جامعۃ الفیصل تاج پور ضلع بجنورمیں ملت اکیڈمی کے زیر اہتمام عالمی مشاعرہ کا انعقاد

بجنور (پریس ریلیز): افتخارراغب جو ایک عالمی شہرت یافتہ شاعر ہیں ،چھ سے زیادہ ان کے مجموعہ کلام آچکے ہیں ۔ان کے قریب ترین دوست اور ادب نواز ڈاکٹر سراج الدین ندوی نے ان کے اعزاز میں ایک شام غزل جامعۃ الفیصل تاج پور ضلع بجنورمیںمنعقد کی ۔جس نے ایک عالمی مشاعرے کی شکل اختیار کرلی ۔اس میں مختلف مقامات سے تشریف لائے اکیس شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔بچوں کے مشہور طبیب ڈاکٹر کمال احمدنے صدارت فرمائی موصوف طب کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔نظامت ماہنامہ صلاح کاردہلی کے مدیر حامد علی اختر نے کی ۔اعجاز انصاری مہمان خصوصی اور معین شاداب مہمان اعزازی رہے۔ڈاکٹر سراج الدین ندوی چیر مین ملت اکیڈمی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ حضرات موسم کی شدت کے باوجود سفر کی تکالیف برداشت کرکے بہت شارٹ نوٹس پر یہاں تشریف لائے ،جس کے لیے میں آپ کا مشکوروممنون ہوں۔اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر کمال احمد نے کہا کہ مشاعرے ہماری تہذیب کی علامت ہیں ،انھیں باقی رکھنا چاہئے ،شعراء کرام اپنے خون جگر سے اشعار کہتے ہیں ،ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ۔ مشاعرے میں اعجاز انصاری ،معین شاداب ،جاوید صدیقی ، حامد علی اختر ،محمدمشفق ،عتیق ماہر ،طاہر سعود ،انور دھڑا دھڑ (مزاحیہ)،نفیس منظر ،ڈاکٹر نزاکت حسین ثاقب ،قاری راشد حمیدی ،نوشاد عالم شاد ، ارشاد احمد ارشاد ، اعجازاحمد ،ڈاکٹر محمد شاہ نواز ،فخرالدین فخر ،محمد یاسین ذکی ،شفیق گوہر وغیرہ نے اپنے کلام سے نوازا۔شدید گرمی کے باوجود سامعین سے پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا،آخیر تک سامعین موجود رہے۔ یہ مشاعرہ دس بجے سے شروع ہوکر رات دوبجے تک چلتا رہا۔چند اشعار نذر قارئین ہیں۔

پردیس میں رہ کر کوئی کیا پانو جمائے
گملے میں لگے پھول کی قسمت ہی الگ ہے
افتخار راغبؔ

ترا غم تری یاد تیرا تصور
یہی ہے مری زندگی کا فسانہ
حامد علی اختر

کوئی تذلیل کرتا ہے تو اس سے دکھ تو ہوتا ہے
مگر اک فائدہ بھی ہے تکبر ٹوٹ جاتا ہے
معین شاداب

فریب و مکر نہیں میرے خون میں شامل
یہی سبب ہے کہ لوگوں سے دوستی کم ہے
اعجاز انصاری

رقص کرنے لگے اجالے سب
کس کا نیزے پہ سر ہوا روشن
جاوید صدیقی

میں نے ان کی صرف اک تصویر کھینچی تھی کہ بس
تتلیاں ہی تتلیاں تھیں کیمرے کے آس پاس
طاہر سعود کرتپوری

بے گناہی نے بھی ہے جرم کا درجہ پایا
جرم ناکردہ کی منصف بھی سزا دیتا ہے
فخر چکراجملی

ڈگریاں اہل زمانہ کو مبارک اعجاز
ہم تو خوددار ہیں ہاتھوں میں ہنر رکھتے ہیں
اعجاز دھام پوری

راہ حق میں دیوار فولاد ہوں
تم میں طاقت اگر ہے گرادو مجھے
ڈاکٹرنوازبجنوری

غربت میں رہ کے یہ بھی پتاچل گیا مجھے
ہمدردکون ہے مرا غمخوارکون ہے
نوشادعالم شاددھام پوری

جوش جنوں ہے فصل بہاراں کوکیاکریں
ہم مضطرب ہیں جشن چراغاں کوکیاکریں
قاری راشد حمیدی دھام پوری

مذکورہ اطلاع میڈیا انچارج محمد دانش نے فراہم کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے