- ہندو شدت پسند افراد مسلم طبقہ کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف، سرکار اور سرکاری مشینری ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہوئی ہے!
سہارنپور(احمد رضا): یوں تو ملک بھر میں مگر اتراکھنڈ میں آجکل ہندو شدت پسند ی کچھہ زیادہ ہی عروج پر ہے مسجد،مدارس اور ہماری خانقاہیں انکے نشانہ پر ہیں بہت کچھ بلڈوزر کی نظر چڑ ھ چکا ہے اب یہ ظالم اتراکھنڈ کو مسلمانوں سے خالی کرانا چاہتے ہیں سرکار کی خاموشی سے جا برون کے حوصلہ بلند ہیں، نینی تال ہا ئی کورٹ کے سخت احکامات کے باوجود آج بھی بجرنگ دل کے دہشت پسند افراد مسلم طبقہ کے خلاف زہر گھولنے میں مسلسل مصروف ہیں لگاتار تین روز سے ہردوار ،پرولہ اور اتر کاشی میں بجرنگ دل کے ممبران کہتے گھوم رہے ہیں کہ اگر کہیں گوشت یا خون نالیوں میں دیکھوں تو فوری طور سے ہم کو اطلاع دیں پھر ہم بتائیں گے ان مسلمانوں کو کہ عید کیسے منا ئی جاتی ہے ان دھمکیوں سے اب ہردوار اور بہادر آباد اور جوالا پور کے ہزاروں مسلمانو ں کے چہرہ پر گھبراہٹ صاف صاف نظر آ رہی ہے مگر اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ایک لفظ بھی بولنے کے لئے تیار نہی نتیجہ کے طور پر بجرنگ دل کے شدت پسند دن دناتے اور مسلم طبقہ کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ لگا تے ہوئے گھوم رہے ہیں!
واضع ہو کہ ہندو راشٹر کے حمایتیوں نے سب سے پہلے اترکاشی کے قصبہ پرولا میں ایک مسلم نواجون پر لوجہاد کا الزام لگا کر مسلمانوں کی دکان اور تجارتی مراکز پر حملے کئے اور پوری مسلم آبادی کو اتراکھنڈ خالی کر نے کے لئے ایک خاص سازش کے تحت وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے ذریعہ الٹی میٹم دیا گیا کہ جلد از جلد یہاں سے نکل جا ئیں اگر آپ نہی بھا گے تو سب کچھ مٹا دیا جائیگا انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ریاستی انتظامیہ اور حکومت بھی شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کر نے کے بجائے مسلمانوں پر ہی شکنجہ کس نے میں مصروف رہی پوری دنیا میں اس جابرانہ اور ظالمانہ حرکات کے ویڈیوز وائرل ہو جانے کے بعد سرکاری مشینری حرکت میں آگئی اور مسلم طبقہ کے مانگ پر اتر کاشی میں پولیس نے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو مہا پنچایت تو نہیں کر نے دی گئی مگر نفرت آمیز بیانات اور شرپسندی کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی گئی حالانکہ سپریم کورٹ اپنے حالیہ فیصلہ میں ریاستی حکومتوں کو یہ ہدایت دے چکا ہے کہ وہ نفرت آمیز بیانات اور شرپسندوں پر فوری ایف آئی آر درج کر کے مقدمہ قائم کریں تاہم اس ہدایت کے باوجود ریاستی حکومتیں ان معاملات میں ٹال مٹول کا رویہ اپنائے ہو ئے ہیں اس ضمن میں اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اتراکھنڈ کی حکومت سے مطالبہ کیا جا کہ وہ ریاست میں امن و امان کو قائم کرے، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے اور شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ ریاست کے ہر شخص کی جان و مال کی حفاظت کر نا ریاستی انتظامیہ اور حکومت کی ذمہ داری ہےبورڈ کے نزدیک یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی پی آئی ایل(PIL) پر فیصلہ دیتے ہو ئے اتراکھنڈ کے ہائی کورٹ نے بھی چھ روز قبل اپنے فیصلے میں کہا کہ ریاست میں امن و امان اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
کورٹ نے ریاست کے شہریوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا پر کو ئی غیر ذمہ دارانہ پوسٹ نہ ڈالیں اور نہ ہی سوشل میڈیا ڈبیٹس میں کوئی ایسی بات کہیں جس سے ریاست کا ماحول متأثر ہو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ریاست کے تمام پر امن شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو باقی رکھنے کے لئے میدان میں آئیں حکومت اور انتظامیہ پر دبائو ڈالیں کہ وہ ہر حال میں امن و سلامتی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جاۓ!
