یارانِ ادب بھالکی کے ’’یومِ اردو‘‘ تقریب سے عظیم الدین، ملیکارجن ہلمنڈگے اور آصف علی کا خطاب
بیدر۔ 9؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): صدر یارانِ ادب بھالکی جناب محمد عظیم الدین نے اپنے خطاب میں کہاکہ پیاری اور مصری جیسی اردو زبان سارے عالم کی زبان ہے۔ انھوں نے اردو کی تاریخ سے متعلق بتایاکہ علاء الدین خلجی کے وقت سے اردوزبان بولی جاتی ہے۔ یہ برج بھاشا، بھوجپوری ، پنجابی اور سنسکرت کے الفاظ کے ساتھ پھلی پھولی۔محمد بن تغلق جب دہلی سے اورنگ آباد آئے تب یہ دکن میں آئی ۔ تغلق کاراج اسی زبان میں مبینہ طورپر ہوتاتھا۔کئی دیگر زبانوں کا اردو زبان میں ترجمہ ہوا۔ منشی کنہیالال نے مہابھارت کو اردو زبان میں لکھااور اور گرسا دتاسی نے 3؍ڈسمبر 1866ء کو رامائن کا ترجمہ اردو میں کیا۔ اورنگ آباد کے ولیؔ دکنی نے وید کا ترجمہ اردو زبان میںکیا۔ فراق ؔ گورکھپوری اور منشی پریم چند اردو کے شاعراور افسانہ نویس وناول نگار ہیں۔اردو دراصل ترکی زبان کالفظ ہے۔ ہندواور مسلمان کی آپسی بول چال اور ملاقاتوں کے سبب اردو زبان پید اہوئی۔ اور یہ زبان انگریزوں سے آزادی کی لڑائی میں بڑااہم رول اداکیا۔ اردو کے اخبار انگریزوں کی ناک میں دم کرتے ہوئے عوامی بیداری میں لگے ہوئے تھے۔ جناب صدر نے بیدر کے حوالے سے بتایاکہ 1421-1435کے درمیان میں اردو زبان کی پہلی مثنوی ’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ کے عنوان سے فخرِ دین نظامی نے بیدرمیں لکھی۔ موصوف نے جین سکھ اور کرسچین کے حوالے سے کہاکہ انھوں نے اردو میں کتابیں لکھیں۔جناب عظیم الدین نے زور دے کرکہاکہ لوگ کہتے ہیں کنڑا زبان ختم ہوجائے گی، اردو زبان ختم ہوجائے گی، ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اس شعر پر موصوف نے اپنی بات ختم کی ؎
دیکھیں کبھی زمیں پہ آکے، آسماں کے لوگ
جیتے ہیں کس طرح سے ہمارے یہاں کے لوگ
جو آشنائے اردو نہیں، ان کا ذکر کیا
خود دشمنانِ اردو ہیں، اردو زباں کے لوگ
مہمان خصوصی جناب ملیکارجن ہلمنڈگے مؤظف ECOنے اپنے خطاب میں کہاکہ زبانیں سبھی اچھی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی زبان بری نہیں ہوتی۔ انھیں برا کہنے والے برے ہوتے ہیں ۔ کوئی بھی زبان ، دوسری زبان سے نفرت کرنے کے لئے نہیں کہتی ۔ بلکہ ہم انسانوں نے زبانوں کو مذہب کے دائرے میں بانٹ دیاہے۔ یہ میری وہ تیری زبان کہہ کر زبان کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ میں جب بھی کسی مسلمان بھائی سے ملتاہوں تو نمستے نہ کہہ کر السلام علیکم کہتاہوں ۔ پیار اوربھائی چارہ اس دیش کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہمیں اسے سنبھال کررکھنا چاہیے۔ انھوں نے اردو کے پروگرام میں مدعو کرنے پریارانِ ادب بھالکی یونٹ کا شکریہ اداکیا۔ تقریب کا آغاز قرأت کلام پاک سے ہوا۔ حمد اور نعت بالترتیب طالبات زینب اور علیزا نے پیش کئے۔ تقریب کے مہمان خصوصی ملیکارجن ہلمنڈگے مؤظف ECOاور صدر نرملا کالج بھالکی تھے جبکہ اعزازی مہمان کی حیثیت سے رفیق بھائی انعامدار صدر MIM ایجوکیشنل اینڈ چیریٹٰبل ٹرسٹ اور صدر SDMC سرکاری UPSبھالکی شریک رہے۔ تقریب کی صدارت جناب شیخ عظیم الدین صدر یارانِ ادب بھالکی نے کی۔ جناب آصف علی نے عمدہ نظامت کی۔ علامہ اقبال کے یومِ پیدائش پر منائے جارہے ’’یومِ اردو‘‘ پر انھوں نے علامہ اقبال ہی کے اشعار پیش کئے۔ اور یہ اہم بات بتائی کہ انسانوں کو سبھی زبانوں کاعلم ہونا چاہیے۔ تقریب میں تشریف لائے مہمان کو مٹھائی دے کر استقبال کیاگیا۔ جناب آصف علی میرمعلم شاہین ہائی اسکول بھالکی کے شکریہ پر’’یومِ اردو‘‘ تقریب اختتام کو پہنچی۔ مذکورہ افراد کے علاوہ شیخ احمد، عبدالستار، اظہرالدین، ابوبکر اڈمنسٹریٹر آدتیہ کالج بھالکی، جناب عرفان ، محترمہ ناظرہ بیگم میرمعلمہ سرکاری اردو ہائیرپرائمری اسکول بھالکی، شیخ اویس کے علاوہ طلبہ وطالبات موجودتھے۔
