شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
قربانی اسلام کی ایک عظیم عبادت ہے جو ہر سال عید الاضحی کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ اطاعتِ الٰہی، ایثار، تقویٰ اور سماجی ذمہ داریوں کا عملی اظہار ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی کی یاد میں مسلمان پوری دنیا میں جانور ذبح کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں جہاں شہری زندگی پیچیدہ ہو چکی ہے، وہیں حکومتوں نے بھی عوامی صحت، ماحولیات اور امن و امان کے پیش نظر کچھ اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان قربانی کرتے وقت نہ صرف شرعی احکام کو مدنظر رکھیں بلکہ سرکاری گائیڈ لائنز پر بھی مکمل عمل کریں اور ان جانوروں کی قربانی سے اجتناب کریں جن پر پابندی عائد ہے۔
اسلام ہمیں نظم و ضبط، صفائی اور قانون کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔ چنانچہ قربانی کے سلسلے میں سرکاری ہدایات پر عمل کرنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف معاشرے میں نظم برقرار رہتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی تحفظ ہوتا ہے۔
ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ آباد ہیں، وہاں قربانی کے عمل کو ذمہ داری اور حساسیت کے ساتھ انجام دینا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ بعض ریاستوں میں مخصوص جانوروں جیسے گائے یا اس کی نسل کے ذبح پر قانونی پابندی ہے۔ ایسے قوانین کی خلاف ورزی نہ صرف قانونی کارروائی کا باعث بنتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مقامی قوانین سے پوری طرح آگاہ ہوں اور صرف ان جانوروں کی قربانی کریں جن کی اجازت ہو، جیسے بکرا، بھیڑ یا وغیرہ۔
قربانی کے لیے جانور کے انتخاب میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ بیمار، کمزور یا عیب دار جانور کی قربانی اسلامی تعلیمات کے مطابق درست نہیں۔ اسی طرح سرکاری ہدایات کے مطابق جانور کا صحت مند ہونا، ویکسینیشن ہونا اور ویٹرنری ڈاکٹر سے تصدیق شدہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی بیماری نہ پھیلے۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں جانوروں کی خریداری صرف مستند منڈیوں یا رجسٹرڈ بیچنے والوں سے کرنی چاہیے۔
قربانی کے عمل کے دوران صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا نہایت اہم ہے۔ خون، آلائشوں اور باقیات کو سڑکوں، گلیوں یا نالیوں میں پھینکنا نہ صرف غیر مہذب عمل ہے بلکہ اس سے بیماریاں بھی پھیل سکتی ہیں۔ حکومت اکثر اس مقصد کے لیے مخصوص مقامات یا سلاٹر ہاؤسز مقرر کرتی ہے جہاں قربانی کی اجازت ہوتی ہے۔ ایسے مقامات کا استعمال کرنا شہری ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ ہدایات کے مطابق آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ قربانی کے جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔ اسلام جانوروں پر ظلم کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ ذبح سے پہلے جانور کو تکلیف نہ دی جائے، اسے پانی پلایا جائے اور اس کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح نہ کیا جائے۔ یہ تمام اصول نہ صرف دینی تعلیمات کا حصہ ہیں بلکہ جدید ویٹرنری اصولوں کے بھی مطابق ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں قربانی کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے، جو اکثر غیر ضروری تنازعات کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے مواد کی تشہیر سے گریز کریں جو دوسروں کے جذبات کو مجروح کرے۔ اسلام ہمیں دوسروں کے احساسات کا احترام سکھاتا ہے، اور یہی ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔
مزید برآں، قربانی کا اصل مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ تقویٰ کا حصول ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:‘‘لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَ?ٰکِن یَنَالُہُ التَّقْوَیٰ مِنکُمْ’’(الحج: 37) یعنی اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اگر قربانی کے ساتھ قانون شکنی، گندگی یا دوسروں کو تکلیف دینا شامل ہو تو اس کا روحانی مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان قربانی کے موقع پر اتحاد، بھائی چارے اور انسانیت کا عملی نمونہ پیش کریں۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مند خاندانوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ اسلام نے قربانی کو صرف ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ معاشرتی فلاح و بہبود کا ذریعہ بھی قرار دیا ہے۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ اپنے آس پاس کے ضرورت مند افراد تک قربانی کا گوشت پہنچائیں تو اس سے محبت، اخوت اور ہمدردی کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔
اسی طرح نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ قربانی کے موقع پر جذباتیت کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ موٹر سائیکلوں پر جانوروں کی نمائش، سڑکوں پر ہنگامہ آرائی یا غیر ضروری شور شرابہ نہ صرف معاشرتی بے چینی کا سبب بنتا ہے بلکہ عبادت کے تقدس کو بھی متاثر کرتا ہے۔ عید الاضحی قربانی اور عبادت کا تہوار ہے، اس لیے اس کی روح کو برقرار رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
میڈیا، سماجی تنظیموں، علماء کرام اور مقامی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ عوام میں بیداری پیدا کریں تاکہ قربانی کے دوران صفائی، قانون کی پابندی اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر معاشرے کے تمام طبقات مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو عید الاضحی نہ صرف ایک مذہبی تہوار بلکہ سماجی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور انسانی ہمدردی کی بہترین مثال بن سکتی ہے۔
ایک ذمہ دار مسلمان وہی ہے جو اپنے دین کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے قوانین کا بھی احترام کرے۔ قربانی ایک مقدس عبادت ہے، اور اسے اسی تقدس کے ساتھ ادا کیا جانا چاہیے۔ سرکاری گائیڈ لائنز پر عمل، ممنوعہ جانوروں سے اجتناب، صفائی کا خیال اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا نہ صرف ایک اچھے شہری کی پہچان ہے بلکہ ایک سچے مسلمان کی بھی علامت ہے۔
