پریس ریلیز ( لکشمی پور، مہراج گنج): گورکھپور کمشنری کے مشہور ومقبول عالم ،نامور خطیب ، مولانا حکیم محمد جنید عالم ندوی کا انتقال پوری ملت اسلامیہ کیلئے عموماً و شہر گورکھپور کے علمی حلقوں کے لئے خصوصاً ایک دل دوز سانحہ ہے، وہ ایک صاحب نسبت بزرگ و دارالعلوم ندوة العلماء لکھنو کے ممتاز فضلاء میں سے تھے، فراغت کے بعد آپ نے اپنے علمی، دعوتی اور اصلاحی محنتوں کے لئے شہر گورکھپور کو مرکز بنایا، وہیں رہ کر آپ نے پوری زندگی اسلامی علوم کی اشاعت ودعوتی کام کی ایسی تحریک چلائی کہ جس سے نہ صرف یہ کہ چھوٹے بڑے مدارس ومکاتب کو شہرت نصیب ہوئی بل کہ شہر گورکھپور میں آپ ہی کی جدوجہد سے متعدد دینی ، اصلاحی وتعلیمی اداروں کو عروج بھی نصیب ہوا، آج مولانا گوکہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں ، دنیائے فانی سے عالم جاودانی کی طرف منتقل ہوچکے ہیں، مگر وہ اپنے ملی ، دعوتی ، علمی، اصلاحی کارناموں بالخصوص مدرسہ باب العلوم نوتن ، میڈیکل کالج گورکھپور،انجمن تعلیمات گورکھپور ، مدرسہ خدیجة الکبریٰ ہزاری پورکے لئے اپنی 45 سالہ بے لوث خدمات کے نتیجے میں عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار دارالعلوم فیض محمدی کے سربراہ اعلیٰ حضر ت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے یہاں منعقدہ ایک تعزیتی نشست سے کیا۔

ادارہ کے مہتمم وجمعیة علماءمہراج گنج کے جنرل سکریٹری مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے اپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: علماءکسی بھی معاشرے کا حسن اور وقار ہوتے ہیں،علماءکا وجود معاشرے کے لئے اس اعتبار سے انتہائی ضروری ہے کہ عوا م ان سے شرعی ، دینی ، سماجی ودیگر معاملات میں رہنمائی حاصل کرتی ہے،اور لوگ ایسے اصحاب فضل وکمال کی تقریروں اور صحبتوں سے اپنے عقائد ، نظریات اور اعمال کی اصلاح کرتے ہیں انہی علماء میں سے مولاناحکیم محمد جنید عالم ندوی بھی تھے، جنہیں اللہ نے گونا گوں صلاحیتوں سے نوازا تھا، اپنے موثر خطاب واثر انگیز وعظ ونصیحت کے ذریعہ سماج میں بڑی مضبوط پکڑ اور زبردست مقبولیت انہیں حاصل تھی، آپ کا شمار شہر کے چیدہ وچنندہ علماء وصلحا ءمیں ہوتا تھا، یہی وجہ تھی کہ آپ شہر میں منعقد ہونے والے ہر طرح کے سیاسی وغیر سیاسی جلسوں میں رونق محفل بنائے جاتے، ان تمام اوصاف وکمالات کے علاوہ انتظامی صلاحیت بھی آپ کے اندرکچھ کم نہ تھی بایں وجہ 45 سال تک مدرسہ خدیجة الکبریٰ ہزاری پور اور پچھلے کئی دہائیوں سے مسلسل جمعیة علماء گورکھپور کے صدر رہے ۔

اس تعزیتی نشست میں تمام طلبہ کے علاوہ مفتی احسان الحق قاسمی، مفتی آصف انظار ندوی، ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مفتی محمد انتخاب ندوی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا شکراللہ قاسمی ، مولا محمد صابر نعمانی ، حافظ ذبیح اللہ، حافظ ناظم، حافظ محمد وسیم ، قاری عتیق الرحمان قاسمی، ، مولانا محمد یحیٰ ندوی، مولانا ظل الرحمان ندوی، ماسٹر محمد عمر خان ، ماسٹر جاوید احمد وغیرہ موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے