصہ نے عبدالرحمن بن زید کو قتل کا حکم دیا، انہوں نے اسے قتل کر دیا، حضرت عمر نے بھی حکم دیا کہ ہر ساحر مرد و عورت کو قتل کر دو، چنانچہ لوگوں نے تین ساحروں کوقتل کر دیا، نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ جس نے جادوکیا، اس نے شرک کیا ، حدیث میں منتر ، جھاڑ پھونک اور ٹوٹکے کو شرک قرار دیا گیا، علامہ خطابی نے تعویذ ، جھاڑ پھونک اگر قرآنی آیات اور اسماء حسنی، ماثورہ اور منقولہ دعاؤں کے ذریعہ ہو تو مباح ہے، البتہ اگر کلمات کفریہ اور ہندو منتر وغیرہ کے ذریعہ ہو تو حرام ہے ، اسی طرح آیات قرآنیہ سے بھی جھاڑ پھونک اگر غلط مقاصد کے
لیے ہوتو وہ ” الامور بمقاصدها“ کے تحت نا جائز اور حرام ہے، جادو کے اثر سے بچنے کے لیے صبح و شام معوذتین یعنی ” قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْخَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کے ساتھ اس دعا کو بھی پڑھتے رہنا چاہے ۔
أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمُ مِنْهُ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بِرِّ وَلَا فَاجِرٌ وَبِأَسْمَاءِ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمُ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَا (مؤطا امام مالک : ۳۷۷) اس دعا کا پڑھنا بھی مفید ہے : ” اعيد بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ (الكبائر للذهبي، ص: 17)
